Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 1012

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

اس جانور کا بیان، جس کا دودھ روکا گیا ہو

5 hadiths in this chapter

5933

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5933

Sahih

۔ (۵۹۳۳)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَیَبْلُغُ بِہٖقَالَ: قَالَرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَلَقَّوُا الْبَیْعَ وَلَا تُصَرُّوْا الْغَنَمَ وَالْاِبِلَ لِلْبَیْعِ، فَمَنِ ابْتَاعَہَا بَعْدَ ذٰلِکَ فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظَرَیْنِ اِنْ شَائَ أَمْسَکَہَا وَاِنْ شَائَ رَدَّھَا بِصَاعِ تَمْرٍ لَا سَمْرَائَ۔)) (مسند احمد: ۷۳۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سامان تجارت لانے والے قافلوں کو (منڈی یا بازار میں پہنچنے سے پہلے راستوں میں جا کر) نہ ملو اور نہ بکریوں اور اونٹنیوں کو بیچنے کے لیے ان کا دودھ روکو، پس جو شخص ایسا جانور خرید لے گا تو اس کو دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار ہو گا، اگر وہ چاہے تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رہنے دے اور چاہے تو اس کو واپس کر دے، لیکن ایک صاع کھجور کا بھی ساتھ واپس کرے، نہ کہ گندم کا۔

5934

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5934

Sahih

۔ (۵۹۳۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَنِ اشْتَرٰی لِقْحَۃً مُصَرَّاۃً اَوْ شَاۃً مُصَرَّاۃً فَحَلَبَہَا فَہُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَیْنِ بِالْخِیَارِ اِلٰی أَنْ یَحُوْزَھَا أَوْ یَرُدَّھَا وَإِنَائً مِنْ طَعَامٍ۔)) (مسند احمد: ۷۵۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے وہ اونٹنی یا بکری خرید لی، جس کادودھ روکا گیا ہو، تو اسے دو معاملے میں ایک کا اختیار ہو گا، یا تو اس کو اپنی ملکیت میں رکھ لے یا واپس کر دے، لیکن اس کے ساتھ (صاع کے بقدر) برتن اناج کا بھی دے۔

5935

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5935

Sahih

۔ (۵۹۳۵)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یُتَلَقّٰی جَلَبٌ وَلَایَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَمَنِ اشْتَرٰی شَاۃً مُصَرَّاۃً أَوْ نَاقَۃً فَہُوَ بِآخِرِ النَّظَرَیْنِ اِذَا ھُوَ حَلَبَ إِنْ رَدَّھَا رَدَّ مَعَہَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، قَالَ الْحَکَمُ: ((أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۰۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مالِ تجارت لانے والے قافلے کو راستے میں نہ ملا جائے اور نہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے اور جو آدمی دودھ روکی ہوئی بکری یااونٹنی خرید لے تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دومیں ایک اختیار ملے جائے گا، اگر وہ اس کو لوٹانا چاہے تو اناج یا کھجور کا ایک صاع بھی ساتھ لوٹائے گا۔

5936

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5936

Sahih

۔ (۵۹۳۶)۔ عَنْ اَبِیْ عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ: مَنِ اشْتَرٰی مُحَفَّلَۃً وَرُبَمَا قَالَ: شَاۃً مُحَفَّلَۃً، فَلْیَرُدَّھَا وَلْیَرُدَّ مَعَہَا صَاعًا وَنَہَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ تَلَقِّی الْبُیُوْعِ۔ (مسند احمد: ۴۰۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خریدی، وہ (اگر چاہے تو) اسے واپس لوٹا دے، لیکن اس کے ساتھ ایک صاع بھی لوٹائے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قافلوں کو راستے میں ملنے سے منع فرمایا ہے۔

5937

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5937

Zaeef

۔ (۵۹۳۷)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَالصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ: ((بَیْعُ الْمُحَفَّـلَاتِ خِلَابَۃٌ وَلَا تَحِلُّ الْخِلَابَۃُ لِمُسْلِمٍ)) (مسند احمد: ۴۱۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، جو صادق اور مصدوق ہیں، نے فرمایا: دودھ روکے ہوئے جانوروں کی بیع کرنا دھوکہ ہے اور مسلمان کے لیے دھوکہ کرنا حلال نہیں ہے۔