Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 2 · Chapter 7

Book of Knowledge

Hadith 712–751

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

712

Majma al-Zawaid #712

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ: إِنَّمَا الْأُمُورُ ثَلَاثَةٌ: أَمْرٌ تَبَيَّنَ لَكَ رُشْدُهُ فَاتَّبِعْهُ، وَأَمْرٌ تَبَيَّنَ لَكَ غَيُّهُ فَاجْتَنِبْهُ، وَأَمْرٌ اخْتُلِفَ فِيهِ فَرُدَّهُ إِلَى عَالِمِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said that ʿĪsā ibn Maryam عليه السلام said: > **"Affairs are indeed of three types: a matter whose right guidance is clear to you, so follow it; a matter whose misguidance is clear to you, so avoid it; and a matter concerning which there is difference, so refer it back to one who possesses knowledge of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا تھا : ’’ امور تین قسم کے ہوتے ہیں ، ایک معاملہ ایسا ہوتا ہے ، جس کا ہدایت ہونا ، تمہارے سامنے واضح ہو ، تو تم اُس کی پیروی کرو ! ایک معاملہ وہ ہوتا ہے ، جس کا گمراہی ہونا ، تمہارے سامنے واضح ہو ، تو تم اس سے اجتناب کرو ! ایک معاملہ وہ ہوتا ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، تو تم اُسے اُس کے عالم کی طرف لوٹا دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

713

Majma al-Zawaid #713

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Sabrah رضي الله عنه reported that he heard the Prophet ﷺ saying: > **"Indeed, Allah forbids you from three things: idle gossip (saying 'it was said' and 'he said'), excessive questioning, and squandering wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو تین چیزوں سے منع کیا ہے ، قیل و قال ( یعنی غیر ضروری بحث ) بکثرت ( غیر ضروری ) سوال کرنے اور مال کو ضائع کرنے ( سے تمہیں منع کیا ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے جو انتہائی ضعیف ہے ۔

714

Majma al-Zawaid #714

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الْعُقُوقِ.

EnglishUnverified translation

Maʿqil ibn Yasār رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah has disliked for you idle gossip, excessive questioning, and wasting wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لیے تین چیزوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے ، قیل و قال ( یعنی غیر ضروری بحث ) بکثرت ( غیر ضروری ) سوال کرنا اور مال کو ضائع کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمران القطان ہے ، جسے یحیی بن معین امام ابوداؤد اور امام نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے ، امام ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی احادیث نافرمانی سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

715

Majma al-Zawaid #715

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَوْصِنِي، فَقَالَ: "" دَعْ قِيلَ وَقَالَ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ [وَإِضَاعَةَ الْمَالِ]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: A man came to the Prophet ﷺ and said, "Counsel me." He ﷺ said: > **"Abandon idle talk, excessive questioning, and squandering wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیل و قال ( یعنی غیر ضروری بحث ) بکثرت ( غیر ضروری ) سوال کرنے اور مال کو ضائع کرنے کو ترک کر دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔

716

Majma al-Zawaid #716

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَمَنَعَ وَهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَعُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ». قُلْتُ: حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ، لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِمَا انْفَرَدَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir reported from al-Mughīrah ibn Shuʿbah رضي الله عنهما that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Indeed, Allah has disliked for you idle gossip, excessive questioning, withholding rights while demanding from others, burying infant daughters alive, and disobedience to mothers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قیل و قال ، بکثرت سوال کرنا ، نہ دینا اور دینا ، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا اور ماؤں کی نافرمانی کرنا ( ان سب امور کو تمہارے لیے ) ناپسندیدہ قرار دیا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن کثیر ہے ، جو بصری کا شاگرد ہے ، جس روایت کو نقل کرنے میں یہ منفرد ہو ، اس کے حوالے سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔

717

Majma al-Zawaid #717

وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - يَوْمًا وَأَكْثَرُوا عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا حَارِ بْنَ قَيْسٍ - لِلْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ - مَا تَرَاهُمْ يُرِيدُونَ إِلَى مَا يَسْأَلُونَ [عَنْهُ]؟ قَالَ: لِيَتَعَلَّمُوهُ ثُمَّ يَتْرُكُوهُ. قَالَ: صَدَقْتَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

When the people questioned him excessively one day, ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said to al-Ḥārith ibn Qays: "O Ḥār ibn Qays, what do you think they intend by what they are asking about?" Al-Ḥārith replied, "To learn it and then abandon it." Ibn Masʿūd said: > **"You have spoken the truth, by the One besides Whom there is no other deity!"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک دن ارشاد فرمایا : اُس دن لوگوں نے اُن سے بکثرت سوالات کئے تھے ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے حار بن قیس ! انہوں نے حارث بن قیس سے یہ فرمایا تھا ، تم ان لوگوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ؟ یہ لوگ جس چیز کے بارے میں سوال کر رہے ہیں ، اس کے حوالے سے ان کا ارادہ کیا ہے ؟ تو حارث بن قیس نے جواب دیا : تاکہ وہ اس کا علم حاصل کریں اور پھر اسے چھوڑ دیں ، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تم نے سچ کہا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

718

Majma al-Zawaid #718

وَعَنْهُ قَالَ: يَجِيءُ قَوْمٌ يَشْرَبُونَ الْعِلْمَ شُرْبًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"A people will come who will drink knowledge as one drinks, yet it will not benefit them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ’’ ایسے لوگ آئیں گے ، جو علم کو پی لیا کریں گے ( یعنی وہ علم سیکھیں گے ، لیکن اس پر عمل نہیں کریں گے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

719

Majma al-Zawaid #719

عَنْ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ عَنِ الشَّيْءِ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ حَلَالٌ، فَلَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَ فِيهِ حَتَّى يَحْرُمَ عَلَيْهِمْ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمَا.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه said: > **"The people used to ask about things regarding the commands of the Prophet ﷺ; they would question the Messenger of Allah ﷺ concerning a matter that was lawful, and they would continue asking about it until it was made unlawful for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم ﷺ کے کسی حکم کے حوالے سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے رہتے تھے ، لوگ نبی اکرم ﷺ سے سوال کرتے رہے وہ کام حلال تھا ، لیکن وہ لوگ مسلسل اُس کے بارے میں سوال کرتے رہے ، یہاں تک کہ وہ ان پر حرام ہو گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور سفیان نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام احمد ، یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

720

Majma al-Zawaid #720

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَا نَزَلَتْ آيَةُ التَّلَاعُنِ إِلَّا لِكَثْرَةِ السُّؤَالِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما said: > **"The verse of mutual imprecation (al-Liʿān) was revealed only because of excessive questioning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لعان سے متعلق آیت ، بکثرت سوال کی وجہ سے نازل ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

721

Majma al-Zawaid #721

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ; فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ مِنْ شَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughīrah ibn Shuʿbah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Leave me alone as long as I leave you alone, for those before you were destroyed only because of their excessive questioning and their disputing with their Prophets. Whatever I command you with, fulfill of it as much as you are able, and whatever I forbid you from, refrain from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب تک میں تمہیں ترک کیے رکھوں ، تم بھی مجھے ( ایسے ہی ) رہنے دیا کرو ! کیونکہ تم سے پہلے کے لوگ بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ، جس چیز کے بارے میں ، میں تمہیں حکم دوں ، تم لوگ اپنی استطاعت کے مطابق اسے بجا لاؤ ! اور جس چیز سے میں تمہیں منع کر دوں ، اُس سے باز رہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

722

Majma al-Zawaid #722

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ; فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوهُ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِعَكْسِ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Leave me alone as long as I leave you alone, for those before you were destroyed only by their disputing with their Prophets. When I command you with something, fulfill it; and when I forbid you from something, avoid it as much as you are able."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب تک میں تمہیں ترک کیے رکھوں ، تم بھی مجھے ( ایسے ہی ) رہنے دیا کرو ! جو لوگ تم سے پہلے تھے ، انہیں ان لوگوں کے اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے نے ہلاکت کا شکار کر دیا ، جب میں تمہیں کوئی حکم دوں ، تو تم اسے بجا لاؤ ! اور جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں ، تو تم اُس سے اجتناب کرو ! جہاں تک تم سے ہو سکے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں ، اس کے برعکس ( الفاظ کی ترتیب ) کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

