Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 39 · Chapter 40

Book of Virtues and Merits

Hadith 15849–15888

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

15849

Majma al-Zawaid #15849

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ - يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ -: ادْعُوَا لِي زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَاتِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Muṣʿab ibn Saʿd reported that ʿUthman, meaning Ibn ʿAffan رضي الله عنه, said, Call to me Zayd ibn Thabit, the scribe of the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے پاس حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلا کر لاؤ ، جو نبی اکرم ﷺ کے کاتب ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسماعیل بن عبد بن ابوکریمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15850

Majma al-Zawaid #15850

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ عُثْمَانُ: أَيُّ النَّاسِ أَكْتَبُ؟ قَالُوا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muṣʿab ibn Saʿd reported that ʿUthman said, Which people are most skilled in writing. They said, Zayd ibn Thabit.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون شخص زیادہ اچھا لکھتا ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا : حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15851

Majma al-Zawaid #15851

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَبَّرَ عَلَى أُمِّهِ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَى بِدَابَّتِهِ فَأَخَذَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالرِّكَابِ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: دَعْهُ أَوْ ذَرْهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَكَذَا نَفْعَلُ بِالْعُلَمَاءِ الْكُبَرَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رُزَيْنٍ الرُّمَّانِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Shaʿbi reported that Zayd ibn Thabit magnified Allah four times over his mother, then his mount was brought and Ibn ʿAbbas held the stirrup for him. Zayd said to him, Leave it. Ibn ʿAbbas said, Thus we do with great scholars.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی تھیں ، پھر ان کی سواری لائی گئی ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُن کی رکاب پکڑ لی ، تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ اسے چھوڑ دیں ، تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : ہم اپنے اکابر علماء کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف رزین رمانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15852

Majma al-Zawaid #15852

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ حِينَ مَاتَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: الْيَوْمَ مَاتَ حَبْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَجْعَلَ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْهُ خَلَفًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي ذَهَابِ الْعِلْمِ كَلَامٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ حِينَ مَاتَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Saʿid reported that Abu Hurayrah said when Zayd ibn Thabit died, Today the learned man of this nation has died, and may Allah place in Ibn ʿAbbas a successor from him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال پر یہ فرمایا : آج اس امت کا بڑا عالم فوت ہو گیا ، اور اللہ تعالیٰ اُن کا جانشین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بنائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ یحیی بن سعید انصاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے علم کی رخصتی کے بارے میں ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا کلام گزر چکا ہے ، جو انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے انتقال پر ارشاد فرمایا تھا ۔

15853

Majma al-Zawaid #15853

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ سَنَةَ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، وَسِنُّهُ سِتٌّ وَخَمْسُونَ ; وَمِنَ النَّاسِ يَقُولُ: مَاتَ سَنَةَ ثَمَانٍ وَأَرْبَعِينَ وَسَنَةَ تِسْعٍ وَخَمْسِينَ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجَازَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، وَالْخَنْدَقُ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي وَفَاتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reported that Zayd ibn Thabit died in the year forty-five at fifty-six years of age. Some people say he died in the year forty-eight and the year fifty-nine, for the Messenger of Allah ﷺ permitted him on the day of the Trench while he was fifteen years old, and the Trench was in Shawwal in the year four, and his death is disputed.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا انتقال 45 ہجری میں 56 سال کی عمر میں ہوا تھا ، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے : کہ ان کا انتقال 48 ہجری میں 59 سال کی عمر میں ہوا تھا کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں غزوہ خندق کے موقع پر جب اجازت دی تھی ، اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی اور غزوہ خندق ، شوال کے مہینے میں چار ہجری میں ہوا تھا ، حضرت زید رضی اللہ عنہ کے سن وفات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

15854

Majma al-Zawaid #15854

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَتْ مَنْزِلَةُ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْزِلَةَ صَاحِبِ الشُّرْطَةِ مِنَ الْأَمِيرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the station of Qays ibn Saʿd with the Messenger of Allah ﷺ was the station of the chief of police with the commander.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ وہی نسبت تھی ، جو کوتوال کو گورنر سے ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15855

Majma al-Zawaid #15855

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ، كَانَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ فِي مُقَدِّمَتِهِ بَيْنَ يَدَيْهِ بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرْطَةِ، فَكُلِّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَيْسٍ أَنْ يَصْرِفَهُ عَنِ الْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَهُ بِهِ ; مَخَافَةَ أَنْ يَتَقَدَّمَ عَلَى شَيْءٍ، فَصَرَفَهُ عَنْ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that when the Prophet ﷺ came to Makkah, Qays ibn Saʿd was in his vanguard before him in the station of the chief of police. The Prophet ﷺ was spoken to concerning Qays, to remove him from the position he placed him in, fearing he might advance upon something, so he removed him from that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مکہ تشریف لائے ، تو حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے آگے ہر اول دستے میں یوں تھے جس طرح کوتوال ہوتا ہے ، نبی اکرم ﷺ کو حضرت قیس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ جس جگہ پر ہیں اُنہیں ہٹا دیا جائے ، اس اندیشے کے تحت کہ وہ کہیں آگے نہ بڑھ جائیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس مقام سے ہٹا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15856

Majma al-Zawaid #15856

عَنِ امْرَأَةِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ: «أَنَّ رَافِعًا رُمِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ أَوْ يَوْمَ خَيْبَرَ - شَكَّ عَمْرٌو - بِسَهْمٍ فِي ثَنْدُوَتِهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْزِعِ السَّهْمَ، فَقَالَ: "" يَا رَافِعُ، إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَالْقُطْبَةَ جَمِيعًا، وَإِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَتَرَكْتُ الْقُطْبَةَ وَشَهِدَتُ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّكَ شَهِيدٌ "". قَالَ: فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّهْمَ وَتَرَكَ الْقُطْبَةَ، فَعَاشَ بِهَا حَتَّى كَانَ فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، فَانْتَفَضَ بِهِ الْجُرْحُ فَمَاتَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَأُتِيَ ابْنُ عُمَرَ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَاتَ رَافِعٌ، فَتَرَحَّمَ عَلَيْهِ وَقَالَ: إِنَّ مِثْلَ رَافِعٍ لَا يُخْرَجُ بِهِ حَتَّى يُؤَذَّنَ مِنْ حَوْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى، فَلَمَّا خَرَجْنَا بِجِنَازَتِهِ نُصَلِّي عَلَيْهِ جَاءَ ابْنُ عُمَرَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى رَأْسِ الْقَبْرِ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَامْرَأَةُ رَافِعٍ إِنْ كَانَتْ صَحَابِيَّةً وَإِلَّا فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

