Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 1023

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

بوقت ِ تجارت اناج کے برابر برابر ہونے کا بیان

5 hadiths in this chapter

5992

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5992

Sahih

۔ (۵۹۹۲)۔ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْعَدَوِیِّ أَنَّہُ أَرْسَلَ غُلَامًا لَہُ بِصَاعٍ مِنْ قَمْحٍ فَقَالَ لَہُ: بِعْہُ ثُمَّ اشْتَرِ بِہِ شَعِیْرًا، فَذَھَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِیَادَۃَ بَعْضِ صَاعٍ فَلَمَّا جَائَ مَعْمَرًا أَخْبَرَہُ بِذٰلِکَ فَقَالَ لَہُ مَعْمَرٌ: أَفَعَلْتَ؟ اِنْطَلِقْ فَرُدَّہُ وَلَا تَأْخُذْ اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَاِنِّیْ کُنْتُ أَسْمَعُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ۔)) وَکَانَ طَعَامُنَا یَوْمَئِذٍ الشَّعِیْرَ، قِیْلَ: فَإِنَّہُ لَیْسَ مِثْلَہُ، قَالَ: إِنِّیْ أَخَافُ أَنْ یُضَارِعَ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معمر بن عبداللہ عدوی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک غلام کوبھیجا کہ وہ گندم کا ایک صاع لے جائے اور اسے پہلے فروخت کرے اور پھر اس کے عوض جَو خرید کر لائے، پس وہ غلام گیا اور ایک صاع سے زیادہ جو خرید کر آ گیا، جب وہ سیدنا معمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اورسودے کے بارے میں ان کو بتایا تو انھوں نے پوچھا: کیا تو واقعی اس طرح کر کے آیا ہے؟ واپس چل اور یہ سودا واپس کر دے اور اس کے عوض برابر برابر ہی لینا ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اناج کے بدلے اناج فروخت کرتے وقت برابر برابر ہو۔ اس وقت ہمارا کھانا جَو ہوتا تھا، کسی نے کہا: یہ تو ہم جنس ہی نہیں ہے، لیکن سیدنا معمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے مشابہت ہو جائے۔

5993

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5993

Sahih

۔ (۵۹۹۳)۔ عَنْ اَبِیْ دُھْقَانَۃَ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ: أَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَیْفٌ، فَقَالَ لِبِلَالٍ: ((إِئْتِنَا بِطَعَامٍ۔)) فَذَھَبَ بِلَالٌ فَأَبْدَلَ صَاعَیْنِ مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ جَیِّدٍ وَکَانَ تَمْرُھُمْ دُوْنًا فَأَعْجَبَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّمْرُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ أَیْنَ ھٰذَا التَّمْرُ؟)) فَأَخْبَرَہُ أَنَّہُ أَبْدَلَ صَاعًا بِصَاعَیْنِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (رُدَّ عَلَیْنَا تَمْرَنَا۔)) (مسند احمد: ۴۷۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابودہقانہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں ایک مہمان آیا، آپ نے سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ سو وہ گئے اور کھجوروں کے دو صاع دے کر ان کے بدلے میں اچھی کھجوروں کا ایک صاع لیا، ان کی اپنی کھجوریں ناقص تھیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ کھجوریں بہت پسند آئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : یہ کھجور کہاں سے آئی ہے؟ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس نے دوصاع کے عوض اِن کھجوروں کا ایک صاع لیا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہماری کھجوریں واپس لے کر آؤ۔

5994

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5994

Sahih

۔ (۵۹۹۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُتِیَ بِتَمْرٍ رَیَّانَ وَکَانَ تَمْرُ نَبِیِّ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَمْرًا بَعْلًا فِیْہِیَبْسٌ، فَقَالَ: ((أَنّٰی لَکُمْ ھٰذَا التَّمْرُ؟)) فَقَالُوْا: ھٰذَا تمرٌ اِبْتَعْنَا صَاعًا بِصَاعَیْنِ مِنْ تَمْرِنَا، فقَالَ: النَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَصْلُحُ ذَالِکَ، وَلٰکِنْ بِعْ تَمْرَکَ ثُمَّ ابْتَعْ حَاجَتَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ترو تازہ اور سیرابی کھجوریں لائی گئیں جبکہ آپ کی کھجوروں بارانی تھیں اور ان میں خشکی آ گئی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ کھجوریں کہاں سے آئی ہیں۔ لوگوں نے کہا: جی ہم نے دو صاع دے کر ان کھجوروں کا ایک صاع لیا ہے، آپ نے فرمایا: یہ سودا درست نہیں ہے، پہلے تم اپنی کھجوریں علیحدہ بیچو، پھر اس کی قیمت سے اس قسم کی اپنی ضرورت پوری کرو۔

5995

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5995

Sahih

۔ (۵۹۹۵)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: کُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ، قَالَ یَزِیْدُ: تَمْرًا مِنْ تَمْرِ الْجَمْعِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَبِیْعُ الصَّاعَیْنِ بِالصَّاعِ فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالَ: ((لا صَاعَیْ تَمْرٍ بِصَاعٍ، وَلَا صَاعَیْ حِنْطَۃٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْھَمَیْنِ بِدِرْھَمٍ۔)) قَالَ یَزِیْدٌ: ((لَاصَاعَا تَمْرٍ بِصَاعٍٍ وَلَا صَاعَا حِنْطَۃٍ بِصَاعٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں عہد ِ نبوی میں ملی جلی کھجوریں دی جاتی تھیں، اس لیے ہم ان میں سے دو صاع دے کر (اچھی کھجوروں) کا ایک صاع خریدتے تھے، لیکن جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھجوروں کے دو صاع ایک صاع کے بدلے میں نہیں، گندم کے دو صاع ایک صاع کے عوض نہیں، چاندی کے دو درہم ایک درہم کے بدلے میں نہیں۔

5996

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5996

Sahih

۔ (۵۹۹۶)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَسَمَ بَیْنَہُمْ طَعَامًا مُخْتَلِفًا بَعْضُہُ أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ، قَالَ: فَذَھَبْنَا نََتَزَایَدُ بَیْنَنَا، فَمَنَعَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ نَتَبَایَعَہُ اِلَّا کَیْلًا بِکَیْلٍ لَا زِیَادَۃَ فِیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے درمیان ایسا اناج تقسیم کیا کہ جس کی کچھ مقدار دوسری سے بہتر تھی، اس وجہ سے ہم نے آپس میں کمی بیشی کے ساتھ اس کی بیع شروع کر دی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس طرح کی بیع کرنے سے منع کر دیا، الا یہ کہ وہ ماپ میں برابر ہوں اور کسی طرف سے کوئی مقدار میں زیادتی نہ ہو۔