Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 94 · Chapter 1050

صلح کے مسائل اور عہد و امان کے احکام

جب راستے کے بارے میں لوگوںکا اختلاف ہو جائے تو کتنا راستہ چھوڑا جائے گا

4 hadiths in this chapter

6092

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6092

Sahih

۔ (۶۰۹۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِی الطَّرِیْقِ فَدَعُوْا سَبْعَ أَذْرُعٍ ثُمَّ ابْنُوْا، وَمَنْ سَئَلَہُ جَارُہُ أَنْ یَدْعَمَ عَلٰی حَائِطِہِ فَلْیَدَعْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب راستے کے بارے میں تمہارا اختلاف ہو جائے تو سات ہاتھ چھوڑ کر عمارتیں تعمیر کر لو، اور جو اپنے پڑوسی سے اس کی دیوارپر شہتیر رکھنے کا مطالبہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو رکھنے دے۔

6093

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6093

Sahih

۔ (۶۰۹۳)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ، وَلِلرَّجُلِ أَنْ یَجْعَلَ خَشَبَۃً فِیْ حَائِطِ جَارِہِ، وَالطَّرِیْقُ الْمِیْتَائُ سَبْعَۃُ اَذْرُعٍ۔)) (مسند احمد: ۲۸۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (اپنے بھائی کو اس کے حق میں کمی کر دینے والا ) نقصان پہچانا اور (پہنچائی گئی اذیت سے ) زیادہ ضرر پہنچانا جائز نہیں اور آدمی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کی دیوار پر شہتیر وغیرہ رکھ لے اور آمد ورفت والا راستہ سات ہاتھ چھوڑناہے۔

6094

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6094

Sahih

۔ (۶۰۹۴)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا اخْتَلَفُوْا فِیْ الطَّرِیْقِ رُفِعَ مِنْ بَیْنِہِمْ سَبْعَۃُ أَذْرُعٍ۔)) (مسند احمد: ۷۱۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگوں میں راستہ کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو درمیان سے سات ہاتھ چھوڑا جائے گا۔

6095

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6095

Sahih

۔ (۶۰۹۵)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی فِی الرَّحْبَۃِ تَکُوْنُ بَیْنَ الطَّرِیْقِ ثُمَّ یُرِیْدُ أَھْلُہَا الْبُنْیَانَ فِیْہَا، فَقَضٰی أَنْ یَتْرُکَ لِلطَّرِیْقِ فِیْہَا سَبْعَ أَذْرُعٍ، قَالَ: وَکَانَتْ تِلْکَ الطَّرِیْقُ تُسَمَّی الْمِیْتَائَ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ راستے میں پڑنی والی ایک کھلی جگہ تھی، جب اس کے مالکوں نے وہاں تعمیر کرنا چاہی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ سات ہاتھ راستہ چھوڑا جائے، اس راستے کو آمدورفت والا رستہ کہا جاتا تھا۔