Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 9 · Chapter 91

قضائے حاجت کرنے، استنجا کرنے، پتھر استعمال کرنے اور ان کے آداب کے ابواب

قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے یا پیٹھ کرنے سے منع کرنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

506

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #506

Sahih

۔ (۵۰۶)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّبَیْدِیِّؓ قَالَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمیَقُوْلُ: ((لَا یَبُوْلُ أَحَدُکُمْ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔)) وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَّثَ النَّاسَ بِذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۸۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن حارث زبیدی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں پہلا آدمی ہوں، جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی آدمی قبلہ رخ ہو کر پیشاب نہ کرے۔ اور میں پہلا آدمی ہوں، جس نے لوگوں کو یہ حدیث بیان کی۔

507

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #507

Zaeef

۔ (۵۰۷)۔عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِیْ مَعْقِلِ الْأَسْدِیِّؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہَی أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَیْنِ بِبَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ۔ (مسند أحمد: ۱۷۹۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معقل بن ابو معقل اسدیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب یا پائخانہ کرتے وقت دو قبلوں کی طرف منہ کریں۔

508

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #508

Sahih

۔ (۵۰۸)۔عَنْ رَافِعٍِ بْنِ أَبِی اِسْحٰقَ مَوْلٰی أَبِیْ طََلْحَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا أَیُوْبَ الْأَنْصَارِیَّؓ یَقُوْلُ وَھُوَ بِمِصْرَ: مَا أَدْرِیْ کَیْفَ أَصْنَعُ بِہٰذِہِ الْکَرَایِیْسِ؟ یَعْنِیْ الْکُنُفَ، وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا ذَہَبَ أَحَدُکُمْ اِلَی الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلَا یَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ وَلَا یَسْتَدْبِرْہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ کہتے ہیں، جبکہ وہ مصر میں تھے: میں نہیں جانتا کہ میں ان طہارت خانوں کو کیسے استعمال کروں، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا ہے: جب کوئی پیشاب یا پائخانہ کرنے کے لیے جائے تو وہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ۔

509

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #509

Sahih

۔ (۵۰۹)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ أَبِیْ أَیُوْبَ الْأَنْصَارِیِّؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا أَتٰی أَحَدُکُمُ الْغَائِطَ فَلَا یَسْتَقْبِلَنَّ الْقِبْلَۃَ وَلَکِنْ لِیُشَرِّقْ أَوْ لِیُغَرِّبْ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الشَّامَ وَجَدْنَا مَرَاحِیْضَ جُعِلَتْ نَحْوَ الْقِبْلَۃِ فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُاللّٰہَ۔ (مسند أحمد: ۲۳۹۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ایوب انصاری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے آئے تو وہ قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، اسے چاہیے کہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کر لے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہم شام میں آئے تو دیکھا کہ طہارت خانے قبلہ رخ بنائے گئے تھے،پس ہم پھر جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے تھے۔

510

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #510

Sahih

۔ (۵۱۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّمَا أَنَا لَکُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ، اِذَا أَتَیْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوْا الْقِبْلَۃَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوْہَا)) وَنَہٰی عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّۃِ ((وَلَا یَسْتَطِیْبُ الرَّجُلُ بِیَمِیْنِہِ۔)) (مسند أحمد: ۷۳۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: میں تمہارے لیے والد کی طرح ہوں، جب تم قضائے حاجت کے لیے آؤ تو نہ قبلہ کی طرف منہ کیا کرو اور نہ پیٹھ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے (استنجا میں) لید اور بوسیدہ ہڈی استعمال کرنے سے منع کیا اور نیز فرمایا: آدمی دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے۔

511

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #511

Sahih

۔ (۵۱۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ سَلْمَانِ الْفَارِسِیِّؓ قَالَ: قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِکِیْنَ وَہُمْ یَسْتَہْزِئُوْنَ بِہِ: اِنَّی لَأَرٰی صَاحِبَکُمْ یُعَلِّمُکُمْ حَتَّی الْخِرَائَۃَ، قَالَ سَلْمَانُ: أَجَلْ، أَمَرَ نَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَلَا نَسْتَدْبِرَہَا) وَلَا نَسْتَنْجِیَ بِأَیْمَانِنَا وَلَا نَکْتَفِیَ بِدُوْنِ ثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ لَیْسَ فِیْھَا رَجِیْعٌ وَلَا عَظْمٌ۔ (مسند أحمد:۲۴۱۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سلمان فارسی ؓ سے مروی ہے کہ کسی مشرک نے مذاق کرتے ہوئے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا نبی تو تم لوگوں کو قضائے حاجت کے آداب تک کی تعلیم دیتا ہے۔ سیدنا سلمان ؓ نے کہا: جی بالکل، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قضائے حاجت کے وقت) قبلہ کی طرف منہ نہ کریں اور نہ پیٹھ اور دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفا نہ کریں اور ان میں کوئی لید، گوبر اور ہڈی نہیں ہونی چاہیے۔