723

Majma al-Zawaid #723

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ قَوْمًا خَيْرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا سَأَلُوهُ إِلَّا عَنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَسْأَلَةً حَتَّى قُبِضَ، كُلُّهُنَّ فِي الْقُرْآنِ "" {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ} [البقرة: 217] "". وَ "" {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ} [البقرة: 219] "". وَ "" {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى} [البقرة: 220] "". "" {وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ} [البقرة: 222] "". وَ "" {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ} [الأنفال: 1] "". وَ "" {يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ} [البقرة: 215] "". مَا كَانُوا يَسْأَلُونَ إِلَّا عَمَّا يَنْفَعُهُمْ. قَالَ: وَأَوَّلُ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ الْمَلَائِكَةُ، وَإِنَّ مَا بَيْنَ الْحَجَرِ إِلَى الرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ لَقُبُورٌ مِنْ قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ، كَانَ النَّبِيُّ إِذَا آذَاهُ قَوْمُهُ خَرَجَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فِيهَا حَتَّى يَمُوتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: > **"I have never seen a people better than the Companions of the Messenger of Allah ﷺ. They did not ask him except about thirteen matters until he was taken, all of which are in the Qur'an: *'They ask you about the sacred month'* [al-Baqarah: 217], *'They ask you about wine and gambling'* [al-Baqarah: 219], *'They ask you about orphans'* [al-Baqarah: 220], *'And they ask you about menstruation'* [al-Baqarah: 222], *'They ask you about the spoils of war'* [al-Anfāl: 1], and *'They ask you what they should spend'* [al-Baqarah: 215]. They did not ask except about that which benefited them."** He also said: > **"The first to circumambulate the House were the angels. And verily, between the Black Stone and the Yemeni Corner lie the graves of Prophets; whenever a Prophet was persecuted by his people, he would depart from their midst and worship Allah there until he passed away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول کے اصحاب سے زیادہ بہتر قوم نہیں دیکھی ، نبی اکرم ﷺ کے وصال فرمانے تک اُن لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے 13 چیزوں کے بارے میں سوال کئے تھے ، اُن سب کا ذکر قرآن میں ہے : ’’ لوگ تم سے حرمت والے مہینے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ‘‘ ’’ لوگ تم سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ‘‘ ’’ لوگ تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ‘‘ ’’ لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ‘‘ ’’ لوگ تم سے انفال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ‘‘ ’’ لوگ تم سے یہ دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں ‘‘ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) وہ حضرات صرف اُس چیز کے بارے میں سوال کرتے تھے جو انہیں فائدہ دے ۔ ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) خانہ کعبہ کے گرد طواف ، سب سے پہلے فرشتوں نے کیا تھا اور حجر اسود سے لے کر رکن یمانی کے درمیان میں کچھ انبیاء کرام کی قبریں ہیں ، جب کسی نبی کو اُس کی قوم کے افراد اذیت پہنچاتے تھے ، تو وہ اُن لوگوں کے درمیان سے نکل جاتے تھے ( اور خانہ کعبہ کے پاس آ کر ) مرتے دم تک ، یہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، یہ ثقہ ہے ، لیکن اختلاط شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

724

Majma al-Zawaid #724

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ انْحَرَفْنَا إِلَيْهِ، فَمِنَّا مَنْ يَسْأَلُهُ عَنِ الْقُرْآنِ، وَمِنَّا مَنْ يَسْأَلُهُ عَنِ الْفَرَائِضِ، وَمِنَّا مَنْ يَسْأَلُهُ عَنِ الرُّؤْيَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الرَّوِيُّ، ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī رضي الله عنه said: > **"Whenever the Prophet ﷺ completed the Dawn (Fajr) prayer, we would turn towards him. Some of us would ask him about the Qur'an, some would ask him about the laws of inheritance, and some would ask him about dreams."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب فجر کی نماز ادا کر لیتے تھے ، تو آپ ﷺ ہماری طرف رخ کر لیتے تھے ، ہم میں سے کوئی شخص آپ ﷺ سے قرآن کے بارے میں سوال کرتا تھا ، ہم میں سے کوئی شخص آپ ﷺ سے وراثت کے بارے میں دریافت کرتا تھا اور ہم میں سے کوئی شخص آپ ﷺ سے خواب ( کی تعبیر ) کے بارے میں دریافت کرتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر روی ہے جسے امام ابوداؤد اور امام ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

725

Majma al-Zawaid #725

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ جَالِسًا، وَكَانُوا يَظُنُّونَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ فَأَقْصَرُوا عَنْهُ، حَتَّى جَاءَ أَبُو ذَرٍّ فَاقْتَحَمَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ الْيَوْمَ؟ "" قَالَ: لَا. قَالَ: "" قُمْ فَصَلِّ ""، فَلَمَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتِ الضُّحَى أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ "". قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ {شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا} [الأنعام: 112] "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ؟ "" قُلْتُ: بَلَى، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ. قَالَ: "" قُلْ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "". قُلْتُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ. قَالَ: ثُمَّ سَكَتَ عَنِّي فَاسْتَبْطَأْتُ كَلَامَهُ. قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَعِبَادَةِ أَوْثَانٍ، فَبَعَثَكَ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، أَرَأَيْتَ الصَّلَاةَ مَا هِيَ؟ قَالَ: "" خَيْرٌ مَوْضُوعٌ، مَنْ شَاءَ اسْتَقَلَّ، وَمَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الصِّيَامَ مَاذَا هُوَ؟ قَالَ: "" فَرْضٌ مُجْزِئٌ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الصَّدَقَةَ مَا هِيَ؟ قَالَ: "" أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ، وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ، وَجُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ "". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: "" {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: 255] آيَةَ الْكُرْسِيِّ "". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" مَنْ سُفِكَ دَمُهُ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ "" قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا "". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: "" آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ، خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ، وَنَفَخَ مِنْ رُوحِهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: يَا آدَمُ، قَبِلًا "". قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَمْ عَدَدُ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: "" مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ [أَلْفًا]، الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ: كَمْ عَدَدُ الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: "" مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا "". وَمَدَارُهُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported: The Prophet ﷺ was sitting in the mosque, and the people thought that revelation was descending upon him, so they held back from him. Then Abū Dharr arrived, stepped forward, and sat beside him. The Prophet ﷺ turned toward him and asked, "O Abū Dharr, have you prayed today?" He replied, "No." He ﷺ said: > **"Stand and pray."** When he had prayed four units of the forenoon (Ḍuḥā) prayer, the Prophet ﷺ turned toward him and said: > **"O Abū Dharr, seek refuge in Allah from the evil of the devils among jinn and mankind."** Abū Dharr asked, "O Prophet of Allah, are there devils among mankind?" He ﷺ replied: > **"Yes. *'Devils among mankind and jinn, inspiring one another with embellished speech in delusion'* [al-Anʿām: 112]."** Then he ﷺ said: > **"O Abū Dharr, shall I not teach you words from the treasure of Paradise?"** I said, "Yes indeed, may Allah make me your ransom!" He ﷺ said: > **"Say: 'There is no power and no might except with Allah' (*Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh*)."** I said, "*Lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh*." Abū Dharr said: Then he remained silent, and I eagerly awaited his speech. I said, "O Prophet of Allah, we were people of Ignorance (Jāhiliyyah) and idol worship, then Allah sent you as a mercy to the worlds. What is prayer?" He ﷺ said: > **"An established virtue: whoever wills may perform little, and whoever wills may perform much."** I asked, "O Messenger of Allah, what is fasting?" He ﷺ said: > **"An obligatory duty that suffices, and with Allah is abundant reward."** I asked, "O Prophet of Allah, what is charity?" He ﷺ said: > **"Multiplied manifolds, and with Allah is even more."** I asked, "O Prophet of Allah, which charity is best?" He ﷺ said: > **"A secret gift to a pauper, and the exertion of one with scarce means."** I asked, "O Prophet of Allah, which revelation sent down to you is the greatest?" He ﷺ said: > **"*'Allah! None has the right to be worshipped but He, the Ever-Living, the Sustainer of all'* [al-Baqarah: 255]—Ayat al-Kursī."** I asked, "O Prophet of Allah, which martyr is superior?" He ﷺ said: > **"The one whose blood is shed and whose steed is hamstrung."** I asked, "O Prophet of Allah, which slave is best to emancipate?" He ﷺ said: > **"The highest in price and most precious to its family."** I asked, "O Prophet of Allah, which Prophet was the first?" He ﷺ said: > **"Adam, upon him be peace."** I asked, "O Prophet of Allah, was Adam a Prophet?" He ﷺ said: > **"Yes, a Prophet spoken to; Allah created him with His Hand and breathed into him from His spirit, then said to him: 'O Adam, advance.'"** I asked, "O Prophet of Allah, how many Prophets were there?" He ﷺ said: > **"One hundred and twenty-four thousand; and the Messengers among them were three hundred and fifteen, a vast multitude."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے ، لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے ، تو انہوں نے آپ ﷺ کو مخاطب نہیں کیا ، اسی دوران حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور دریافت کیا : اے ابوذر ! کیا تم نے آج ( نفل ) نماز ادا کی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اُٹھ کر نماز ادا کر لو ! جب حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے چاشت کی نماز کی چار رکعات ادا کر لیں ، تو نبی اکرم ﷺ اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! جنات اور انسانوں کے شیاطین سے ، اللہ کی پناہ مانگو ! حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ انسانوں اور جنات سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ ہیں جو ایک دوسرے کی طرف بنا سنوار کر دھوکے کا شکار کرنے والی باتیں دل میں ڈالتے ہیں ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں جو جنت کے خزانوں سے تعلق رکھتے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم «لا حول ولا قوة الا بالله» پڑھا کرو ! میں نے کہا : «لا حول ولا قوة الا بالله» راوی بیان کرتے ہیں : پھر میں آپ کے کلام کے انتظار میں رکا رہا ، پھر میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہم زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ، جو بتوں کی عبادت کیا کرتے تھے ، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر مبعوث کیا ، نماز کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ یہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک بہترین چیز ہے ، جو شخص چاہے وہ اسے تھوڑا حاصل کرے اور جو چاہے وہ زیادہ حاصل کر لے ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! روزے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ایک فرض ہے ، جو جزا دلاتا ہے ( یا کفایت کر جاتا ہے ) میں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! صدقہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( وہ ایک ایسی چیز ہے ، جس کا بدلہ ) کئی گنا ہوتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مزید ( اجر و ثواب بھی ہے ) راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کسی غریب کو پوشیدہ طور پر کچھ دینا ، یا کسی تنگ جس شخص کا مزدوری کر کے ( صدقہ دینا ) میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ پر سب سے عظیم کون سی ( آیت نازل ہوئی ہے ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : «الله لا اله الا هو الحی القیوم» یعنی آیت الکرسی ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سا شہید زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کا خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سے غلام ( کو آزاد کرنا ) زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کی قیمت زیادہ ہو اور جو اپنے مالکان کے نزدیک زیادہ عمدہ ہو ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سے نبی سب سے پہلے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ ایک ایسے نبی تھے جن کے ساتھ کلام کیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے دست مبارک کے ذریعے پیدا کیا اور ان میں اپنی روح کو پھونک دیا ، پھر اُن سے فرمایا : اے آدم ! سامنے کی طرف ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! انبیاء کرام کی تعداد کتنی تھی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار ، اور اُن میں سے رسولوں کی تعداد 315 تھی ، جو ایک بڑی تعداد ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ( حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ) انبیاء کرام کی تعداد کتنی تھی ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک لاکھ چوبیس ہزار ۔ اس روایت کی سند کا مدار ، علی بن یزید نامی راوی پر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

