Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 1024

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

تفاضل کا بیان اور جن چیزوں کو ماپا اور جن کا وزن نہ کیا جا سکتا ہو، ان میں ادھار کا اور حیوان کے عوض گوشت کی بیع کا بیان

5 hadiths in this chapter

5997

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5997

Sahih

۔ (۵۹۹۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عبدِ اللّٰہِ الاَنصارِیِّ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بیعِ الْحَیْوَانِ بالْحَیْوَانِ نَسِیْئَۃً، اِثْنَیْنِ بوَاحدٍ وَلَا بَأْسَ بِہٖیَدًا بِیَدٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ادھار پر حیوان کے عوض حیوان یعنی دو کے بدلے ایک جانور کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے، اگر نقد و نقد ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔

5998

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5998

Sahih

۔ (۵۹۹۸)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی عَنْ بَیْعِ الْحَیْوَانِ بِالْحَیْوَانِ نَسِیْئَۃً۔ (مسند احمد: ۲۱۲۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ادھار پر حیوان کے عوض حیوان کی تجارت کرنے سے منع کیا ہے۔

5999

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5999

Sahih

۔ (۵۹۹۹)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سمرہ بن جندب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی روایت بیان کی ہے۔

6000

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6000

Sahih

۔ (۶۰۰۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ صَفِیَّۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا وَقَعَتْ فِیْ سَہْمِ دِحْیَۃَ الْکَلْبِیِّ، فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَدْ وَقَعَتْ فِیْ سَہْمِ دِحْیَۃَ جَارِیَۃٌ جَمِیْلَۃٌ، فَاشْتَرَاھاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَبْعَۃِ أَرْؤُسٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، سیدنا دحیہ کلبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حصہ میں آ گئی تھیں، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک خوبصورت لونڈی سیدنا دحیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حصہ میں آ گئی ہے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے سات افرادکے عوض خرید لیا تھا۔

6001

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6001

Sahih

۔ (۶۰۰۱)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَرِیْشِ قَالَ: سَاَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ: إِنَّا بِأَرْضٍ لَیْسَ فِیْہَا دِیْنَارٌ وَلَا دِرْھَمٌ، وَإِنَّمَا نُبَایِعُ بِالْإِبِلِ وَالْغَنَمِ إِلٰی اَجَلٍ فَمَا تَرٰی فِیْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: عَلَی الْخَبِیْرِ سَقَطْتَّ، جَہَّزَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَیْشًا عَلٰی اِبِلٍ مِنْ اِبِلِ الصَّدَقَۃِ حَتّٰی نَفِدَتْ وَبَقِیَ نَاسٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اشْتَرِ لَنَا إِبِلًا بِقَلَائِصَ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَۃِ اِذَا جَائَ تْ حَتّٰی نُؤَدِّیْہَا اِلَیْہِمْ۔)) فَاشْتَرَیْتُ الْبَعِیْرَ بِالْاِثْنَیْنِ وَالثَّلَاثِ قَلَائِصَ حَتّٰی فَرَغْتُ، فَأَدّٰی ذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۵۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عمر بن حریش کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمروبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے پوچھا کہ ہم ایک ایسے علاقے میں ہیں کہ جہاں دینارہے نہ درہم، اس لیے ہم ادھار کی ایک مدت تک کے لئے اونٹ اور بکریوں کا لین دین کرتے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تو نے اس مسئلہ کے بارے میں باخبر آدمی سے سوال کیا ہے، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقہ کے اونٹوں سے ایک لشکر تیار کیا، مگر ابھی تک تیاری مکمل نہ ہوئی تھی کہ اونٹ ختم ہوگئے، جبکہ لوگوں کی ضرورت ابھی تک باقی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: ہمارے لئے صدقہ کی اونٹنیوں کے عوض اونٹ خرید لو،جب میسر آئیں گی تو ہم مالکان کو ادا کردیں گے۔ پھر میں نے دو دو تین تین اونٹنیوں کے عوض ایک ایک اونٹ خریدا،یہاں تک کہ تعداد مکمل ہو گئی، پھر جب صدقہ کے اونٹ آئے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ ادا کر دیئے۔