The wife of Rafiʿ ibn Khadij reported that Rafiʿ was struck with the Messenger of Allah ﷺ on the day of Uḥud or the day of Khaybar, ʿAmr doubted, by an arrow in his breast. He came to the Prophet ﷺ and said, O Messenger of Allah, remove the arrow. He said, O Rafiʿ, if you wish I shall remove the arrow and its head together, and if you wish I shall remove the arrow and leave the head, and I shall testify for you on the Day of Resurrection that you are a martyr. He said: The Messenger of Allah ﷺ removed the arrow and left the head. He lived with it until during the caliphate of Muʿawiyah the wound erupted and he died after ʿaṣr. Ibn ʿUmar was approached and told, O Abu ʿAbd al-Raḥman, Rafiʿ has died. He invoked mercy upon him and said, The like of Rafiʿ is not taken out until those around Madinah among the villagers are notified. When we went out with his funeral to pray over him, Ibn ʿUmar came until he sat at the head of the grave. Then he mentioned the ḥadith. > **"O Rafiʿ, if you wish I shall remove the arrow and its head together, and if you wish I shall remove the arrow and leave the head, and I shall testify for you on the Day of Resurrection that you are a martyr"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں : غزوہ احد ( عمرو نامی راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) غزوہ خیبر کے موقع پر جنگ میں حصہ لیتے ہوئے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو ایک تیر سینے میں لگ گیا ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ یہ تیر نکال دیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تیر نکال دیتا ہوں ، اور اس کا پھل بھی نکال دیتا ہوں ، لیکن اگر تم چاہو تو میں تیر نکال دیتا ہوں اور پھل اندر رہنے دیتا ہوں اور قیامت کے دن میں تمہارے حق میں یہ گواہی دوں گا کہ تم شہید ہو ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے تیر نکال دیا اور پھل اندر رہنے دیا ، تو اس پھل سمیت حضرت رافع رضی اللہ عنہ زندہ رہے یہاں تک کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ، حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے اس زخم سے خون بہنا شروع ہوا ، تو عصر کے بعد ان کا انتقال ہو گیا ۔ کوئی شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں یہ بتایا : اے ابوعبدالرحمن ! حضرت رافع رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اُن کے لئے رحمت کے کلمات کہے ، اور یہ کہا : حضرت رافع رضی اللہ عنہ جیسے فرد کا جنازہ اُس وقت تک نہیں نکلنا چاہیے ، جب تک مدینہ منورہ کی نواحی بستیوں میں اعلان نہیں کر دیا جاتا ، راوی کہتے ہیں : جب ہم اُن کا جنازہ لے کر نکلے ، تاکہ ہم ان کی نماز جنازہ ادا کریں ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تشریف لے آئے ، یہاں تک کہ وہ اس کی قبر کے سرہانے بیٹھ گئے ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، حضرت رافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اگر تو صحابیہ ہیں ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ میں اُس خاتون سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15857

Majma al-Zawaid #15857

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ بِالْمَدِينَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reported that Rafiʿ ibn Khadij died in the year seventy-three at Madinah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا انتقال 73 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15858

Majma al-Zawaid #15858

وَعَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ: وَفِيهَا مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فِي أَوَّلِ السَّنَةِ، وَحَضَرَ ابْنُ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - جِنَازَتَهُ - يَعْنِي سَنَةَ ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ -. وَكَانَ لِرَافِعٍ يَوْمَ مَاتَ سِتٌّ وَثَمَانُونَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Al-Waqidi reported that therein Rafiʿ ibn Khadij died at the beginning of the year, and Ibn ʿUmar, may Allah have mercy on him, attended his funeral, meaning the year seventy-three. Rafiʿ was eighty-six years old the day he died.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

واقدی بیان کرتے ہیں : اسی سال میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا انتقال سال کے آغاز میں ہو گیا تھا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اُن کے جنازے میں شریک ہوئے تھے ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد 73 ہجری ہے ، جس وقت حضرت رافع رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، اس وقت اُن کی عمر 86 برس تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15859

Majma al-Zawaid #15859

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فِي سَنَةِ أَرْبَعٍ وَسَبْعِينَ فِي أَوَّلِهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn ʿAbdullah ibn Numayr reported that Rafiʿ ibn Khadij died in the year seventy-four at its beginning.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن عبدالله بن نمیر بیان کرتے ہیں : حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا انتقال 74 ہجری کے آغاز میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15860

Majma al-Zawaid #15860

عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَصُرَ بِي وَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي بِهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَرَ بْنِ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Maymun ibn Mihran reported that he heard Ibn ʿUmar say, I saw us at Fajj al-Rawḥaʾ in a raid the Messenger of Allah ﷺ raided; he saw me and supplicated for me with supplications for which the world and what is therein would not delight me in exchange.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

میمون بن مہران بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : مجھے یہ بات یاد ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک غزوہ میں حصہ لیا ، اُس غزوے کے دوران ہم لوگ ’’ فج روحاء ‘‘ کے مقام پر موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے ملاحظہ کیا ، تو مجھے دعائیں دیں ، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ ان دعاؤں کے عوض میں ، مجھے دنیا اور اس میں موجود سب کچھ مل جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمر بن عمرو بن میمون بن مہران ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

15861

Majma al-Zawaid #15861

وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «شَهِدَ ابْنُ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - الْفَتْحَ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ، وَمَعَهُ فَرَسٌ حَرُونٌ وَرُمْحٌ ثَقِيلٌ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ يَخْتَلِي لِفَرَسِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَجُلٌ صَالِحٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا أَرْسَلَهُ.

