وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «قَالَ اللَّهُ لِدَاوُدَ: ابْنِ لِي بَيْتًا فِي الْأَرْضِ، فَبَنَى دَاوُدُ بَيْتًا لِنَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْبَيْتَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا دَاوُدُ نَصَبْتَ بَيْتَكَ قَبْلَ بَيْتِي؟ قَالَ: أَيْ رَبِّ هَكَذَا [قُلْتُ فِيمَا قَضَيْتُهُ] مَنْ مَلَكَ اسْتَأْثَرَ، ثُمَّ أَخَذَ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا تَمَّ السُّورُ سَقَطَ ثُلُثَاهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -[فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ] أَنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَنْ تَبْنِيَ لِي بَيْتًا، قَالَ: أَيْ رَبِّ لِمَ؟ قَالَ: لِمَا جَرَتْ عَلَى يَدَيْكَ مِنَ الدِّمَاءِ، قَالَ: أَيْ رَبِّ أَوَلَمْ يَكُنْ ذَاكَ فِي هَوَاكَ وَمَحَبَّتِكَ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُمْ عِبَادِي، وَأَنَا أَرْحَمُهُمْ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ: لَا تَحْزَنْ، فَإِنِّي سَأَقْضِي بِنَاءَهُ عَلَى يَدِ ابْنِكَ سُلَيْمَانَ، فَلَمَّا مَاتَ دَاوُدُ أَخَذَ سُلَيْمَانُ فِي بِنَائِهِ فَلَمَّا تَمَّ قَرَّبَ الْقَرَابِينَ وَذَبَحَ الذَّبَائِحَ وَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ: قَدْ أَرَى سُرُورَكَ بِبُنْيَانِ بَيْتِي فَسَلْنِي أُعْطِكَ قَالَ: أَسْأَلُكَ ثَلَاثَ خِصَالٍ: حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَكُ، وَمُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي وَمَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ [فِيهِ] خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ""، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَّا اثْنَتَانِ، فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ.
EnglishUnverified translation
Rafi' ibn Umayr رضي الله عنه reports hearing the Messenger of Allah ﷺ say that Allah said to Dawud عليه السلام to build Him a house upon the earth, but Dawud built a house for himself before building the commanded House, whereupon Allah revealed questioning why he had set his own house before His, to which Dawud answered that such is the decree of kingship and precedence. He then began the mosque, but when the wall was completed two-thirds fell, and he complained to Allah عزوجل, who revealed that it was not fitting for him to build His house because of blood upon his hands. When Dawud asked whether that was not in His desire and love, Allah affirmed yet declared them His servants and Himself most merciful to them, which grieved him, so Allah revealed not to grieve for its building would be decreed at the hand of his son Sulayman. When Dawud died Sulayman undertook it, and upon completion offered sacrifices and slaughtered and gathered Banu Isra'il, whereupon Allah revealed that He had seen his joy in building His house and bade him ask to be given. He asked three traits: judgment coinciding with His judgment, kingship befitting none after him, and that whoever comes to this House intending only prayer therein emerge from sins as the day his mother bore him. The Messenger of Allah ﷺ added concerning the answer: > **"Allah said to Dawud: Build Me a house upon the earth. O Dawud, you have set your house before My House? Such is what I decreed: whoever possesses gives precedence. It is not fitting that you build Me a house, because of what blood flowed upon your hands. They are My servants and I am most merciful to them. Do not grieve, for I shall decree its building upon the hand of your son Sulayman. I have seen your joy in building My House, so ask Me and I shall give you. As for two, they were given to him, and I hope the third was given to him: judgment coinciding with My judgment, and kingship befitting none after him, and whoever comes to this House intending only prayer therein emerges from his sins as the day his mother bore him."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت رافع بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام سے فرمایا تم میرے لئے زمین میں ایک گھر بنا دو حضرت داؤد نے اس گھر کو بنانے سے پہلے جس کے بارے میں انہیں حکم دیا گیا تھا اپنے لئے ایک گھر بنا لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : اے داؤد ! تم نے میرا گھر بنانے سے پہلے اپنا گھر بنا لیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار اسی طرح ہوا ہے میں نے یہ سوچا کہ میں یہ فیصلہ دے چکا ہوں کہ جو مالک ہوتا ہے وہ ترجیح دیتا ہے پھر انہوں نے مسجد کی تعمیر شروع کی جب اس کی دیواریں مکمل ہو گئیں تو اس کا دو تہائی حصہ گر گیا انہوں نے اس بات کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ تم میرے لئے گھر بناؤ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! وہ کیوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیونکہ تمہارے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے عرض کی : اے میرے پروردگار یہ سب کچھ تیری خواہش اور تیری محبت میں ہوا ہے پروردگار نے فرمایا ٹھیک ہے لیکن وہ میرے بندے تھے اور میں ان پر سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں حضرت داؤد پر یہ بات گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ تم غمگین نہ ہو میں عنقریب یہ فیصلہ دوں گا کہ اس کی تعمیر تمہارے بیٹے سلیمان کے ہاتھوں ہو گی جب حضرت داؤد کا انتقال ہو گیا تو حضرت سلیمان نے اس کی تعمیر شروع کی ‘ جب اس کی تعمیر مکمل ہوئی تو انہوں نے دیگیں تیار کروائیں جانور ذبح کروائے اور بنی اسرائیل کو اکٹھا کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ میں نے اپنے گھر کی تعمیر کے حوالے سے تمہاری خوشی کو دیکھا ہے تم مجھ سے مانگو میں تمہیں عطا کروں گا انہوں نے عرض کی : میں تجھ سے تین چیزوں کا سوال کرتا ہوں فیصلہ دینے کی ایسی صلاحیت جو تیرے حکم کے مطابق ہو ایسی بادشاہی جو میرے بعد کسی اور کو نہ ملے اور جو شخص اس گھر میں آئے ‘ اور اس کا مقصد صرف یہاں نماز ادا کرنا ہو تو وہ اپنے گناہوں سے یوں نکل جائے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک دو چیزوں کا تعلق ہے ‘ تو وہ انہیں دے دی گئیں تھیں اور مجھے یہ امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں دے دی گئی ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ایوب بن سوید رملی ہے ، جس پر روایت ایجاد کرنے کا الزام ہے ۔