Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 88 · Chapter 961

انسان کو پریشان کرنے والی آفات اور عوارض کے وقت کیے جائے والے اذکار کا بیان

بخشش طلب کرنے کی اور قرضہ ادا کرنے کی دعاؤں کا بیان

2 hadiths in this chapter

5580

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5580

Sahih

۔ (۵۵۸۰)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَہُنَّ غُفِرَ لَکَ مَعَ أَنَّہُ مَغْفُورٌ لَکَ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: کیا میں تجھے ایسے کلمات کی تعلیم دوں کہ جب تو ان کو ادا کرے تو تجھے بخش دیا جائے گا، حالانکہ تجھے پہلے ہی بخشا جا چکا ہے، بہرحال وہ کلمات یہ ہیں: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر اللہ، وہ بردبار اور کریم ہے، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ بلند و بالا اور عظیم ہے، اللہ تعالیٰ پاک ہے، جو کہ سات آسمانوں اور عرش عظیم کا ربّ ہے، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، جو کہ تمام جہانوں کا ربّ ہے)۔

5581

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5581

Sahih

۔ (۵۵۸۱)۔ عَنْ أَبِی وَائِلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَتٰی عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! إِنِّی عَجَزْتُ عَنْ مُکَاتَبَتِی فَأَعِنِّی، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ عَلَّمَنِیہِنَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، لَوْ کَانَ عَلَیْکَ مِثْلُ جَبَلِ صِیرٍ دَنَانِیرَ لَأَدَّاہُ اللّٰہُ عَنْکَ، قُلْتُ: بَلٰی، قَالَ: قُلْ ((اَللّٰھُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو وائل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں اپنی مکاتَبت سے عاجز آ گیا ہوں، لہذا آپ میری مدد کرو، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا میں تجھے ان کلمات کی تعلیم دوں، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سکھائے تھے، اگر تجھ پر صیر پہاڑ کے بقدر دیناروں کا بھی قرض ہوا تو اللہ تعالیٰ تیری طرف سے ادا کر دے گا، اس نے کہا: جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: یہ دعا پڑھ: اَللّٰھُمَّ اکْفِنِی بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِی بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ (اے اللہ! تو مجھے کافی ہو جا، اپنے حلال کے ساتھ، اپنے حرام سے بچا کر اور اپنے فضل سے مجھے ان افراد سے غنی کر دے، جو تیرے علاوہ ہیں)۔