وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ جَالِسًا، وَكَانُوا يَظُنُّونَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ فَأَقْصَرُوا عَنْهُ، حَتَّى جَاءَ أَبُو ذَرٍّ فَاقْتَحَمَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ الْيَوْمَ؟ "" قَالَ: لَا. قَالَ: "" قُمْ فَصَلِّ ""، فَلَمَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتِ الضُّحَى أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ "". قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ {شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا} [الأنعام: 112] "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟ "" قُلْتُ: بَلَى، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ. قَالَ: "" قُلْ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "". قُلْتُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. قَالَ: ثُمَّ سَكَتَ عَنِّي فَاسْتَبْطَأْتُ كَلَامَهُ. قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَعِبَادَةِ أَوْثَانٍ، فَبَعَثَكَ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، أَرَأَيْتَ الصَّلَاةَ مَا هِيَ؟ قَالَ: "" خَيْرٌ مَوْضُوعٌ، مَنْ شَاءَ اسْتَقَلَّ، وَمَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الصِّيَامَ مَاذَا هُوَ؟ قَالَ: "" فَرْضٌ مُجْزِئٌ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الصَّدَقَةَ مَا هِيَ؟ قَالَ: "" أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ، وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ، وَجُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ "". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: "" {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: 255] آيَةَ الْكُرْسِيِّ "". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مَنْ سُفِكَ دَمُهُ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ "" قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا "". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: "" آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ، خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ مِنْ رُوحِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: يَا آدَمُ، قَبِلًا "". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَمْ عَدَدُ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: "" مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ [أَلْفًا]، الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ: كَمْ عَدَدُ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: "" مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا "". وَمَدَارُهُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Abū Umāmah رضي الله عنه reported: The Prophet ﷺ was sitting in the mosque, and the people thought that revelation was descending upon him, so they held back from him. Then Abū Dharr arrived, stepped forward, and sat beside him. The Prophet ﷺ turned toward him and asked, "O Abū Dharr, have you prayed today?" He replied, "No." He ﷺ said: > **"Stand and pray."** When he had prayed four units of the forenoon (Ḍuḥā) prayer, the Prophet ﷺ turned toward him and said: > **"O Abū Dharr, seek refuge in Allah from the evil of the devils among jinn and mankind."** Abū Dharr asked, "O Prophet of Allah, are there devils among mankind?" He ﷺ replied: > **"Yes. *'Devils among mankind and jinn, inspiring one another with embellished speech in delusion'* [al-Anʿām: 112]."** Then he ﷺ said: > **"O Abū Dharr, shall I not teach you words from the treasure of Paradise?"** I said, "Yes indeed, may Allah make me your ransom!" He ﷺ said: > **"Say: 'There is no power and no might except with Allah' (*Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh*)."** I said, "*Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh*." Abū Dharr said: Then he remained silent, and I eagerly awaited his speech. I said, "O Prophet of Allah, we were people of Ignorance (Jāhiliyyah) and idol worship, then Allah sent you as a mercy to the worlds. What is prayer?" He ﷺ said: > **"An established virtue: whoever wills may perform little, and whoever wills may perform much."** I asked, "O Messenger of Allah, what is fasting?" He ﷺ said: > **"An obligatory duty that suffices, and with Allah is abundant reward."** I asked, "O Prophet of Allah, what is charity?" He ﷺ said: > **"Multiplied manifolds, and with Allah is even more."** I asked, "O Prophet of Allah, which charity is best?" He ﷺ said: > **"A secret gift to a pauper, and the exertion of one with scarce means."** I asked, "O Prophet of Allah, which revelation sent down to you is the greatest?" He ﷺ said: > **"*'Allah! None has the right to be worshipped but He, the Ever-Living, the Sustainer of all'* [al-Baqarah: 255]—Ayat al-Kursī."** I asked, "O Prophet of Allah, which martyr is superior?" He ﷺ said: > **"The one whose blood is shed and whose steed is hamstrung."** I asked, "O Prophet of Allah, which slave is best to emancipate?" He ﷺ said: > **"The highest in price and most precious to its family."** I asked, "O Prophet of Allah, which Prophet was the first?" He ﷺ said: > **"Adam, upon him be peace."** I asked, "O Prophet of Allah, was Adam a Prophet?" He ﷺ said: > **"Yes, a Prophet spoken to; Allah created him with His Hand and breathed into him from His spirit, then said to him: 'O Adam, advance.'"** I asked, "O Prophet of Allah, how many Prophets were there?" He ﷺ said: > **"One hundred and twenty-four thousand; and the Messengers among them were three hundred and fifteen, a vast multitude."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے ، لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ، تو انہوں نے آپ ﷺ کو مخاطب نہیں کیا ، اسی دوران حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : اے ابوذر ! کیا تم نے آج ( نفل ) نماز ادا کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اُٹھ کر نماز ادا کر لو ! جب حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے چاشت کی نماز کی چار رکعات ادا کر لیں ، تو نبی اکرم ﷺ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! جنات اور انسانوں کے شیاطین سے ، اللہ کی پناہ مانگو ! حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ انسانوں اور جنات سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کی طرف بنا سنوار کر دھوکے کا شکار کرنے والی باتیں دل میں ڈالتے ہیں ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں جو جنت کے خزانوں سے تعلق رکھتے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم «لا حول ولا قوة الا بالله» پڑھا کرو ! میں نے کہا : «لا حول ولا قوة الا بالله» راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں آپ کے کلام کے انتظار میں رکا رہا ، پھر میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہم زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث کیا ، نماز کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ یہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک بہترین چیز ہے ، جو شخص چاہے وہ اسے تھوڑا حاصل کرے اور جو چاہے وہ زیادہ حاصل کر لے ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! روزے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ایک فرض ہے ، جو جزا دلاتا ہے ( یا کفایت کر جاتا ہے ) میں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! صدقہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( وہ ایک ایسی چیز ہے ، جس کا بدلہ ) کئی گنا ہوتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مزید ( اجر و ثواب بھی ہے ) راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کسی غریب کو پوشیدہ طور پر کچھ دینا ، یا کسی تنگ جس شخص کا مزدوری کر کے ( صدقہ دینا ) میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ پر سب سے عظیم کون سی ( آیت نازل ہوئی ہے ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : «الله لا اله الا هو الحی القیوم» یعنی آیت الکرسی ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سا شہید زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کا خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سے غلام ( کو آزاد کرنا ) زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کی قیمت زیادہ ہو اور جو اپنے مالکان کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سے نبی سب سے پہلے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ ایک ایسے نبی تھے جن کے ساتھ کلام کیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دست مبارک کے ذریعے پیدا کیا اور ان میں اپنی روح کو پھونک دیا ، پھر اُن سے فرمایا : اے آدم ! سامنے کی طرف ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! انبیاء کرام کی تعداد کتنی تھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار ، اور اُن میں سے رسولوں کی تعداد 315 تھی ، جو ایک بڑی تعداد ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ( حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ) انبیاء کرام کی تعداد کتنی تھی ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار ۔ اس روایت کی سند کا مدار ، علی بن یزید نامی راوی پر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