EnglishUnverified translation

Mujahid reported that Ibn ʿUmar, may Allah have mercy on him, witnessed the Conquest at twenty years of age, with an unruly horse and a heavy spear. Ibn ʿUmar went to cut fodder for his horse, and the Messenger of Allah ﷺ said, ʿAbdullah is a righteous man. > **"ʿAbdullah is a righteous man"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب غزوہ فتح مکہ میں شریک ہوئے تھے ، اُس وقت ان کی عمر بیس سال تھی اور ان کے ساتھ ایک گھوڑا تھا جو سرکش تھا اور ایک بھاری نیزہ تھا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو الگ لے گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عبداللہ ایک نیک آدمی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ مجاہد نے اسے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔

15862

Majma al-Zawaid #15862

وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطَّفَاوِيِّ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بَكَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْحَاقُ الطَّفَاوِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Isḥaq ibn ʿAbdullah al-Ṭafawi reported that Ibn ʿUmar would not mention the Messenger of Allah ﷺ but wept.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسحاق بن عبدالله طفاوی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی نبی اکرم ﷺ کا ذکر کرتے تھے تو رو پڑتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اسحاق طفاوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

15863

Majma al-Zawaid #15863

وَعَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَانَ يُحْيِي اللَّيْلَ صَلَاةً، ثُمَّ يَقُولُ: يَا نَافِعُ، أَسَحَرْنَا؟ فَيَقُولُ: لَا، فَيُعَاوِدُ الصَّلَاةَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا نَافِعُ، أَسَحَرْنَا؟ فَأَقُولُ: نَعَمْ، فَيَقْعُدُ فَيَسْتَغْفِرُ وَيَدْعُو حَتَّى يُصْبِحَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَسَدِ بْنِ مُوسَى، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Nafiʿ reported from Ibn ʿUmar رضي الله عنهما that he would enliven the night with prayer, then say, O Nafiʿ, has dawn come. He would say, No, so he would resume prayer, then say, O Nafiʿ, has dawn come. I would say, Yes, so he would sit seeking forgiveness and supplicating until morning.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : وہ رات کے وقت نوافل پڑھتے تھے ، پھر یہ دریافت کرتے تھے : اے نافع ! کیا سحری کا وقت قریب ہو گیا ہے ؟ وہ جواب دیتے تھے ، جی نہیں ! تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ پھر نماز پڑھنے لگ جاتے تھے ، پھر دریافت کرتے تھے : اے نافع ! کیا سحری کا وقت قریب آ گیا ہے ؟ میں جواب دیتا تھا : جی ہاں ! تو وہ بیٹھ کر دعائے استغفار پڑھتے رہتے تھے اور دعا کرتے رہتے تھے ، یہاں تک کہ صبح صادق ہو جاتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15864

Majma al-Zawaid #15864

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنْ كَانَ ابْنُ عُمَرَ لِيَقْسِمُ فِي الْمَجْلِسِ ثَلَاثِينَ أَلْفًا، ثُمَّ يَأْتِي عَلَيْهِ شَهْرٌ مَا يَأْكُلُ فِيهِ مُزْعَةَ لَحْمٍ. قَالَ بُرْدٌ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: هَلْ كَانَ يَأْكُلُ اللَّحْمَ؟ قَالَ: كَانَ إِذَا صَامَ أَوْ سَافَرَ فَإِنَّهُ أَكْثَرُ طَعَامِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Nafiʿ reported that Ibn ʿUmar would distribute thirty thousand in a gathering, then a month would pass over him wherein he ate no morsel of meat. Burd said: I said to Nafiʿ, Did he eat meat. He said, When he fasted or traveled, for that was his most frequent food.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک محفل میں تیس ہزار کی رقم تقسیم کر دی اور پھر ایک مہینہ ان پر ایسا گزرا کہ انہیں اس دوران گوشت کا ایک ٹکڑا بھی کھانے کے لئے نہیں ملا ۔ برد نامی راوی کہتے ہیں : میں نے نافع سے دریافت کیا : کیا وہ گوشت کھایا کرتے تھے ؟ نافع نے بتایا : جب انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہوتا تھا ، یا جب وہ سفر کر رہے ہوتے تھے ، تو وہ زیادہ تر گوشت ہی کھاتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف برد بن سنان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15865

Majma al-Zawaid #15865

وَعَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اشْتَكَى، فَاشْتُرِيَ لَهُ عُنْقُودُ عِنَبٍ بِدِرْهَمٍ، فَجَاءَ مِسْكِينٌ، فَقَالَ: أَعْطُوهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ خَالَفَ إِنْسَانٌ فَاشْتَرَاهُ بِدِرْهَمٍ، ثُمَّ جَاءَ بِهِ إِلَيْهِ، فَجَاءَ الْمِسْكِينُ يَسْأَلُ، فَقَالَ: أَعْطَوْهُ إِيَّاهُ، ثُمَّ خَالَفَ إِنْسَانٌ فَاشْتَرَاهُ مِنْهُ بِدِرْهَمٍ، فَأَرَادَ أَنْ يَرْجِعَ حَتَّى مُنِعَ، وَلَوْ عَلِمَ بِذَلِكَ الْعُنْقُودِ مَا ذَاقَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نُعَيْمِ بْنِ حَمَّادٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Nafiʿ reported that Ibn ʿUmar fell ill, and a bunch of grapes was bought for him for a dirham. A beggar came, and he said, Give it to him. Then a man went and bought it for a dirham, then brought it to him. The beggar came asking, and he said, Give it to him. Then a man went and bought it from him for a dirham. He wished to return until he was prevented, and had he known of that bunch he would not have tasted it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیمار ہو گئے ، نافع نے ان کے لئے ایک درہم کے عوض میں انگوروں کا گچھا خریدا ، ایک غریب آیا ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ اسے دے دو ، پھر ایک اور شخص گیا ، وہ ان کے لئے ایک درہم کے عوض میں انگور خرید کر لایا ، اسی دوران ایک مسکینہ آئی ، اس نے مانگا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ اسے دے دو ، پھر ایک اور انسان گیا اس نے ایک درہم کے عوض میں ان کے لئے انگور خریدے ، اس مسکین نے دوبارہ مانگنے کا ارادہ کیا تو اسے منع کر دیا گیا ، اگر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ چل جاتا ، تو انہوں نے ان انگوروں کو چکھنا بھی نہیں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعیم بن حماد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