726

Majma al-Zawaid #726

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟ "". قُلْتُ: لَا. قَالَ: "" قُمْ فَصَلِّ "". قَالَ: فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الشَّيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةُ؟ قَالَ: "" خَيْرٌ مَوْضُوعٌ، مَنْ شَاءَ أَقَلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالصَّوْمُ؟ قَالَ: "" فَرْضٌ مُجْزِئٌ، وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالصَّدَقَةُ؟ قَالَ: "" أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّهَا أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ، أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: "" آدَمُ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمِ الْمُرْسَلُونَ؟ قَالَ: "" ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا ""، وَقَالَ مَرَّةً: "" خَمْسَةَ عَشَرَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آدَمُ نَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، مُكَلَّمٌ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: "" آيَةُ الْكُرْسِيِّ {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [البقرة: 255]» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَعِنْدَ النَّسَائِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ. وَفِي طَرِيقِ الطَّبَرَانِيِّ زِيَادَةٌ تَأْتِي فِي بَابِ التَّارِيخِ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه reported: I came to the Prophet ﷺ while he was in the mosque and sat down. He said, "O Abū Dharr, have you prayed?" I said, "No." He said: > **"Stand and pray."** I stood and prayed, then sat down. He said: > **"O Abū Dharr, seek refuge in Allah from the evil of the devils among mankind and jinn."** I said, "O Messenger of Allah, are there devils among mankind?" He said: > **"Yes."** I said, "O Messenger of Allah, what of prayer?" He said: > **"An established virtue: whoever wills may perform little, and whoever wills may perform much."** I said, "O Messenger of Allah, what of fasting?" He said: > **"An obligatory duty that suffices, and with Allah is increase."** I said, "O Messenger of Allah, what of charity?" He said: > **"Multiplied manifolds."** I said, "O Messenger of Allah, which of it is best?" He said: > **"The exertion of one with little means, or a secret gift to a pauper."** I said, "O Messenger of Allah, which Prophet was first?" He said: > **"Adam."** I said, "O Messenger of Allah, was he a Prophet?" He said: > **"Yes, a Prophet spoken to."** I said, "O Messenger of Allah, how many were the Messengers?" He said: > **"Three hundred and a dozen or so, a vast multitude."** And once he said: **"Three hundred and fifteen."** I said, "O Messenger of Allah, was Adam a Prophet?" He said: > **"Yes, spoken to."** I said, "O Messenger of Allah, which revelation sent to you is greatest?" He said: > **"Ayat al-Kursī: *'Allah! None has the right to be worshipped but He, the Ever-Living, the Sustainer of all'* [al-Baqarah: 255]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ ﷺ اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے ، میں بیٹھ گیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! کیا تم نے ( نقل ) نماز ادا کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! آپ نے فرمایا : تم اُٹھ کر نماز ادا کر لو ! راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اُٹھ کر نماز ادا کر لی ، پھر جب میں بیٹھ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! تم انسانوں اور جنات سے تعلق رکھنے والے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ! راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نماز ؟ آپ نے فرمایا : وہ بہترین چیز ہے ، جو شخص چاہے وہ تھوڑی کر لے ، جو چاہے ، وہ زیادہ کر لے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روزه ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ ایک فرض ہے جو کفایت کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مزید ( اجر و ثواب ) ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صدقہ ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( اُس کا اجر و ثواب ) کئی گنا ہوتا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا ( صدقہ ) افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تنگ دست شخص کا مشقت کر کے ( صدقہ کرنا ) یا کسی غریب کو پوشیدہ طور پر دینا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سے نبی سب سے پہلے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت آدم علیہ السلام ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ نبی تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ نبی تھے ، جن کے ساتھ کلام کیا گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رسولوں کی تعداد کتنی ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : 310 سے کچھ زیادہ جو بڑی تعداد ہے ۔ ایک مرتبہ راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : 315 ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اُن کے ساتھ کلام کیا گیا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ پر سب سے بڑی آیت کون سی نازل کی گئی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آیت الکری یعنی الله لا اله الا هو الحي القيوم یہ روایت امام احمد ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام نسائی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ’’ مسعودی ‘‘ ہے جو ثقہ ہے ، لیکن اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔ طبرانی کی روایت میں کچھ اضافہ ہے ، وہ روایت آگے چل کر ’’ تاریخ ‘‘ سے متعلق باب میں آئے گی ۔

727

Majma al-Zawaid #727

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الِاقْتِصَادُ فِي النَّفَقَةِ نِصْفُ الْمَعِيشَةِ، وَالتَّوَدُّدُ إِلَى النَّاسِ نِصْفُ الْعَقْلِ، وَحُسْنُ السُّؤَالِ نِصْفُ الْعِلْمِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُخَيِّسُ بْنُ تَمِيمٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: مَجْهُولَانِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Moderation in expenditure is half of livelihood, affability toward people is half of wisdom, and asking sound questions is half of knowledge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ خرچ کرتے ہوئے میانہ روی اختیار کرنا ، نصف معیشت ہے ، لوگوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرنا ، نصف عقل مندی ہے اور عمدہ سوال کرنا نصف علم ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے مخیس بن تمیم نے حفص بن عمر سے روایت کیا ہے ، امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ دونوں مجہول ہیں ۔

