وَعَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَوْمَ الْجَابِيَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ، وَإِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ عَزْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَإِنِّي أَمَرْتُهُ أَنْ يَحْبِسَ هَذَا الْمَالَ عَلَى ضَعَفَةِ الْمُهَاجِرِينَ، فَأَعْطَاهُ ذَا الْبَأْسِ، وَذَا الشَّرَفِ، وَذَا اللِّسَانِ ; فَعَزَلْتُهُ وَوَلَّيْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجِرَّاحِ. قَالَ أَبُو عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ: وَاللَّهِ مَا أَعْذَرْتَ يَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ ; لَقَدْ نَزَعْتَ عَامِلًا اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَمَدْتَ سَيْفًا سَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعْتَ لِوَاءً نَصَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَقَدْ قَطَعْتَ الرَّحِمَ، وَحَسَدْتَ ابْنَ الْعَمِّ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّكَ قَرِيبُ الْقَرَابَةِ، حَدِيثُ السِّنِّ، مُعَصَّبٌ فِي ابْنِ عَمِّكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Nashirah ibn Sumayy al-Yazani reported that he heard ʿUmar ibn al-Khaṭṭab رضي الله عنه on the day of al-Jabiyah addressing, and he said, I apologize to you for removing Khalid ibn al-Walid, for I ordered him to withhold this wealth for the weak among the Emigrants, yet he gave it to the mighty, the noble, and the eloquent. So I removed him and appointed Abu ʿUbaydah ibn al-Jarraḥ. Abu ʿAmr ibn Ḥafṣ ibn al-Mughirah said, By Allah, you have not excused yourself, O ʿUmar ibn al-Khaṭṭab; you removed a governor the Messenger of Allah ﷺ employed, sheathed a sword the Messenger of Allah ﷺ unsheathed, lowered a banner the Messenger of Allah ﷺ raised, severed kinship, and envied your cousin. ʿUmar ibn al-Khaṭṭab said, You are near of kin, young in age, biased toward your cousin.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ناشرہ بن سمی یزنی بیان کرتے ہیں : میں نے ’’ جابیہ ‘‘ کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ، یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : خالد بن ولید کو معزول کرنے کے حوالے سے ، میں تمہارے سامنے عذر بیان کرنا چاہتا ہوں ، میں نے اسے یہ ہدایت کی تھی کہ وہ یہ مال کمزور مہاجرین کے لئے سنبھال کے رکھے ، اور اس نے یہ مال طاقتور لوگوں ، مشرف والے لوگوں اور عمدہ کلام کرنے والے لوگوں کو دے دیا ، تو میں نے اسے معزول کر دیا اور ابوعبیدہ بن جراح کو والی مقرر کر دیا ۔ اس پر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے کہا : اے عمر بن خطاب ! اللہ کی قسم ! یہ کوئی عذر نہیں ہے ، آپ نے ایک ایسے عامل کو اس کے عہدے سے الگ کیا ہے جسے اللہ کے رسول ﷺ نے عامل مقرر کیا تھا ، اور آپ نے ایک ایسی تلوار کو میان میں ڈال دیا ہے ، جسے اللہ کے رسول ﷺ نے میان میں سے نکالا تھا ، اور آپ نے ایک ایسے جھنڈے کو نیچے کر دیا ہے ، جسے اللہ کے رسول ﷺ نے نصب کیا تھا ، آپ نے رشتے داری کے حقوق کو پامال کیا ہے اور اپنے چچازاد سے حسد کیا ہے ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری اس کے ساتھ رشتہ داری ہے ، تمہاری عمر بھی کم ہے اور تم اپنے چچازاد کی طرف داری کر رہے ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