15866

Majma al-Zawaid #15866

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: مَرَّ ابْنُ عُمَرَ بِرَاعِي غَنَمٍ، فَقَالَ: يَا رَاعِيَ الْغَنَمِ، هَلْ مِنْ جَزْرَةٍ؟ قَالَ الرَّاعِي: مَا لَيْسَ هَاهُنَا رَبُّهَا. قَالَ: تَقُولُ أَكَلَهَا الذِّئْبُ، فَرَفَعَ الرَّاعِي رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: فَأَيْنَ اللَّهُ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَأَنَا وَاللَّهِ أَحَقُّ أَنْ أَقُولَ: فَأَيْنَ اللَّهُ. فَاشْتَرَى ابْنُ عُمَرَ الرَّاعِيَ، وَاشْتَرَى الْغَنَمَ، فَأَعْتَقَهُ وَأَعْطَاهُ الْغَنَمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْحَاطِبِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Aslam reported that Ibn ʿUmar passed by a shepherd of sheep and said, O shepherd of sheep, is there a slaughter animal. The shepherd said, Its master is not here. He said, Say the wolf ate it. The shepherd raised his head to heaven then said, Then where is Allah. Ibn ʿUmar said, By Allah, I am more deserving to say, Then where is Allah. Ibn ʿUmar bought the shepherd and bought the sheep, then freed him and gave him the sheep.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر بکریوں کے ایک چرواہے کے پاس سے ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : اے بکریوں کے چرواہے ! کیا کوئی ایسی بکری ہے ، جس کو قربان کیا جا سکے ؟ تو چرواہے نے کہا : یہاں ان کا مالک نہیں ہے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم یہ کہہ دینا کہ بھیڑیا اسے کھا گیا تھا ، اس چرواہے نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا پھر دریافت کیا : اللہ تعالیٰ کہاں ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہوں کہ میں یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے ) پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اُس چرواہے کو خرید لیا ، اس کی بکریوں کو خرید لیا اور اس چرواہے کو آزاد کر کے وہ بکریاں اسے دیدیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن حارث حاطبی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

15867

Majma al-Zawaid #15867

وَعَنِ الْمُطْعَمِ بْنِ مِقْدَامٍ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ: كَتَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تَطْلُبُ، وَإِنَّ الْخِلَافَةَ لَا تَصْلُحُ لِعَيِيٍّ، وَلَا بَخِيلٍ، وَلَا غَيُورٍ. فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عُمَرَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ أَمْرِ الْخِلَافَةِ أَنِّي أَطْلُبُهَا، فَمَا طَلَبْتُهَا، وَمَا هِيَ مِنْ بَالِي. وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مَنْ أَمْرِ الْعَيِيِّ وَالْبُخْلِ وَالْغَيْرَةِ، فَإِنَّ مَنْ جَمَعَ كِتَابَ اللَّهِ فَلَيْسَ بِعَيِيٍّ، وَمَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَلَيْسَ بِبَخِيلٍ. وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْغَيْرَةِ، فَإِنَّ أَحَقَّ مَا غِرْتُ فِيهِ وَلَدِي أَنْ يُشْرِكَنِي فِيهِ غَيْرِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ؛ الْمُطْعَمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

Al-Muṭʿam ibn Miqdam al-Ṣanʿani reported that al-Ḥajjaj ibn Yusuf wrote to ʿAbdullah ibn ʿUmar that it reached him that he seeks, and rule suits neither the incapable, nor the miserly, nor the jealous. Ibn ʿUmar wrote to him: As for your mention of rule that I seek it, I neither sought it nor is it in my mind. As for your mention of incapability, miserliness, and jealousy, whoever has gathered Allah's Book is not incapable, and whoever pays his wealth's zakah is not miserly. As for your mention of jealousy, the most deserving thing I am jealous over is my child lest another share him with me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطعم بن مقدام صنعانی بیان کرتے ہیں : حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خط لکھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ حکومت کے طلبگار ہیں ، حالانکہ خلافت کسی ایسے شخص کے لئے موزوں نہیں ہے ، جو کمزور ہو یا بخیل ہو ، یا زیادہ غصے والا ہو ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے خط میں لکھا : تم نے جہاں تک خلافت کے معاملے کا ذکر کیا ہے کہ میں اس کا طلبگار ہوں تو میں اس کا طلبگار نہیں ہوں ، اور نہ ہی یہ میرا کام ہے ، اور جہاں تک تم نے یہ بات ذکر کی ہے کہ کمزوری ہے ، کنجوسی ہے ، اور مزاج کی تیزی ہے ، تو جس شخص نے اللہ کی کتاب کو جمع کیا ہو ( یعنی حفظ کیا ہو ) وہ کمزور نہیں ہوتا ، جس شخص نے اپنے مال کی زکوۃ ادا کی ہوئی ہو ، وہ بخیل نہیں ہوتا اور جہاں تک مزاج کی تیزی کا تم نے ذکر کیا ہے ، تو جس چیز کے بارے میں ، میں مزاج کی تیزی دکھاؤں گا ، اس میں سب سے زیادہ حق دار میری اولاد ہے کہ کوئی اس میں میرا شریک ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ یہ روایت مطعم نامی راوی کی نقل کردہ مرسل روایت ہے کیونکہ اس نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ۔

15868

Majma al-Zawaid #15868

وَعَنْ مَالِكٍ قَالَ: أَقَامَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتِّينَ سَنَةً تَفِدُ عَلَيْهِ وُفُودُ النَّاسِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

Malik reported that Ibn ʿUmar lived sixty years after the Prophet ﷺ with delegations of people coming to him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ساٹھ سال زندہ رہے تھے ، اس دوران لوگوں کے وفود ان کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔

15869

Majma al-Zawaid #15869

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَابْنُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: يَمْنَعُنِي مِنْهُ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - حَرَّمَ عَلَيَّ دَمَ أَخِي الْمُسْلِمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الْحَارِثِ أَبُو الْأَشْهَبِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Nafiʿ reported that a man came to Ibn ʿUmar and said, What prevents you from this affair when you are the Companion of the Messenger of Allah ﷺ and the son of the Commander of the Believers. He said, What prevents me from it is that Allah Almighty forbade to me the blood of my Muslim brother.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور بولا : آپ حکومت کے معاملے میں کیوں دلچسپی نہیں لیتے ؟ جبکہ آپ اللہ کے رسول ﷺ کے صحابی بھی ہیں اور امیر المومنین کے صاحبزادے بھی ہیں ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا ، اس چیز سے مجھے یہ بات روکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے مسلمان بھائی کے خون کو مجھ پر حرام قرار دیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن حارث ابواشہب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

15870

Majma al-Zawaid #15870

وَعَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ وَهُوَ يَمْشِي إِذْ مَرَّ بِهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَعَهُ رُمْحٌ، فَوَضَعَ زُجَّ الرُّمْحِ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْإِبْهَامِ مِنْ قَدَمِ ابْنِ عُمَرَ، فَحَمَلَ الشَّيْخُ، فَأَدْخَلَ فَوَرِمَتْ سَاقُهُ، فَأَتَاهُ الْحَجَّاجُ يَعُودُهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَنْ أَصَابَكَ بِهَذَا حَتَّى آخُذَ لَكَ مِنْهُ؟ قَالَ: اللَّهُ، لَيَأْخُذَنَّ مِنْهُ اللَّهُ، لَيَأْخُذَنَّ مِنْهُ. قَالَ: مَا بَالُ حَرَمِ اللَّهِ وَأَمْنِهِ يُحْمَلُ فِيهِ السِّلَاحُ؟!! قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ هَذَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Makḥul reported that while he was with Ibn ʿUmar walking, a black man with a spear passed by him and placed the spear's butt between the forefinger and thumb of Ibn ʿUmar's foot. The old man was carried in and his leg swelled. Al-Ḥajjaj came visiting him and said, O Abu ʿAbd al-Raḥman, who struck you with this that I may take for you from him. He said, Allah; Allah shall take from him, Allah shall take from him. He said, How is it that arms are carried in Allah's sanctuary and security.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مکحول بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ وہ پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران ایک سیاہ فام ان کے پاس سے گزرا ، جس کے پاس نیزہ تھا ، اس نے اس کا نیچے والا دھاری دار حصہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آگے ان کے پاؤں کے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی کے درمیان رکھا ( اور انہیں زخمی کر دیا ) انہیں اُٹھا کر گھر لایا گیا ، ان کی پنڈلی ورم آلود ہو گئی ، حجاج ان کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آیا اور بولا : اے ابوعبدالرحمن ! آپ کو یہ تکلیف کس نے پہنچائی ہے ؟ میں اس سے آپ کا بدلہ لیتا ہوں ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے گا ، اللہ تعالیٰ اس سے بدلہ لے گا ، پھر انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے حرم اور اس کی مقرر کردہ امان والی جگہ کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہاں ہتھیار اُٹھائے جاتے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15871

Majma al-Zawaid #15871

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَيُكْنَى أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْحَجِّ، وَدُفِنَ بِالْمُحَصَّبِ. وَبَعْضُ النَّاسِ يَقُولُونَ: بِفَخٍّ، وَسِنُّهُ حِينَ أَجَازَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ فِي الْقِتَالِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، وَكَانَ الْخَنْدَقُ فِي شَوَّالٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ، فَسِنُّهُ يَوْمَ تُوُفِّيَ أَرْبَعٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Yaḥya ibn Bukayr reported that ʿAbdullah ibn ʿUmar, whose kunyah was Abu ʿAbd al-Raḥman, died at Makkah after the ḥajj and was buried at al-Muḥaṣṣab. Some people say at Fakhkh. His age when the Prophet ﷺ permitted him on the day of the Trench for combat was fifteen, and the Trench was in Shawwal in the year four, so his age the day he died was eighty-four years.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا انتقال حج کے بعد مکہ میں ہوا تھا ، ان کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی ، ان کے محصب کے مقام پر دفن کیا گیا ، بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے :’’ فخ ‘‘ کے مقام پر دفن کیا گیا ، جس وقت نبی اکرم ﷺ نے انہیں غزوہ خندق میں شرکت کی اجازت دی تھی ، اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی ، اور غزوہ خندق شوال کے مہینے میں چار ہجری میں ہوا تھا ، تو انتقال کے وقت ان کی عمر 84 برس ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15872

Majma al-Zawaid #15872

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: سِنُّ ابْنِ عُمَرَ يَوْمَ مَاتَ أَرْبَعٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn Anas reported that the age of Ibn ʿUmar the day he died was eighty-four years.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام مالک بن انس بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا انتقال 84 برس کی عمر میں ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15873

Majma al-Zawaid #15873

وَعَنِ الْوَاقِدِيِّ قَالَ: مَاتَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسَبْعِينَ، وَدُفِنَ بِفَخٍّ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعٍ وَثَمَانِينَ سَنَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Al-Waqidi reported that Ibn ʿUmar رضي الله عنهما died in the year seventy-four and was buried at Fakhkh at eighty-four years of age.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

واقدی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا انتقال 74 ہجری میں ہوا تھا انہیں ’’ فخ “ کے مقام پر دفن کیا گیا اس وقت ان کی عمر 84 برس تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

15874

Majma al-Zawaid #15874

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، يُكْنَى: أَبَا سُلَيْمَانَ، وَهُوَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومِ بْنِ يَقَظَةَ بْنِ مُرَّةَ بْنَ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبِ بْنِ فِهْرِ بْنِ مَالِكٍ، وَأُمُّهُ لُبَابَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ حَزَنِ بْنِ بُجَيْرِ بْنِ الْهُزَمِ بْنِ رُويَبْةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِلَالِ بْنِ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: سَيْفًا مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ṭabarani said: Khalid ibn al-Walid, his kunyah Abu Sulayman, and he is Khalid ibn al-Walid ibn al-Mughirah ibn ʿAbdullah ibn ʿUmar ibn Makhzum ibn Yaqaẓah ibn Murrah ibn Kaʿb ibn Luʾayy ibn Ghalib ibn Fihr ibn Malik. His mother was Lubabah bint al-Ḥarith ibn Ḥazan ibn Bujayr ibn al-Huzam ibn Ruwaybah ibn ʿAbdullah ibn Hilal ibn ʿAmir ibn Ṣaʿṣaʿah. The Messenger of Allah ﷺ named him a sword among Allah's swords.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی بیان کرتے ہیں : یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں ، ان کی کنیت ابوسلیمان ہے ، ان کا ( نام و نسب یہ ہے : ) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم بن يقظہ بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک ، ان کی والده لبابہ بنت حارث بن حزن بن بجیر بن ہزم بن رویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے انہیں ’’ اللہ کی تلوار ‘‘ کا نام ( یا لقب ) دیا تھا ۔