728

Majma al-Zawaid #728

وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَكْرَهُ الْمَسَائِلَ وَيَعِيبُهَا. فَإِذَا سَأَلَهُ أَبُو رَزِينٍ أَجَابَهُ وَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Razīn رضي الله عنه said: > **"The Messenger of Allah ﷺ used to dislike frivolous questions and criticize them; but when Abū Razīn asked him, he answered him and was pleased with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورزین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سوال کرنے کو ناپسند کرتے تھے اور اُسے معیوب قرار دیتے تھے ، لیکن جب حضرت ابورزین رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے سوال کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں جواب دیا اور اُس پر پسندیدگی کا اظہار بھی کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند حسن ہے ۔

729

Majma al-Zawaid #729

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ -: إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الْآيَةِ فَلَا يَقُولُ: مَا تَقُولُ فِي كَذَا وَكَذَا؟ فَيُلَبَّسُ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ لِيَقْرَأْ مَا قَبْلَهَا ثُمَّ لِيُخَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Ibrāhīm reported that ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"When one of you is in doubt concerning a verse, let him not ask: 'What do you say regarding such-and-such?' lest confusion be cast upon him. Rather, let him recite what precedes it, and then allow him to attend to his need."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ جب کسی شخص کو کسی آیت کے بارے میں شک ہو جائے ، تو وہ یہ نہ کہے : تم فلاں آیت کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ کیونکہ یہ چیز اُس کے لئے التباس کا باعث بن جائے گی ، آدمی کو چاہیے کہ اُس سے پہلے کی آیت پڑھے اور پھر اپنے اور اپنے مطلوبہ مقصد کے درمیان کچھ چھوڑ دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ یہ منقطع ہے ۔

730

Majma al-Zawaid #730

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا اهْتَمَّ أَكْثَرَ مِنْ مَسِّ لِحْيَتِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَالْجُمْهُورُ عَلَى تَضْعِيفِهِ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported: > **"Whenever the Prophet ﷺ was deeply preoccupied with concern, he would frequently touch his beard."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : جب آپ ﷺ سوچ میں گم ہوتے تھے تو اکثر اپنی داڑھی کو چھو لیتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق ( بھی ) کی گئی ہے ۔

731

Majma al-Zawaid #731

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «أَقْبَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَلَى نَشَزٍ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى جَلَسْتُ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِهِ - أَوْ وَجْهِي عِنْدَ رُكْبَتِهِ - فَاغْتَنَمْتُ خَلْوَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذُّنُوبِ أَكْبَرُ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي حَتَّى قُلْتُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ»، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: I approached the Messenger of Allah ﷺ while he was on an elevated mound of earth until I sat facing him—or my face was level with his knee. Seizing the opportunity of the Messenger of Allah's ﷺ solitude, I asked, "O Messenger of Allah, which sin is greatest?" He turned away from me until I repeated it three times; then he turned his face toward me and said: > **"That you assign a rival to Allah while He alone created you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ ﷺ اونچی جگہ پر تشریف فرما تھے ، میں آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا ، میرا چہرہ آپ ﷺ کے گھٹنوں کے مدمقابل آ رہا تھا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کی خلوت کو غنیمت سمجھا اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے اعراض کیا ، یہاں تک کہ میں نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی ، تو آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے ....... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔

732

Majma al-Zawaid #732

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا فُتِحَتِ الْمَدَائِنُ أَقْبَلَ النَّاسُ عَلَى الدُّنْيَا وَأَقْبَلْتُ عَلَى عُمَرَ. فَكَانَ عَامَّةُ حَدِيثِهِ عَنْ عُمَرَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said: > **"When the cities were conquered, the people turned toward worldly pursuits, while I turned toward ʿUmar."** And thus, the general body of his narrations was from ʿUmar رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب مختلف شہر فتح ہو گئے ، تو لوگ دنیا کی طرف متوجہ ہو گئے اور میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ مبذول کر لی ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ زیادہ تر احادیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

733

Majma al-Zawaid #733

عَنْ أَبِي فِرَاسٍ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ: «سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ؟ ""، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي؟ قَالَ: "" أَبُوكَ فُلَانٌ الَّذِي تُدْعَى إِلَيْهِ ""، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ: فِي الْجَنَّةِ أَنَا؟ قَالَ: "" فِي الْجَنَّةِ "" وَسَأَلَهُ رَجُلٌ: فِي الْجَنَّةِ أَنَا؟ قَالَ: "" فِي النَّارِ "" فَقَالَ عُمَرُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Firās رضي الله عنه, a man from the tribe of Aslam, reported: One day, the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Ask me concerning whatever you wish!"** A man said, "O Messenger of Allah, who is my father?" He ﷺ replied: > **"Your father is so-and-so, to whom you are named."** Another man asked, "Am I in Paradise?" He ﷺ replied: > **"In Paradise."** Another man asked, "Am I in Paradise?" He ﷺ replied: > **"In the Fire."** Whereupon ʿUmar رضي الله عنه said, "We are content with Allah as our Lord!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوفراس رضی اللہ عنہ جن کا تعلق اسلم قبیلے سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ جس چیز کے بارے میں چاہو مجھ سے سوال کر لو ! ایک صاحب بولے : یا رسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا باپ فلاں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے اسی شخص کا ذکر کیا ، جس کی نسبت سے اس شخص کو بلایا جاتا تھا ، ایک اور شخص نے آپ ﷺ سے سوال کیا : میں جنت میں جاؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم جنت میں جاؤ گے ، ایک اور شخص نے آپ ﷺ سے سوال کیا : کیا میں بھی جنت میں جاؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم جہنم میں جاؤ گے ! تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم اللہ تعالیٰ کے کے پروردگار ہونے سے راضی ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

734

Majma al-Zawaid #734

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا قُعُودًا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَسَى أَنْ يَكُونَ قَالَ: «سِتِّينَ رَجُلًا - فَيُحَدِّثُنَا الْحَدِيثَ ثُمَّ يَدْخُلُ لِحَاجَتِهِ، فَنَتَرَاجَعُهُ بَيْنَنَا هَذَا ثُمَّ هَذَا، فَنَقُومُ كَأَنَّمَا زُرِعَ فِي قُلُوبِنَا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه said: We were sitting with the Prophet of Allah ﷺ—perhaps around sixty men—and he would narrate hadith to us, then enter his home for some need. We would then review the hadith among ourselves, this one and then that one, until we would stand up as though it had been planted in our hearts: > **"We would review it among ourselves, this one and then that one, and we would stand as though it had been sown into our hearts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، راوی کہتے ہیں : شاید انہوں نے یہ بھی کہا تھا : ہم 60 افراد بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم ﷺ ہمیں احادیث بیان کرتے رہے ، پھر آپ ﷺ کسی کام کے سلسلے میں گھر تشریف لے گئے ، تو ہم نے آپس میں اُن احادیث کے بارے میں ایک ایک کر کے مذاکرہ شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ جب ہم اُٹھے تو یہ حالت تھی کہ جیسے وہ ہمارے دلوں میں بو دی گئی ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

735

Majma al-Zawaid #735

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَتَاهُ أَصْحَابُهُ قَالَ: تَدَارَسُوا وَأَبْشِرُوا، وَزِيدُوا زَادَكُمُ اللَّهُ خَيْرًا وَأَحَبَّكُمْ وَأَحَبَّ مَنْ يُحِبُّكُمْ، رُدُّوا عَلَيْنَا الْمَسَائِلَ ; فَإِنَّ أَجْرَ آخِرِهَا كَأَجْرِ أَوَّلِهَا، وَاخْلِطُوا حَدِيثَكُمْ بِالِاسْتِغْفَارِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Whenever his companions came to him, Faḍālah ibn ʿUbayd رضي الله عنه would say: > **"Study mutually and rejoice; increase in effort and may Allah increase you in good, love you, and love whoever loves you! Refer questions back to us, for indeed the reward of the last of them is like the reward of the first of them, and intermingle your discourse with seeking forgiveness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب اُن کے شاگرد ان کے پاس آتے تھے ، تو وہ یہ فرمایا کرتے تھے : تم ایک دوسرے کو درس دو ! اور خوشخبری حاصل کرو ، اور زیادہ ( بھلائی کرو ) اللہ تعالیٰ تمہیں زیادہ بھلائی عطا کرے گا ، وہ تم سے بھی محبت رکھے گا ، اور جو شخص تم لوگوں سے محبت کرے گا ، اُس سے بھی محبت رکھے گا ، اور مسائل ہماری طرف لوٹا دو ! کیونکہ اس کے آخری کا اجر بھی اس کے پہلے کی مانند ہو گا اور اپنی گفتگو میں استغفار کو ملا لیا کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

