Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 88 · Chapter 960

انسان کو پریشان کرنے والی آفات اور عوارض کے وقت کیے جائے والے اذکار کا بیان

پریشانی، رنج اور غم کے وقت کے اذکار کا اور اس آدمی کی دعا کا بیان، جس کو کوئی معاملہ مغلوب کر دے

7 hadiths in this chapter

5573

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5573

Sahih

۔ (۵۵۷۳)۔ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: عَلَّمَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَلِمَاتٍ أَقُولُہَا عِنْدَ الْکَرْبِ: ((اَللّٰہُ رَبِّیْ لَا أُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۶۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے رنج و غم کے وقت یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی: اللّٰہُ رَبِّی لَا أُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا (اللہ میرا ربّ ہے، میں اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا)۔

5574

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5574

Sahih

۔ (۵۵۷۴)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعَوَاتُ الْمَکْرُوبِ: اَللّٰھُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو، فَلَا تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ، أَصْلِحْ لِی شَأْنِی کُلَّہُ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۷۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے چین اور غم زدہ آدمی کی دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو، فَلَا تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ، أَصْلِحْ لِی شَأْنِی کُلَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، (اے اللہ! میں صرف تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، پس تو میری ذات کو پلک بھرکے لیے میرے سپرد نہ کر اور میرا سارا معاملہ سنوار دے، تو ہی معبودِ برحق ہے)۔

5575

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5575

Sahih

۔ (۵۵۷۵)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: (وَفِیْ لَفْظٍ: لَقَّنَنِیْ) عَلَّمَنِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا نَزَلَ بِی کَرْبٌ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: اَوْ شِدَّۃٌ) أَنْ أَقُولَ: ((لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ (وَفِیْ لَفْظٍ: اَلْحَکِیْمُ بَدْلَ الْحَلِیْمِ)، سُبْحَانَ اللّٰہِ وَتَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔)) (مسند أحمد: ۷۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی بن ابو طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بے چینی اور سختی کے وقت یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ ،سُبْحَانَ اللّٰہِ وَتَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ بردبار اور کریم ہے، اللہ پاک ہے، اللہ تعالیٰ بابرکت ہے، جو عرشِ عظیم کا ربّ ہے، اور ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا ربّ ہے)۔ ایک روایت میں الْحَلِیْم کے بجائے الْحَکِیْم کے الفاظ ہیں۔

5576

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5576

Sahih

۔ (۵۵۷۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ ہَمٌّ وَلَا حَزَنٌ، فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ، نَاصِیَتِی بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُکَ، أَسْأَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ، أَوْ عَلَّمْتَہُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ، أَوْ أَنْزَلْتَہُ فِی کِتَابِکَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِہِ فِی عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیعَ قَلْبِی، وَنُورَ صَدْرِی، وَجِلَائَ حُزْنِی، وَذَہَابَ ہَمِّی، إِلَّا أَذْہَبَ اللّٰہُ ہَمَّہُ وَحُزْنَہُ، وَأَبْدَلَہُ مَکَانَہُ فَرَجًا۔)) قَالَ: فَقِیلَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! أَلَا نَتَعَلَّمُہَا، فَقَالَ:(( بَلٰی یَنْبَغِی لِمَنْ سَمِعَہَا، أَنْ یَتَعَلَّمَہَا۔)) (مسند أحمد: ۳۷۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بھی کسی کو کوئی فکر و غم اور رنج و ملال لاحق ہو اور وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ…… وَذَہَابَ ہَمِّی، (اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہے اور میرے بارے میں تیرا فیصلہ عدل والا ہے، میں تجھ سے تیرے ہر اس خاص نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تو نے خود اپنا نام رکھا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھلایا ہے یا علم الغیب میں اسے اپنے پاس رکھنے کو ترجیح دی ہے کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کو دور کرنے والا اور میرے فکر کو لے جانے والا بنا دے)۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے فکر و غم اور رنج و ملال کو دور کرکے اس کے بدلے وسعت اور کشادگی عطا کرے گا۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، ہر سننے والے کو یاد کر لینے چاہئیں۔

5577

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5577

Sahih

۔ (۵۵۷۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّہُ زَوَّجَ ابْنَتَہُ مِنَ الْحَجَّاجِ بْنِ یُوسُفَ، فَقَالَ لَہَا: إِذَا دَخَلَ بِکِ فَقُولِی: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا حَزَبَہُ أَمْرٌ قَالَ ہٰذَا، قَالَ حَمَّادٌ: ظَنَنْتُ أَنَّہُ قَالَ: فَلَمْ یَصِلْ إِلَیْہَا۔ (مسند أحمد: ۱۷۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن جعفر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب انھوںنے حجاج بن یوسف سے اپنی بیٹی کی شادی کی تو اپنی بیٹی سے کہا: جب وہ تیرے پاس آئے تو تو نے یہ دعا پڑھنی ہے: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیمُ الْکَرِیمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ، الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ (نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، ما سوائے اللہ کے، وہ بردبار اور کریم ہے، اللہ پاک ہے، جو عرشِ عظیم کا ربّ ہے، اور ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا ربّ ہے)۔ ان کا خیال تھا کہ جب کوئی معاملہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پریشان کر دیتا تھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دعا پڑھتے تھے، حماد راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ حجاج بن یوسف اس خاتون تک نہ پہنچ پایا تھا۔

5578

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5578

Sahih

۔ (۵۵۷۸)۔ عن أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْنَا یَوْمَ الْخَنْدَقِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہَلْ مِنْ شَیْئٍ نَقُولُہُ فَقَدْ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا۔)) قَالَ: فَضَرَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ وُجُوہَ أَعْدَائِہِ بِالرِّیحِ، فَہَزَمَہُمْ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ بِالرِّیحِ۔ (مسند أحمد: ۱۱۰۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے غزوۂ والے دن کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ذکر ہے، کلیجے منہ کو آ گئے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالکل ہے، کہو: اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا (اے اللہ! ہمارے عیوب پر پردہ ڈال اور ہماری گھبراہٹوں کو امن دے)۔ پس اللہ تعالیٰ دشمنوں پر ہوا ایسی ہوا چلائی کہ اس ہوا ذریعے ان کو شکست دے دی۔

5579

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5579

Zaeef

۔ (۵۵۷۹)۔ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ حَدَّثَہُمْ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَضٰی بَیْنَ رَجُلَیْنِ فَقَالَ الْمَقْضِیُّ عَلَیْہِ لَمَّا أَدْبَرَ: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رُدُّوا عَلَیَّ الرَّجُلَ۔)) فَقَالَ: ((مَا قُلْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ یَلُومُ عَلَی الْعَجْزِ، وَلٰکِنْ عَلَیْکَ بِالْکَیْسِ، فَإِذَا غَلَبَکَ أَمْرٌ فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۴۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عوف بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ ہوا، جب وہ جانے لگا تو اس نے کہا: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ(اللہ مجھے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے کیا ذکر کیا ہے؟ اس نے کہا: جی میں نے یہ کلمات ادا کیے ہیں: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ سستی پر ملامت کرتا ہے، سب سے پہلے تجھے عقلمندی سے کام لینا چاہیے، پھر اگر کوئی معاملہ تجھ پر غالب آ جائے تو تو کہے: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ۔