15875

Majma al-Zawaid #15875

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ: «أَنَّ أَبَا بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَقَدَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الرِّدَّةِ، وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو الْعَشِيرَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ سَلَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِينَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Waḥshi ibn Ḥarb رضي الله عنه reported that Abu Bakr رضي الله عنه appointed Khalid ibn al-Walid over fighting the apostates, saying, I heard the Messenger of Allah ﷺ say, An excellent servant of Allah and brother of the clan is Khalid ibn al-Walid, a sword among Allah's swords which Allah unsheathed against the disbelievers and hypocrites. > **"An excellent servant of Allah and brother of the clan is Khalid ibn al-Walid, a sword among Allah's swords which Allah unsheathed against the disbelievers and hypocrites"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مرتدین کے خلاف جنگ کرنے کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا اور یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ کا بہترین بندہ اور اپنے خاندان کا بہترین فرد خالد بن ولید ہے ، جو اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں اور منافقین کے خلاف میان سے نکالا ہوا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

15876

Majma al-Zawaid #15876

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: «اسْتَعْمَلَ عُمَرُ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى الشَّامِ، وَعَزَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ. قَالَ: فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: بُعِثَ عَلَيْكُمْ أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ "". فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ، وَنِعْمَ فَتَى الْعَشِيرَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَرٍ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا عُبَيْدَةَ وَلَا عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn ʿUmayr reported that ʿUmar employed Abu ʿUbaydah over al-Sham and removed Khalid ibn al-Walid. He said: Khalid ibn al-Walid said, There has been sent over you the trustee of this nation; I heard the Messenger of Allah ﷺ say, The trustee of this nation is Abu ʿUbaydah ibn al-Jarraḥ. Abu ʿUbaydah said, I heard the Messenger of Allah ﷺ say, Khalid is a sword among Allah's swords, and an excellent youth of the clan. > **"The trustee of this nation is Abu ʿUbaydah ibn al-Jarraḥ"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا تھا ، انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یہ کہا : تمہارا امیر اس فرد کو مقرر کیا گیا ہے ، جو اس امت کا امین ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس امت کا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے ۔‘‘ تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ خالد ، اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار اور اپنے خاندان کا بہترین فرد ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ عبدالملک بن عمیر نے نہ تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے اور نہ ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ۔

15877

Majma al-Zawaid #15877

وَعَنْ نَاشِرَةَ بْنِ سُمَيٍّ الْيَزَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَوْمَ الْجَابِيَةِ وَهُوَ يَخْطُبُ، وَإِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ عَزْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَإِنِّي أَمَرْتُهُ أَنْ يَحْبِسَ هَذَا الْمَالَ عَلَى ضَعَفَةِ الْمُهَاجِرِينَ، فَأَعْطَاهُ ذَا الْبَأْسِ، وَذَا الشَّرَفِ، وَذَا اللِّسَانِ ; فَعَزَلْتُهُ وَوَلَّيْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجِرَّاحِ. قَالَ أَبُو عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ: وَاللَّهِ مَا أَعْذَرْتَ يَا عُمَرُ بْنَ الْخَطَّابِ ; لَقَدْ نَزَعْتَ عَامِلًا اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَغَمَدْتَ سَيْفًا سَلَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعْتَ لِوَاءً نَصَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَقَدْ قَطَعْتَ الرَّحِمَ، وَحَسَدْتَ ابْنَ الْعَمِّ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّكَ قَرِيبُ الْقَرَابَةِ، حَدِيثُ السِّنِّ، مُعَصَّبٌ فِي ابْنِ عَمِّكَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Nashirah ibn Sumayy al-Yazani reported that he heard ʿUmar ibn al-Khaṭṭab رضي الله عنه on the day of al-Jabiyah addressing, and he said, I apologize to you for removing Khalid ibn al-Walid, for I ordered him to withhold this wealth for the weak among the Emigrants, yet he gave it to the mighty, the noble, and the eloquent. So I removed him and appointed Abu ʿUbaydah ibn al-Jarraḥ. Abu ʿAmr ibn Ḥafṣ ibn al-Mughirah said, By Allah, you have not excused yourself, O ʿUmar ibn al-Khaṭṭab; you removed a governor the Messenger of Allah ﷺ employed, sheathed a sword the Messenger of Allah ﷺ unsheathed, lowered a banner the Messenger of Allah ﷺ raised, severed kinship, and envied your cousin. ʿUmar ibn al-Khaṭṭab said, You are near of kin, young in age, biased toward your cousin.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ناشرہ بن سمی یزنی بیان کرتے ہیں : میں نے ’’ جابیہ ‘‘ کے دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ، یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : خالد بن ولید کو معزول کرنے کے حوالے سے ، میں تمہارے سامنے عذر بیان کرنا چاہتا ہوں ، میں نے اسے یہ ہدایت کی تھی کہ وہ یہ مال کمزور مہاجرین کے لئے سنبھال کے رکھے ، اور اس نے یہ مال طاقتور لوگوں ، مشرف والے لوگوں اور عمدہ کلام کرنے والے لوگوں کو دے دیا ، تو میں نے اسے معزول کر دیا اور ابوعبیدہ بن جراح کو والی مقرر کر دیا ۔ اس پر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ نے کہا : اے عمر بن خطاب ! اللہ کی قسم ! یہ کوئی عذر نہیں ہے ، آپ نے ایک ایسے عامل کو اس کے عہدے سے الگ کیا ہے جسے اللہ کے رسول ﷺ نے عامل مقرر کیا تھا ، اور آپ نے ایک ایسی تلوار کو میان میں ڈال دیا ہے ، جسے اللہ کے رسول ﷺ نے میان میں سے نکالا تھا ، اور آپ نے ایک ایسے جھنڈے کو نیچے کر دیا ہے ، جسے اللہ کے رسول ﷺ نے نصب کیا تھا ، آپ نے رشتے داری کے حقوق کو پامال کیا ہے اور اپنے چچازاد سے حسد کیا ہے ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری اس کے ساتھ رشتہ داری ہے ، تمہاری عمر بھی کم ہے اور تم اپنے چچازاد کی طرف داری کر رہے ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