736

Majma al-Zawaid #736

وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ: أَكْتِبْنَا. قَالَ: لَنْ نُكْتِبَكُمْ، وَلَنْ نَجْعَلَهُ قُرْآنًا، وَلَكِنْ خُذُوا عَنَّا كَمَا أَخَذْنَا عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَكَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَقُولُ: تَحَدَّثُوا ; فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُذَكِّرُ بَعْضُهُ بَعْضًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Naḍrah reported: I said to Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه, "Write down the narrations for us." He replied: > **"We will not write them down for you, nor will we make them like a Qur'an. Rather, take them from us just as we took them from the Prophet of Allah ﷺ."** And Abū Saʿīd used to say: > **"Converse with one another in hadith, for indeed one hadith reminds of another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونضرہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ہمیں لکھوائیں ! انہوں نے فرمایا : ہم تمہیں نہیں لکھوائیں گے اور ہم اُن ( احادیث کو تحریر کروا کر ) قرآن نہیں بنائیں گے ، البتہ یہ ہے کہ تم ہم سے سیکھ لو ! جس طرح ہم نے اللہ کے نبی ﷺ سے سیکھ لیا تھا ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : حدیث بیان کیا کرو ! کیونکہ بعض اوقات ایک حدیث ، کوئی دوسری حدیث یاد دلا دیتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

737

Majma al-Zawaid #737

عَنْ كُرْدُوسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ - قَالَ شُعْبَةُ: أَرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَأَنْ تُفَصِّلَ الْمُفَصَّلَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا بَابًا» قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ: أَيَّ الْمُفَصَّلِ؟ قَالَ: الْقَصَصُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ كُرْدُوسٌ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: فِيهِ نَظَرٌ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Kurdūs ibn ʿAmr said: I heard a man from the participants of Badr—Shuʿbah said: "I believe him to be ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه"—narrating that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"That you expound the detailed narratives (al-Mufaṣṣal) is more beloved to me than such-and-such doors of knowledge."** Shuʿbah said: I asked ʿAbd al-Malik, "What is meant by al-Mufaṣṣal?" He said, "The historical narratives and lessons."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کردوس بن عمرو بیان کرتے ہیں : میں نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، شعبہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے اُن کی مراد حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ تھے ( انہوں نے یہ بات بیان کی : ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اگر تم کسی مفصل کی وضاحت کرو ! تو یہ میرے نزدیک اتنی چیزوں سے زیادہ بہتر ہے ‘‘ شعبہ کہتے ہیں : میں نے عبدالملک سے دریافت کیا : مفصل سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : قصے ( یا واقعات ) ۔ یہی روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کردوس ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

738

Majma al-Zawaid #738

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: يَا أَبَا حَسَنٍ، رُبَّمَا شَهِدْتَ وَغِبْنَا، وَرُبَّمَا شَهِدْنَا وَغِبْتَ. ثَلَاثٌ أَسْأَلُكَ عَنْهُنَّ هَلْ عِنْدَكَ مِنْهُنَّ عِلْمٌ؟ قَالَ عَلِيٌّ: وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ وَلَمْ يَرَ مِنْهُ خَيْرًا، وَالرَّجُلُ يُبْغِضُ الرَّجُلَ وَلَمْ يَرَ مِنْهُ شَرًّا؟ قَالَ: نَعَمْ؛ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ الْأَرْوَاحَ فِي الْهَوَى أَجْنَادٌ مُجَنَّدَةٌ، تَلْتَقِي فَتَشَامَّ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ». قَالَ: وَاحِدَةٌ. وَقَالَ: الرَّجُلُ يُحَدِّثُ الْحَدِيثَ إِذْ نَسِيَهُ إِذْ ذَكَرَهُ؟ قَالَ عَلِيٌّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنَ الْقُلُوبِ قَلْبٌ إِلَّا وَلَهُ سَحَابَةٌ كَسَحَابَةِ الْقَمَرِ، بَيْنَمَا الْقَمَرُ يُضِيءُ إِذْ عَلَتْهُ سَحَابَةٌ فَأَظْلَمَ، إِذْ تَجَلَّتْ عَنْهُ فَأَضَاءَ، وَبَيْنَا الرَّجُلُ يُحَدِّثُ الْحَدِيثَ إِذْ عَلَتْهُ سَحَابَةٌ فَنَسِيَ، إِذْ تَجَلَّتْ عَنْهُ فَذَكَرَ». قَالَ عُمَرُ: اثْنَتَانِ. قَالَ: وَالرَّجُلُ يَرَى الرُّؤْيَا فَمِنْهَا مَا يَصْدُقُ وَمِنْهَا مَا يَكْذِبُ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ وَلَا أَمَةٍ يَنَامُ فَيَسْتَثْقِلُ نَوْمًا إِلَّا عُرِجَ بِرُوحِهِ إِلَى الْعَرْشِ، فَالَّتِي لَا تَسْتَيْقِظُ إِلَّا عِنْدَ الْعَرْشِ فَتِلْكَ الرُّؤْيَا الَّتِي تَصْدُقُ، وَالَّتِي تَسْتَيْقِظُ دُونَ الْعَرْشِ فَهِيَ الرُّؤْيَا الْتِي تَكْذِبُ». فَقَالَ عُمَرُ: ثَلَاثٌ كُنْتُ فِي طَلَبِهِنَّ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَصَبْتُهُنَّ قَبْلَ الْمَوْتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ الْعُقَيْلِيُّ: حَدِيثُهُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ. وَهَذَا الْحَدِيثُ يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported: ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb said to ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنهما, "O Abū al-Ḥasan, at times you were present and we were absent, and at times we were present and you were absent. There are three matters I wish to ask you about; do you have knowledge concerning them?" ʿAlī asked, "What are they?" ʿUmar said, "A man loves another man though he has seen no good from him, and a man detests another though he has seen no evil from him?" ʿAlī replied, "Yes; the Messenger of Allah ﷺ said: > **'Indeed, souls in the spiritual realm are conscripted soldiers; they meet and scent one another. Those among them that recognized each other become bonded in affection, and those among them that were unacquainted differ in aversion.'**" ʿUmar said, "That is one." ʿUmar asked, "A man is narrating a hadith when suddenly he forgets it, and then suddenly he remembers it?" ʿAlī said, "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **'There is no heart except that it has a cloud like the cloud covering the moon. While the moon is shining brightly, a cloud suddenly passes over it and it darkens; when it unveils, it shines again. Likewise, while a man is narrating a hadith, a cloud covers his heart and he forgets; then when it departs, he remembers.'**" ʿUmar said, "That is two." ʿUmar said, "A man sees dreams, and some of them come true while others prove false?" ʿAlī said, "Yes; I heard the Messenger of Allah ﷺ say: > **'No male or female servant falls asleep and enters deep sleep except that their soul is ascended toward the Throne. That soul which does not awaken until it reaches the Throne is the vision that comes true; whereas that which awakens before reaching the Throne is the vision that proves false.'**" ʿUmar exclaimed, "These were three matters I was searching for! Praise be to Allah Who enabled me to attain them before death!"

