عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أَبِيهِ بُسْرٍ «: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى بَغْلَةٍ، كُنَّا نَدْعُوهَا حِمَارَةً شَامِيَّةً، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ، فَقَامَتْ أُمِّي فَوَضَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطِيفَةً عَلَى حَصِيرٍ فِي الْبَيْتِ، جَعَلَتْ تُوَثِّرُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا جَلَسَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَطَيَّبَ الْحَصِيرُ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ: فَقَدَّمَ لَهُمْ أَبِي بُسْرٌ تَمْرًا لِيَشْغَلُهُمْ بِهِ، وَأَمَرَ أُمِّي فَصَنَعَتْ لَهُمْ جَشِيشًا. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَكُنْتُ أَنَا الْخَادِمَ فِيمَا بَيْنَ أَبِي وَأُمِّي، وَكَانَ أَبِي الْقَائِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ، فَلَمَّا فَرَغَتْ أُمِّي مِنَ الْجَشِيشِ، جِئْتُ أَحْمِلُهُ حَتَّى وَضَعْتُهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَأَكَلُوا، ثُمَّ سَقَاهُمْ فَضِيخًا، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَقَى الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ أَخَذْتُ الْقَدَحَ حِينَ نَفِدَ مَا فِيهِ، فَمَلَأْتُ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَعْطِهِ الَّذِي انْتَهَى الْقَدَحُ إِلَيْهِ "". فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الطَّعَامِ دَعَا لَنَا، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي رِزْقِهِمْ "". فَمَا زِلْنَا نَتَعَرَّفُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - السِّعَةَ فِي الرِّزْقِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ نَفْسِهِ، وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ.
EnglishUnverified translation
Abdullah ibn Busr, from his father Busr, reported that the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah be upon him, came riding a Syrian mule called donkey, entered with Companions, his mother laid a velvet cloth on a mat perfuming it, his father offered dates, his mother cooked porridge, Abdullah served, they ate, then he gave them fadikh to drink. The Prophet drank, gave to his right, when the cup emptied Abdullah refilled and was told to give where the cup had reached. After food the Prophet prayed forgiveness, mercy and blessed provision for them, whose plenty they still knew. Part is in the Sahih from Abdullah himself, this from his father. > **"Give it to where the cup had reached. O Allah, forgive them, have mercy on them, and bless them in their provision."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبدالله بن بسر ‘ اپنے والد حضرت بسر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے آپ خچر پر سوار تھے ‘ ہم اسے شامی گدھا کہتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ‘ آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے میری والدہ اُٹھیں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے لئے ایک چٹائی بچھا دی ‘ جو گھر میں موجود تھی وہ اس چٹائی کو نبی اکرم ﷺ کے لئے سنبھال کے رکھتی تھیں ، نبی اکرم ﷺ اس پر تشریف فرما ہوتے ‘ تو اس چٹائی سے خوشبو آتی تھی ۔ حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد حضرت بسر رضی اللہ عنہ نے کھجوریں ان حضرات کے سامنے رکھیں ‘ تاکہ وہ ان کو کھانا شروع کریں اور انہوں نے میری والدہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان لوگوں کے جشیش تیار کر دیں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اپنی والدہ اور والد کے لئے خدمت کا کام میں ہی کیا کرتا تھا ‘ میرے والد نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے پاس کھڑے ہو گئے ‘ جب میری والدہ جشیش بنا کے فارغ ہوئیں ، تو میں اسے اٹھا کر لایا اور ان حضرات کے سامنے رکھ دیا ‘ ان حضرات نے اسے کھایا ‘ پھر میرے والد نے انہیں فضیخ ( نامی مشروب ) پلایا ‘ نبی اکرم ﷺ نے اسے پی لیا ‘ پھر اس شخص کو پینے کے لئے دیا جو آپ کے پاس موجود تھا ‘ جب اس میں موجود مشروب ختم ہو گیا ، تو میں نے وہ پیالہ پکڑ لیا ، پھر میں نے اسے دوبارہ بھرا پھر وہ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس شخص کو دو ‘ جس تک پیالہ پہنچا تھا ‘ جب نبی اکرم ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے ‘ تو آپ نے ہمیں دعا دیتے ہوئے یہ کہا : ” اے اللہ ! تو ان کی مغفرت کر دے ‘ ان پر رحم کر اور ان کے رزق میں ان کے لئے برکت رکھ دے “۔ تو اس کے بعد ‘ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ‘ مسلسل رزق میں گنجائش دیکھتے آ رہے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ ‘ حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ‘ اور یہ روایت اُن کے والد کے حوالے سے منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ‘ اس کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن یا صحیح ہوتی ہے ۔