Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 90 · Chapter 1011

خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان

عیوب کے احکام کے ابواب عیب کو واضح کر دینے، دھوکہ نہ کرنے اور دھوکہ کرنے والے کی وعید کا بیان

7 hadiths in this chapter

5926

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5926

Zaeef

۔ (۵۹۲۶)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ مَالِکٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ سِبَاعٍ قَالَ: اِشْتَرَیْتُ نَاقَۃً مِنْ دَارِ وَاثِلَۃَ بْنِ الْاَسْقَعِ، فَلَمَّا خَرَجْتُ بِہَا َادْرَکَنَا وَاثِلَۃُ وَھُوَ یَجُرُّ رِدَائَہُ فَقَالَ: یَاعَبْدَاللّٰہِ! اِشْتَرَیْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ھَلْ بَیَّنَ لَکَ مَا فِیْہَا؟ قُلْتُ: وَمَا فِیْہَا؟ إِنَّہَا لَسَمِیْنَۃٌ ظَاھِرَۃُ الصِّحَّۃِ، قَالَ: أَرَدْتَ بِہَا سَفَرًا اَمْ أَرْدَتَ بِہَا لَحْمًا؟ قُلْتُ: بَلْ أَرَدْتُ عَلَیْہَا الْحَجَّ قَالَ: فَاِنَّ بِخُفِّہَا نَقْبًا، قَالَ: فَقَالَ صَاحِبُہَا: أَصْلَحَکَ اللّٰہُ أَیْ ھٰذَا تُفْسِدُ عَلَیَّ؟ قَالَ: إِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ یَبِیْعُ شَیْئًا اِلَّا یُبَیِّنُ مَافِیْہِ وَلَا یَحِلُّ لِمَنْ یَعْلَمُ ذٰلِکَ اِلَّا یُبَیِّنُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابوسباع کہتے ہیں: میں نے واثلہ بن اسقع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھرسے ایک اونٹنی خریدی، جب میں اسے لے کر باہر آیاتو سیدنا واثلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دوڑے اور اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے میرے پاس پہنچے اور کہنے لگے: اسے اللہ کے بندے! کیا تو نے یہ اونٹنی خرید لی ہے؟ میں نے کہا:جی ہاں، انھوں نے کہا:جس سے خریدی ہے، اس نے اس کا عیب بتایا تھا؟ میں نے کہا:اس میں کیاعیب ہے؟ بظاہر تو موٹی تازی ہے اور صحت مند لگ رہی ہے۔ انہوں نے کہا: اچھا یہ بتائیں کہ یہ سفر کے لئے خریدی ہے یاگوشت کھانے کے لئے؟ میں نے کہا: جی میں تو اس پر سوار ہوکر حج کرنا چاہتاہوں، انہوں نے کہا: اس کے پاؤ ں میں سوراخ ہے، اونٹنی کے مالک نے کہا: اللہ تیری اصلاح کرے، اب تو اس سے کیا چاہتا ہے، اس کو مجھ پر خراب کرتاہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کسی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ کوئی عیب دار چیز بیچے، مگر وہ اس کی وضاحت کر دے، (عیب) جاننے والے آدمی کے لیے حلال نہیں ہے، مگر یہ کہ وہ اس عیب کو بیان کر دے۔

5927

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5927

Sahih

۔ (۵۹۲۷)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُسْلِمُ أَخُوْ الْمُسْلِمِ لَا یَحِلُّ لاِِمْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ یُغَیِّبَ مَا بِسِلْعَتِہِ عَنْ أَخِیْہِ، إِنْ عَلِمَ بِہَا تَرَکَہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان، مسلمان کابھائی ہے، کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے اپنے سامان کا ایسا عیب چھپائے کہ اگر خریدار کو اس کا پتہ چل جائے تو وہ اس چیز کو چھوڑ دے۔