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوالحسن ! بعض اوقات آپ ( نبی اکرم ﷺ کے پاس ) موجود ہوتے تھے اور ہم موجود نہیں ہوتے تھے ، اور بعض اوقات ہم موجود ہوتے تھے اور آپ موجود نہیں ہوتے تھے ، میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کروں گا کہ کیا آپ کے پاس ان کے بارے میں کوئی علم ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ چیزیں کیا ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بولے : بعض اوقات ایک شخص کسی دوسرے شخص کے ساتھ محبت رکھتا ہے ، حالانکہ اُس نے اس دوسرے شخص سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی ہوتی ہے ، اسی طرح بعض اوقات کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے بغض رکھتا ہے ، حالانکہ اُس نے اس دوسرے شخص سے کوئی برائی نہیں دیکھی ہوتی ہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ( یعنی میرے پاس اس حوالے سے علم ہے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ہویٰ میں ( یعنی عالم ارواح میں ) روحیں گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، وہ ایک دوسرے سے ملتی تھیں ، تو اُن میں سے جو ایک دوسرے سے متعارف ہوئیں ، وہ ( دنیا میں بھی ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں ، اور جو وہاں لاتعلق رہیں ، وہ ( دنیا میں بھی ) ایک دوسرے سے نامانوس رہتی ہیں ‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک بات ہو گئی ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : بعض اوقات کوئی شخص کوئی بات بیان کرتا ہے اور پھر وہ بات بھول جاتا ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ دلوں میں سے ہر ایک دل کے لیے ایک بادل ہوتا ہے ، جیسے چاند کا بادل ہوتا ہے کہ چاند چمک رہا ہوتا ہے ، اُس پر بادل آ جاتا ہے تو وہ تاریک ہو جاتا ہے ، جب بادل ہٹ جاتا ہے ، تو وہ پھر چمکنے لگتا ہے ، اسی طرح کوئی شخص کوئی بات بیان کر رہا ہوتا ہے ، اسی دوران اس پر بادل آ جاتا ہے ، تو وہ بات بھول جاتا ہے اور جب وہ بادل ہٹ جاتا ہے ، تو اُسے وہ بات یاد آ جاتی ہے ‘‘ حضرت عمر نے فرمایا : دو باتیں ہو گئی ہیں ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آدمی مختلف قسم کے خواب دیکھتا ہے ، اُن میں سے کچھ خواب سچے ثابت ہوتے ہیں ؟ اور کچھ خواب جھوٹے ثابت ہوتے ہیں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! میں نے بھی نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو بھی بندہ یا بندی سوتا ہے ، جب اس کی نیند گہری ہو جاتی ہے ، تو اُس کی روح کو عرش کی طرف لے جایا جاتا ہے ، اگر وہ شخص اُس کے پاس پہنچ کر بیدار ہوتا ہے تو وہ ایسا خواب ہوتا ہے جو سچا ثابت ہوتا ہے ، اور جو عرش سے پہلے بیدار ہو جاتا ہے ، تو وہ ایسے خواب ہوتے ہیں ، جو جھوٹے ثابت ہوتے ہیں ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تین باتیں تھیں ، جن کی مجھے تلاش تھی ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے ان کا جواب مل گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ازہر بن عبداللہ ہے ، عقیلی فرماتے ہیں : ابن عجلان کے حوالے سے اس کی نقل کردہ حدیث محفوظ نہیں ہے ، اور یہ حدیث اسرائیل کے حوالے سے ، ابواسحاق کے حوالے سے ، حارث کے حوالے سے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ پر موقوف ہونے کے طور پر معروف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

739

Majma al-Zawaid #739

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ قَالَ: "" أَنْ يَجْمَعَ عِلْمَ النَّاسِ إِلَى عِلْمِهِ، وَكُلُّ صَاحِبِ عِلْمٍ غَرْثَانُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما reported that a man came to the Prophet ﷺ and asked, "Which of the people is most knowledgeable?" He ﷺ said: > **"The one who gathers the knowledge of the people unto his own knowledge; and every possessor of knowledge remains hungry for more."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے دریافت کیا : کون شخص سب سے زیادہ علم رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ جو لوگوں کے علم کو اپنے علم کے ساتھ ملا لے ، اور ہر صاحب علم ( علم کا ) بھوکا ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعدہ بن یسع ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

740

Majma al-Zawaid #740

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَابْنَ مَسْعُودٍ، أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ؟ "" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" أَوْثَقُ عُرَى الْإِسْلَامِ: الْوَلَايَةُ فِي اللَّهِ، وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ ""، ثُمَّ قَالَ: "" يَا ابْنَ مَسْعُودٍ "". قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" تَدْرِي أَيَّ النَّاسِ أَفْضَلَ؟ "" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" إِنَّ أَفْضَلَ النَّاسِ أَفْضَلُهُمْ عَمَلًا إِذَا فَقِهُوا فِي دِينِهِمْ ""، ثُمَّ قَالَ: "" يَا ابْنَ مَسْعُودٍ "". قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" أَتَدْرِي أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ "" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ أَبْصَرُهُمْ بِالْحَقِّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ، وَإِنْ كَانَ مُقَصِّرًا فِي عَمَلِهِ، وَإِنْ كَانَ يَزْحَفُ عَلَى اسْتِهِ زَحْفًا، وَاخْتَلَفَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، نَجَا مِنْهَا ثَلَاثٌ، وَهَلَكَ سَائِرُهُنَّ: فِرْقَةٌ أَزَّتِ الْمُلُوكَ، فَقَاتَلُوهُمْ عَلَى دِينِهِمْ وَدِينِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذُوهُمْ فَقَتَلُوهُمْ وَنَشَرُوهُمْ بِالْمَنَاشِيرِ، وَفِرْقَةٌ لَمْ يَكُنْ لَهَا طَاقَةٌ بِمُوَازَاتِ الْمُلُوكِ، وَلَا بِأَنْ يُقِيمُوا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى دِينِ اللَّهِ وَدِينِ عِيسَى، فَسَاحُوا فِي الْبِلَادِ وَتَرَهَّبُوا، وَهُمُ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ} [الحديد: 27] الْآيَةَ "". قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَمَنْ آمَنَ بِي وَاتَّبَعَنِي وَصَدَّقَنِي فَقَدْ رَعَاهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا، وَمَنْ لَمْ يَتَّبَعْنِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَقِيلُ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: I entered upon the Prophet ﷺ and he said, "O Ibn Masʿūd, which handhold of faith is the firmest?" I said, "Allah and His Messenger know best." He ﷺ said: > **"The firmest handhold of Islam is loyalty for the sake of Allah, loving for the sake of Allah, and hating for the sake of Allah."** Then he said, "O Ibn Masʿūd!" I said, "At your service, O Messenger of Allah!" He said, "Do you know which of the people is most virtuous?" I said, "Allah and His Messenger know best." He said: > **"Verily, the most virtuous of people is the best of them in deeds when they possess deep understanding in their religion."** Then he said, "O Ibn Masʿūd!" I said, "At your service, O Messenger of Allah!" He said, "Do you know which of the people is most knowledgeable?" I said, "Allah and His Messenger know best." He said: > **"Verily, the most knowledgeable of people is the most discerning of the truth when people differ, even if he falls short in his deeds, and even if he crawls upon his buttocks. And those before you split into seventy-two sects; three of them were saved and the rest perished: a group that resisted tyrannical rulers and fought them for their religion and the religion of ʿĪsā ibn Maryam ﷺ, so the rulers captured them, killed them, and sawed them with saws; a group that lacked the power to confront the rulers and could not remain among them inviting to the religion of Allah and the religion of ʿĪsā, so they wandered through the land and took up monasticism—and they are those concerning whom Allah, Mighty and Majestic, said: *'And monasticism they innovated; We did not prescribe it for them, except seeking the pleasure of Allah'* [al-Ḥadīd: 27]. So whoever believes in me, follows me, and affirms my truth has observed it with its true observance; and whoever does not follow me, then those are the ruined ones."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! ایمان کی کون سی رسّی سب سے زیادہ مضبوط ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسلام کی سب سے مضبوط رسّی اللہ تعالیٰ کی خاطر دوستی رکھنا ، الله تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنا اور اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھنا ہے ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ جانتے ہو لوگوں میں سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت وہ رکھتا ہے زیادہ فضیلت والے عمل کرتا ہو ، ( یا جو عمل کے حوالے سے فضیلت رکھتا ہو ) جبکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو ( یعنی عالم ہو ) پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ابن مسعود ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ جانتے ہو لوگوں میں سے کون زیادہ علم رکھتا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ علم وہ شخص رکھتا ہے ، جو لوگوں کے اختلاف کے وقت حق کے بارے میں سب سے زیادہ بصیرت رکھتا ہو ، اگرچہ اس کا عمل تھوڑا ہو اور خواہ وہ سرین کے بل گھسٹ کر چلتا ہو ، تم سے پہلے کے لوگ اختلاف کا شکار ہو کر 72 فرقوں میں تقسیم ہو گئے تھے ، جن میں سے تین گروہوں نے نجات حاصل کی تھی اور باقی سب ہلاکت کا شکار ہو گئے تھے ، ایک وہ گروہ جس نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی اور اپنے دین اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے دین کے دین کے حوالے سے ان لوگوں کے ساتھ جہاد کیا ، ان حکمرانوں نے انہیں پکڑ کر شہید کر دیا اور ان میں ایک گروہ وہ تھا ، جس میں حکمرانوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی اور نہ ہی وہ لوگ اُن حکمرانوں کے درمیان رہ کر دوسرے لوگوں کو اللہ کے دین اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دین کی طرف دعوت دے سکتے تھے ، تو وہ مختلف علاقوں میں سفر کرنے لگے اور انہوں نے رہبانیت اختیار کر لی ، یہی وہ لوگ ہیں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اور رہبانیت اُنہوں نے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے حصول کے لیے ایجاد کی تھی ہم نے ان پر ( رہبانیت ) لازم قرار نہیں دی تھی ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص مجھ پر ایمان لائے ، میری پیروی کرے ، میری تصدیق کرے ، تو وہ اس کی اس طرح رعایت کرے گا ، جو اُس کی رعایت کا حق ہے ، اور جو شخص میری پیروی نہیں کرتا ، تو وہ لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عقیل بن جعد ہے ، امام بخاری فرماتے ہیں : وہ منکر الحدیث ہے ۔