15878

Majma al-Zawaid #15878

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «شَكَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا خَالِدُ، لَا تُؤْذِ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، فَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ "". فَقَالَ: يَقَعُونَ فِيَّ فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ! فَقَالَ: "" لَا تُؤْذُوا خَالِدًا ; فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Abi Awfa رضي الله عنه reported that ʿAbd al-Raḥman ibn ʿAwf complained of Khalid ibn al-Walid to the Messenger of Allah ﷺ, so the Prophet ﷺ said, O Khalid, do not harm a man among the people of Badr, for had you spent the like of Uḥud in gold you would not reach his deed. He said, They attack me so I answer them. He said, Do not harm Khalid, for he is a sword among Allah's swords which Allah poured upon the disbelievers. > **"O Khalid, do not harm a man among the people of Badr"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی شکایت کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے خالد ! تم ایسے شخص کو اذیت نہ پہنچاؤ ، جو غزوہ بدر میں شرکت کر چکا ہے ، اگر تم اُحد پہاڑ جتنا سونا خیرات کرو ، تو تم پھر بھی اس کے عمل تک نہیں پہنچ سکتے ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ لوگ مجھ پر تنقید کرتے ہیں ، تو میں انہیں جواب دیتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ خالد کو اذیت نہ پہنچاؤ ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کفار پر سونت کر رکھا ہوا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

15879

Majma al-Zawaid #15879

وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ: «أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا تَسُبُّوا خَالِدًا ; فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ سَلَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَلَمْ يُسَمِّ الصَّحَابِيَّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays, meaning Ibn Abi Ḥazim, reported that he was informed that the Prophet ﷺ said, Do not revile Khalid, for he is a sword among Allah's swords which Allah unsheathed against the disbelievers. > **"Do not revile Khalid, for he is a sword among Allah's swords which Allah unsheathed against the disbelievers"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ خالد کو برا نہ کہو ، کیونکہ وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار پر سونتا ہوا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے صحابی کا نام بیان نہیں کیا ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15880

Majma al-Zawaid #15880

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «نَعَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَهْلَ مُؤْتَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ: "" ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ announced the people of Muʾtah upon the minbar, saying, Then the banner was taken by a sword among Allah's swords. > **"Then the banner was taken by a sword among Allah's swords"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے منبر پر غزوہ موتہ میں شہید ہونے والوں کی شہادت کی اطلاع دی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے پکڑ لیا ......‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15881

Majma al-Zawaid #15881

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا نَعَى أَهْلَ مُؤْتَةَ قَالَ: "" ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَهُوَ إِمَامٌ ثَبْتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Jaʿfar رضي الله عنهما reported that when the Messenger of Allah ﷺ announced the people of Muʾtah he said, Then the banner was taken by a sword among Allah's swords, Khalid ibn al-Walid, and Allah granted victory upon him. > **"Then the banner was taken by a sword among Allah's swords, Khalid ibn al-Walid, and Allah granted victory upon him"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے جنگ موتہ میں شہید ہونے والوں کے بارے میں اطلاع دی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے لیا ، اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ پر فتح نصیب کی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن احمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ امام ، ثبت ہے ۔

15882

Majma al-Zawaid #15882

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ: «أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَقَدَ قُلُنْسُوَةً لَهُ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ، فَقَالَ: اطْلُبُوهَا، فَلَمْ يَجِدُوهَا، فَقَالَ: اطْلُبُوهَا، فَوَجَدُوهَا فَإِذَا هِيَ قُلُنْسُوَةٌ خَلَقَةٌ، فَقَالَ خَالِدٌ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَلَقَ رَأْسَهُ، فَابْتَدَرَ النَّاسُ جَوَانِبَ شَعَرِهِ فَسَبَقْتُهُمْ إِلَى نَاصِيَتِهِ، فَجَعَلْتُهَا فِي هَذِهِ الْقُلُنْسُوَةِ، فَلَمْ أَشْهَدْ قِتَالًا وَهِيَ مَعِي إِلَّا رُزِقْتُ النُّصْرَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَجَعْفَرٌ سَمِعَ مِنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ فَلَا أَدْرِي سَمِعَ مِنْ خَالِدٍ أَمْ لَا.

EnglishUnverified translation

Jaʿfar ibn ʿAbdullah ibn al-Ḥakam reported that Khalid ibn al-Walid lost a cap of his on the day of al-Yarmuk and said, Seek it. They did not find it, so he said, Seek it. They found it, and behold a worn cap. Khalid said, The Messenger of Allah ﷺ performed ʿumrah and shaved his head, and the people hastened to the sides of his hair, so I preceded them to his forelock and placed it in this cap. I never witnessed a battle with it with me but I was granted victory.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جعفر بن عبداللہ بن حکم بیان کرتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ٹوپی جنگ یرموک کے دن گم ہو گئی ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ اسے تلاش کرو ، لوگوں کو وہ نہیں ملی ، تو انہوں نے فرمایا : تم لوگ اسے تلاش کرو ، لوگوں نے تلاش کیا تو انہیں وہ مل گئی ، وہ ایک پرانی سی ٹوپی تھی ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب نبی اکرم ﷺ نے عمرہ کے موقع پر اپنا سر مونڈوایا تھا ، تو لوگ آپ کے اطراف کے بال لینے کے لئے لپکے تھے ، اور میں ان لوگوں سے سبقت لے گیا اور آپ کی پیشانی کے بال حاصل کر لیے اور وہ اس ٹوپی میں رکھ دیے ، تو میں جس بھی جنگ میں شریک ہوتا ہوں ، تو یہ ٹوپی میرے پاس ہو تو مجھے کامیابی نصیب ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، جعفر نامی راوی نے صحابہ کرام کی ایک جماعت سے سماع کیا ہے ، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم کہ اس نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہے یا نہیں کیا ہے ؟