5928

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5928

Sahih

۔ (۵۹۲۸)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِرَجُلٍ یَبِیْعُ طَعَامًا فَسَأَلَہُ کَیْفَیَبِیْعُ، فَأَخْبَرَہُ فَأُوْحِیَ إِلَیْہِ: أَدْخِلْ یَدَکَ فِیْہِ، فَأَدْخَلَ یَدَہُ فَاِذَا ھُوَ مَبْلُوْلٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّ۔)) (مسند احمد: ۷۲۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے ، وہ اناج فروخت کررہاتھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ا س سے فروخت کرنے کی کیفیت دریافت کی، اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تفصیل بتائی، لیکن اُدھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بذریعہ وحی کہا گیا کہ اپنا ہاتھ اس اناج میں داخل کرو، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس میں داخل کیا تو وہ اندر سے تر تھا، پھر رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جس نے دھوکہ کیا۔

5929

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5929

Sahih

۔ (۵۹۲۹)۔ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ بْنِ نِیَارٍ قَالَ: اِنْطَلَقْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی بَقِیْعٍ الْمُصَلَّی فَأَدْخَلَ یَدَہُ فِیْ طَعَامٍ ثُمَّ أَخْرَجَہَا فَاِذَا ھُوَ مَغْشُوْشٌ أَوْ مُخْتَلِفٌ فقَالَ: ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو بردہ بن نیار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بقیع کی عیدگاہ کی طرف گیا، وہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اناج کے ایک ڈھیر میں ہاتھ داخل کیا،پھر کیا دیکھا کہ اس میں دھوکہ یا ملاوٹ کی گئی تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ہے، جس نے ہم کو دھوکہ دیا۔

5930

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5930

Sahih

۔ (۵۹۳۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِطَعاَمٍ وَقَدْ حَسَّنَہُ صَاحِبُہُ فَأَدْخَلَ یَدَہُ فِیْہِ فَاِذَا طَعَامٌ رَدِیٌّ فَقَالَ: ((بِعْ ھٰذَا عَلٰی حِدَۃٍ وَھٰذَا عَلٰی حِدَۃٍ، فَمَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا۔)) (مسند احمد: ۵۱۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اناج کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، اس کے مالک نے اس کو بہت خوبصورت انداز میں رکھا ہوا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنادست مبارک اس کے اندر داخل کیا تو کیا دیکھا کہ وہ تو ردی اناج تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اس کو علیحدہ فروخت کرو اوراس کو علیحدہ، جس نے ہم سے دھوکہ کیا،وہ ہم میں سے نہیں۔

5931

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5931

Sahih

۔ (۵۹۳۱)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ رَجُلًا حَمَلَ مَعَہُ خَمْرًا فِیْ سَفِیْنَۃٍیَبِیْعُہُ وَمَعَہُ قِرْدٌ، (قَالَ:) فَکَانَ الرَّجُلُ اِذَا بَاعَ الْخَمْرَ شَابَہُ بِالْمَائِ ثُمَّ بَاعَہُ، (قَالَ:) فَأَخَذَ الْقِرْدُ الْکِیْسَ فَصَعِدَ بِہٖفَوْقَ الْدَقَلِ (قَالَ:) فَجَعَلَ یَطْرَحُ دِیْنَارًا فِی الْبَحْرِ وَدِیْنَارًا فِی السَّفِیْنَۃِ حَتّٰی قَسَمَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے شراب لی اور اس کو فروخت کرنے کی نیت سے ایک کشتی میں سوار ہوا، جب وہ آدمی شراب بیچتا تو اس میں پانی کی ملاوٹ کر کے فروخت کرتا، اتنے میں بندر نے اس کا تھیلا پکڑا اور بادبان کے ڈنڈے پر چڑھ گیا اور ایک ایک دینار سمندر میں اور ایک ایک کشتی میں ڈالنے لگا، یہاں تک کہ سارے دینار تقسیم کر دیئے۔

5932

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5932

Sahih

۔ (۵۹۳۲)۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا أَخَافُ عَلٰی أُمَّتِیْ اِلَّا اللَّبَنَ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ بَیْنَ الرَّغْوَۃِ وَالصَّرِیْحِ۔)) (مسند احمد: ۶۶۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر وبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی امت پرمجھے سب سے زیادہ خوف دودھ کے معاملے کا ہے، کیونکہ شیطان، خالص دودھ اور جھاگ کے درمیان ہے۔