741

Majma al-Zawaid #741

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَجَّمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ، وَمَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ مَا يَعْلَمُ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَجَّمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ: فِي الْقُرْآنِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever is asked concerning knowledge and conceals it will come on the Day of Resurrection bridled with a bit of fire; and whoever speaks concerning the Qur'an without knowledge will come on the Day of Resurrection bridled with a bit of fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس شخص سے علم کی کسی بات کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ اُسے چھپا لے ، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اسے آگ کی بنی ہوئی لگام ڈالی گئی ہو گی ، اور جو شخص علم نہ ہونے کے باوجود قرآن کے بارے میں کچھ کہے گا ، جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اُسے آگ سے بنی ہوئی لگام ڈالی گئی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے مختصر روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، جو صرف قرآن کے بارے میں ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

742

Majma al-Zawaid #742

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ كَتَمَ عَلْمًا يَعْلَمُهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ. قَالَ: هِيَ الشَّهَادَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ يُدْعَى إِلَيْهَا أَوْ لَا يُدْعَى وَهُوَ يَعْلَمُهَا، وَلَا يُرْشِدُ صَاحِبَهَا إِلَيْهَا، فَهُوَ هَذَا الْعِلْمُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَيُّوبَ الْفِرْسَانِيُّ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever conceals knowledge that he knows will be bridled on the Day of Resurrection with a bit of fire."** Ibn ʿAbbās explained: "This refers to the testimony a person holds, whether he is called to give it or not, knowing it yet not directing its rightful owner to it; that is what this knowledge is."

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص علم کی کوئی بات چھپائے ، جس کو وہ جانتا ہو ، تو اسے قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی ۔‘‘ وہ فرماتے ہیں : یہ ( یعنی اس سے مراد ) گواہی ہے ، جو کسی شخص کے پاس ہوتی ہے ، اور پھر اسے اس گواہی کے لئے بلایا جاتا ہے یا بلایا نہیں جاتا ہے ، لیکن وہ اس چیز کے بارے میں علم رکھتا ہے اور پھر وہ اُس گواہی سے متعلقہ فرد کی رہنمائی اُس کی طرف نہیں کرتا ، تو یہاں اس بات کا علم ہونا مراد ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ایوب فرسانی ہے اور وہ مجہول ہے ۔

743

Majma al-Zawaid #743

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whoever is asked about knowledge and conceals it will be bridled on the Day of Resurrection with a bit of fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس شخص سے علم کی کسی بات کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ اُسے چھپا لے ، تو قیامت کے دن اُسے آگ کی بنی ہوئی لگام ڈالی جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

744

Majma al-Zawaid #744

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَيُّمَا عَبْدٍ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا فَكَتَمَهُ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَجَّمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ هَكَذَا، وَقَالَ فِي الْكَبِيرِ: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ». وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ النَّضْرُ بْنُ سَعِيدٍ، ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ. وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Whichever servant is granted knowledge by Allah and conceals it will meet Allah on the Day of Resurrection bridled with a bit of fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس بھی بندے کو اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ اُس کو چھپا لے ، تو جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کو آگ کی بنی ہوئی لگام ڈالی گئی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس طرح نقل کی ہے جبکہ معجم کبیر میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جس شخص سے علم کی کسی بات کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ اُسے چھپا لے ، تو قیامت کے دن اُسے آگ کی بنی ہوئی لگام ڈالی جائے گی ۔‘‘ معجم اوسط کی سند میں ایک راوی نضر بن سعید ہے ، جسے عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ مجھے کبیر کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔

745

Majma al-Zawaid #745

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ جِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَدْ أُلْجِمَ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَسَّانُ بْنُ سِيَاهٍ، ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَابْنُ حِبَّانَ وَالدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever is asked concerning knowledge and conceals it will be brought on the Day of Resurrection having been bridled with a bit of fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص سے علم کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپا لے ، جب اُس شخص کو قیامت کے دن لایا جائے گا تو اُسے آگ کی لگام ڈالی گئی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسان بن سیاہ ہے جسے ابن عدی ، ابن حبان اور دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

746

Majma al-Zawaid #746

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ الْمِدْحَاسِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ عَلِمَ شَيْئًا فَلَا يَكْتُمْهُ، وَمَنْ دَمَعَتْ عَيْنَاهُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ لَمْ يَحِلَّ لَهُ أَنْ يَلِجَ النَّارَ أَبَدًا إِلَّا تَحِلَّةَ الرَّحْمَنِ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي جَهَنَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ قَالَ قَالَ النَّسَائِيُّ: كَذَّابٌ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: صَدُوقٌ. وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn al-Midḥās رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said: > **"Whoever knows something, let him not conceal it; and whoever's eyes shed tears out of the fear of Allah, it is not lawful for him to enter the Fire ever, except to fulfill the oath of the Most Merciful; and whoever fabricates a lie against me, let him take his seat in Hellfire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن مدحاس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "" جو شخص کسی چیز کا علم رکھتا ہو تو وہ اسے نہ چھپائے اور جس شخص کے آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے آنسو جاری ہو جائیں ، اس شخص کے لئے یہ بات حلال نہیں ہو گی کہ وہ کبھی بھی جہنم میں داخل ہو ، البتہ رحمن کی بات پوری کرنے کا معاملہ مختلف ہے اور جو شخص میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اسے جہنم میں موجود گھر تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن عبدالحمید ہے ، امام نسائی فرماتے ہیں : یہ کذاب ہے ، ابن ابوحاتم کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

747

Majma al-Zawaid #747

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَثَلُ الَّذِي يَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ ثُمَّ لَا يُحَدِّثُ بِهِ كَمَثَلِ الَّذِي يَكْنِزُ كَنْزًا، فَلَا يُنْفِقُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"The likeness of the one who learns knowledge and then does not narrate it is like the likeness of one who hoards a treasure and does not spend from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص علم حاصل کرتا ہے اور پھر اسے بیان نہیں کرتا ہے ، اُس کی مثال اس شخص کی مانند ہے جو خزانہ اکٹھا کر لیتا ہے ۔ اور خرچ نہیں کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