15883

Majma al-Zawaid #15883

«وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: مَا عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِي وَبِخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَحَدًا مُنْذُ أَسْلَمْنَا فِي حَرْبِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn al-ʿAṣ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ placed none equal to him and Khalid ibn al-Walid since they accepted Islam in his war.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سے ہم نے اسلام قبول کر لیا ، تو جنگ کے معاملات میں ، نبی اکرم ﷺ نے کسی کو میرے اور خالد بن ولید کے برابر نہیں سمجھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

15884

Majma al-Zawaid #15884

وَعَنْ أَبِي السَّفَرِ قَالَ: نَزَلَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِيرَةَ عَلَى أَمِيرِ بَنِي الْمَرَازِبَةِ، فَقَالُوا لَهُ: احْذَرِ السُّمَّ، لَا تَسْقِيكَهُ الْأَعَاجِمُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ اقْتَحَمَهُ وَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ. فَلَمْ يَضُرَّهُ شَيْئًا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَهُوَ مُتَّصِلٌ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا السَّفَرِ وَأَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى لَمْ يَسْمَعَا مِنْ خَالِدٍ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Safar reported that Khalid ibn al-Walid alighted at al-Ḥirah upon the chief of Banu al-Marazibah, and they said to him, Beware poison; the non-Arabs may give you to drink. He said, Bring it to me. It was brought and he took it in his hand, then swallowed it saying, In the name of Allah. It did not harm him at all.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالسفر بیان کرتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حیرہ کے مقام پر بنومرازبہ کے امیر کے پاس گئے ، لوگوں نے ان سے کہا : آپ اس بات سے احتیاط کیجئے گا کہ کہیں عجمی لوگ آپ کو زہر نہ پلا دیں ، انہوں نے فرمایا : تم لوگ میرے پاس وہ لے کر آؤ ، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ میں اس پیالے کو پکڑا اور اسے پی لیا ، انہوں نے بسم اللہ پڑھی تھی ، تو انہیں کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور یہ روایت متصل ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوالسفر اور ابوبردہ بن ابوموسیٰ نامی راویوں نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

15885

Majma al-Zawaid #15885

وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ: قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: مَا لَيْلَةٌ تُهْدَى إِلَى بَيْتِي فِيهَا عَرُوسٌ، أَنَا لَهَا مُحِبٌّ وَأُبَشَّرُ فِيهَا بِغُلَامٍ بِأَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ لَيْلَةٍ شَدِيدَةِ الْجَلِيدِ فِي سِرِيَّةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ أُصَبِّحُ بِهَا الْعَدُوَّ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays, meaning Ibn Abi Ḥazim, reported that Khalid ibn al-Walid said, No night wherein a bride is led to my house, whom I love and wherein I am given tidings of a boy, is more beloved to me than a severely frosty night in a detachment among the Emigrants with which I attack the enemy at dawn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ جس رات میں ، میرے گھر میں دلہن لائی جائے ، جس عورت سے میں محبت کرتا ہوں ، اور پھر مجھے یہ بھی خوشخبری دی جائے کہ اس عورت سے میرے ہاں بیٹا ہو گا ، وہ رات میرے نزدیک اُس رات سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہو گی ، جو سخت رات ہو اور اس میں مہاجرین کی کوئی جنگی مہم ہو اور اگلے دن صبح دشمن پر حملہ کرنا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15886

Majma al-Zawaid #15886

وَعَنْ قَيْسٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ: قَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: لَقَدْ مَنَعَنِي كَثِيرًا مِنَ الْقِرَاءَةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays, meaning Ibn Abi Ḥazim, reported that Khalid ibn al-Walid said, Jihad in the path of Allah kept me much from recitation.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے نے مجھے زیادہ قرأت کرنے سے روکے رکھا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

15887

Majma al-Zawaid #15887

وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الْوَفَاةُ قَالَ: لَقَدْ طَلَبْتُ الْقَتْلَ فَلَمْ يُقَدَّرْ لِي إِلَّا أَنْ أَمُوتَ عَلَى فِرَاشِي، وَمَا مِنْ عَمَلِي أَرْجَى مِنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَا مُتَتَرِّسٌ بِهَا. ثُمَّ قَالَ: إِذَا أَنَا مُتُّ، فَانْظُرُوا سِلَاحِي وَفَرَسِي فَاجْعَلُوهُ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Waʾil reported that when death came to Khalid ibn al-Walid he said, I sought killing yet it was not decreed for me but to die upon my bed. No deed of mine is more hopeful than there is no deity but Allah, and I shield myself with it. Then he said, When I die, look to my arms and my horse and make them equipment in the path of Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل بیان کرتے ہیں : حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے فرمایا : میں نے شہید ہونے کی کوشش کی ، لیکن وہ مجھے نصیب نہیں ہوئی ، اب یہی ہے کہ میں اپنے بستر پر مر جاؤں گا اور میرے عمل میں کوئی ایسا عمل نہیں ہے ، جو لا الہ الا اللہ سے زیادہ قابل وثوق ہو ، میں نے اس کے ذریعے ڈھال بنائی ہوئی ہے ۔ پھر انہوں نے فرمایا : جب میں مر جاؤں گا ، تو تم میرے ہتھیار اور گھوڑے کو لے کر ، اسے اللہ کی راہ میں دیدینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

15888

Majma al-Zawaid #15888

وَعَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: دَخَلُوا عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ يَعُودُونَهُ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّهُ لَفِي السِّبَاقِ قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ أَسْتَعِينُ عَلَى ذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yunus ibn Abi Isḥaq reported that they entered upon Khalid ibn al-Walid visiting him, and one said, He is in the race. He said, Yes, by Allah, I seek aid upon that.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یونس بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں : لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے ان کے پاس آئے ، تو کسی نے کہا : یہ سبقت لے جانے والے لوگوں میں سے ایک ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں اس حوالے سے مدد چاہوں گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