Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 94 · Chapter 1051

صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام

پرنالوں کا پانی سڑک کی طرف نکال دینے کا جواز، لیکن شرط یہ ہے کہ گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو

1 hadith in this chapter

6096

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6096

Sahih

۔ (۶۰۹۶)۔ عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ أَخِیْ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ: کَانَ لِلْعَبَّاسِ مِیْزَابٌ عَلٰی طَرِیْقِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَلَبِسَ عُمَرُ ثِیَابَہُیَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَقَدْ کَانَ ذُبِحَ لِلْعَبَّاسِ فَرْخَانِ فَلَمَّا وَافَی الْمِیْزَابَ صُبَّ مَائٌ بِدَمِ الْفَرْخَیْنِ فَأَصَابَ عُمَرَ، وَفِیْہِ دَمُ الْفَرْخَیْنِ، فَأَمَرَ عُمَرُ بِقَلْعِہِ ثُمَّ رَجَعَ عُمَرُ فَطَرَحَ ثِیَابَہُ وَلَبِسَ ثِیَابًا غَیْرَ ثِیَابِہِ ثُمَّ جَائَ فَصَلّٰی بِالنَّاسِ فَأَتَاہُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَلْمَوْضِعُِ الَّذِیْ وَضَعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ عُمَرُ لِلْعَبَّاسِ: وَأَنَا أَعْزِمُ عَلَیْکَ لَمَا صَعِدْتَّ عَلٰی ظَہْرِیْ حَتّٰی تَضَعَہُ فِی الْمَوْضِعِ الَّذِیْ وَضَعَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَفَعَلَ ذٰلِکَ الْعَبَّاسُ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبید اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ایک پر نالہ تھا، اس کا پانی راستے پر گرتا تھا، ایک بار یوں ہوا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جمعہ کے دن لباس پہنا اور وہاں سے گزرے، اُدھر سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دو چوزے ذ بح کئے گئے تھا، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پرنالے کے نیچے پہنچے تو چوزوں کے خون والا پانی اُن پر گرا، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس پرنالے کو وہاں سے اکھاڑنے کاحکم دے دیا اور خود واپس گھر لو ٹ کر کپڑے تبدیل کئے اور پھر تشر یف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی، تب سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس آئے اور کہا: اللہ کی قسم! یہ وہ جگہ ہے، جہاں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود پرنالہ لگایا تھا، یہ سن کر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تو پھر میں تم سے پر زور بات کرتا ہوں کہ تم میری کمر پر چڑھو اور اس پرنالے کو اس جگہ پر نصب کر دو، جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لگایا تھا، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایسے ہی کیا۔