748

Majma al-Zawaid #748

عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَأَثْنَى عَلَى طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: "" مَا بَالُ أَقْوَامٍ لَا يُفَقِّهُونَ جِيرَانَهُمْ، وَلَا يُعَلِّمُونَهُمْ، وَلَا يَعِظُونَهُمْ، وَلَا يَأْمُرُونَهُمْ، وَلَا يَنْهَوْنَهُمْ. وَمَا بَالُ أَقْوَامٍ لَا يَتَعَلَّمُونَ مِنْ جِيرَانِهِمْ، وَلَا يَتَفَقَّهُونَ، وَلَا يَتَّعِظُونَ. وَاللَّهُ لَيُعَلِّمَنَّ قَوْمٌ جِيرَانَهُمْ، وَيُفَقِّهُونَهُمْ وَيَعِظُونَهُمْ، وَيَأْمُرُونَهُمْ، وَيَنْهَوْنَهُمْ، وَلْيَتَعَلَّمَنَّ قَوْمٌ مِنْ جِيرَانِهِمْ، وَيَتَفَقَّهُونَ، وَيَتَفَطَّنُونَ، أَوْ لَأُعَاجِلَنَّهُمُ الْعُقُوبَةَ ""، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ قَوْمٌ: مَنْ تَرَوْنَهُ عَنَى بِهَؤُلَاءِ؟ قَالَ: الْأَشْعَرِيِّينَ، هُمْ قَوْمٌ فُقَهَاءُ، وَلَهُمْ جِيرَانٌ جُفَاةٌ مِنْ أَهْلِ الْمِيَاهِ وَالْأَعْرَابِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ الْأَشْعَرِيِّينَ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَكَرْتَ قَوْمًا بِخَيْرٍ، وَذَكَرْتَنَا بِشَرٍّ، فَمَا بَالُنَا؟ فَقَالَ: "" لَيُعَلِّمَنَّ قَوْمٌ جِيرَانَهُمْ، وَلَيُفَقِّهَنَّهُمْ، وَلَيُفَطِّنَنَّهُمْ، وَلَيَأْمُرَنَّهُمْ، وَلَيَنْهَوْنَهُمْ، وَلَيَتَعَلَّمْنَ قَوْمٌ مِنْ جِيرَانِهِمْ، وَيَتَفَطَّنُونَ، وَيَتَفَقَّهُونَ، أَوْ لَأُعَاجِلَنَّهُمُ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا ""، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُفَطِّنُ غَيْرَنَا؟ فَأَعَادَ قَوْلَهُ عَلَيْهِمْ، وَأَعَادُوا قَوْلَهُمْ: أَنُفَطِّنُ غَيْرَنَا؟ فَقَالَ ذَلِكَ أَيْضًا، فَقَالُوا: أَمْهِلْنَا سَنَةً، فَأَمْهَلَهُمْ سَنَةً لِيُفَقِّهُونَهُمْ، وَيُعَلِّمُونَهُمْ، وَيُفَطِّنُونَهُمْ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةَ {لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ} [المائدة: 78] الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بُكَيْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: ارْمِ بِهِ. وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى. وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abzā رضي الله عنه reported: The Messenger of Allah ﷺ delivered a sermon one day in which he commended certain groups of Muslims with good words, then said: > **"What is the matter with people who do not impart understanding to their neighbors, do not teach them, do not admonish them, do not command them, and do not forbid them? And what is the matter with people who do not learn from their neighbors, do not acquire understanding, and do not take heed? By Allah, either people will teach their neighbors, impart understanding to them, admonish them, command them, and forbid them, and people will learn from their neighbors, gain discernment, and acquire understanding, or I will surely hasten punishment upon them!"** Then he ﷺ descended from the pulpit. Some people asked, "Who do you think he meant by these?" Someone said, "The Ashʿarīs; they are a people of religious understanding, whereas they have harsh neighbors from the dwellers of the watering springs and desert Bedouins." When news of this reached the Ashʿarīs, they came to the Messenger of Allah ﷺ and said, "O Messenger of Allah, you mentioned some people with praise and you mentioned us with reproach; what is our condition?" He ﷺ replied: > **"A people will surely teach their neighbors, impart understanding to them, enlighten them, command them, and forbid them; and a people will surely learn from their neighbors, gain discernment, and acquire understanding; or I will certainly hasten punishment upon them in this world."** They said, "O Messenger of Allah, are we to teach others?" He repeated his statement to them. They said again, "Are we to teach others?" He repeated it again. Then they said, "Grant us a respite of one year." So he granted them a respite of one year to impart understanding, teach, and enlighten them. Then the Messenger of Allah ﷺ recited this verse: > **"Cursed were those who disbelieved among the Children of Israel by the tongue of David and that of Jesus, the son of Mary..."** [al-Māʾidah: 78].

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بن سعد بن عبدالرحمن اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک دن نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے مسلمانوں کے مختلف گروہوں کی تعریف بیان کی ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کچھ لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ اپے پڑوسیوں کو دین کی سمجھ بوجھ نہیں سکھاتے ہیں ، انہیں تعلیم نہیں دیتے ہیں ، انہیں وعظ نہیں کرتے ہیں ، انہیں ( نیکی کا ) علم نہیں دیتے ہیں ، انہیں ( برائی سے ) منع نہیں کرتے ہیں ، اور دوسرے لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ اپنے پڑوسیوں سے علم حاصل نہیں کرتے ہیں ، سمجھ بوجھ حاصل نہیں کرتے ہیں ، نصیحت حاصل نہیں کرتے ہیں ، اللہ کی قسم ! ایک قوم کے لوگ اپنے پڑوسیوں کو تعلیم دیں گے ، سمجھ بوجھ دینگے ، انہیں نصیحت کریں گے ، انہیں ( نیکی کا حکم دیں گے ، انہیں ( برائی سے ) منع کریں گے ، اور دوسرے لوگ اپنے پڑوسیوں سے علم حاصل کریں گے ، سمجھ بوجھ حاصل کریں گے ، فہم حاصل کریں گے ، یا پھر میں انہیں سزا دوں گا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ منبر سے نیچے آ گئے ، لوگوں نے دریافت کیا : تم کیا سمجھتے ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے کون سے لوگ مراد لیے ہیں ؟ تو کسی نے جواب دیا : اشعر قبیلے کے لوگ ( مراد لیے ہیں ) کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں ، جو ( دین کی تعلیمات کی ) سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ، جبکہ ان کے پڑوس میں مختلف پانیوں کے پاس اور دیہات میں رہنے والے لوگ ایسے ہیں ، جو علم نہیں رکھتے ہیں ، اشعر قبیلے کے لوگوں کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے ایک قوم کا ذکر بھلائی کے ساتھ کیا ہے ، اور ہمارا ذکر برائی کے ساتھ کیا ہے ، ہمارا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک قوم اپنے پڑوسیوں کو تعلیم دے گی انہیں سمجھ بوجھ دے گی ، انہیں سکھائے گی ، انہیں حکم دے گی ، انہیں منع کرے گی ، اور دوسری قوم اپنے پڑوسیوں سے علم حاصل کرے گی ، سیکھے گی ، سمجھ بوجھ حاصل کرے گی ( اگر ایسا نہ ہوا ) تو میں انہیں دنیا میں سزا دوں گا ، اُن لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم دوسروں کو سکھائیں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے اُن کے سامنے اپنی بات دہرا دی ، ان لوگوں نے بھی اپنی بات دہرائی ، کیا ہم دوسروں کو سکھائیں گے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے یہی بات ارشاد فرمائی ، ان لوگوں نے عرض کی : آپ ﷺ ہمیں ایک سال کی مہلت عطا کریں ! تاکہ وہ لوگ اُن دوسرے لوگوں کو سمجھ بوجھ دیں ، تعلیم دیں اور سکھائیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ، ان پر داؤد کی زبانی لعنت کی گئی ‘‘........ الآیة یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکیر بن معروف ہے ، امام بخاری فرماتے ہیں : اس کو پھینک دو ! امام احمد نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے ، ابن عدی فرماتے ہیں : مجھے یہ توقع ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

749

Majma al-Zawaid #749

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كُلُّ بُنْيَانٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا - وَأَشَارَ بِكَفِّهِ - وَكُلُّ عِلْمٍ وَبَالٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مَنْ عَمِلَ بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، قَالَ ابْنُ حِبَّانَ: لَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ بِحَالٍ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"Every building is a burden upon its owner except what is like this—and he gestured with his palm—and all knowledge is a burden upon its possessor on the Day of Resurrection except for the one who acted upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ہر عمارت اپنے بنانے والے کے لیے وبال ہو گی ، البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے جو اس طرح ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ اور قیامت کے دن ہر علم اپنے صاحب کے لیے وبال ہو گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اس پر عمل کرئے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے ، ابن حبان کہتے ہیں : اس سے استدلال کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے ۔

750

Majma al-Zawaid #750

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تَعَلَّمُوا، فَمَنْ عَلِمَ فَلْيَعْمَلْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said: > **"O people, learn! And whoever learns, let him put his knowledge into practice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اے لوگو ! علم حاصل کرو اور جو شخص علم حاصل کر لے ، اُسے عمل بھی کرنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ یہ بات ہے کہ ابوعبیدہ نام کے راوی نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔

751

Majma al-Zawaid #751

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا يَنْبَغِي لِلْعَالِمِ أَنْ يَسْكُتَ عَلَى عِلْمِهِ، وَلَا يَنْبَغِي لِلْجَاهِلِ أَنْ يَسْكُتَ عَلَى جَهْلِهِ. قَالَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ -: {فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} [النحل: 43]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ said: > **"It is not appropriate for the scholar to remain silent regarding his knowledge, nor is it appropriate for the unlearned to remain silent regarding his lack of knowledge. Allah, Exalted is His remembrance, said: *'So ask the people of the message if you do not know'* [al-Naḥl: 43]."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ عالم کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے علم کے حوالے سے خاموشی اختیار کرے ، اور جاہل کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی جہالت کے حوالے سے خاموشی اختیار کرے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم اہل علم سے دریافت کرو ! اگر تم علم نہیں رکھتے ہو ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ۔