Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 83 · Chapter 931

نذر کے ابواب

مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ

11 hadiths in this chapter

5369

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5369

Sahih

۔ (۵۳۶۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ:ٔ جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ أُخْتِی نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِیَۃً، قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ لَا یَصْنَعُ بِشَقَائِ أُخْتِکِ شَیْئًا لِتَخْرُجْ رَاکِبَۃً وَلْتُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۸۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیری بہن کی بدحالی کے ساتھ کوئی معاملہ سر انجام نہیں دینا، اس کو چاہیے کہ وہ سوار ہو کر جائے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔

5370

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5370

Zaeef

۔ (۵۳۷۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ عُقْبَۃَ بْنَ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ أُخْتَہُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِیَ إِلَی الْبَیْتِ وَشَکَا إِلَیْہِ ضَعْفَہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِکَ فَلْتَرْکَبْ وَلْتُہْدِ بَدَنَۃً۔)) (مسند أحمد: ۲۱۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ اس کی بہن بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی ہے، ساتھ ہی انھوں نے اس کی کمزور کا ذکر کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تیری بہن کی اس نذر سے غنی ہے، اس لیے اس کو چاہیے کہ وہ سوار ہو جائے اور ایک اونٹ بطورِ دم پیش کرے۔

5371

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5371

Sahih

۔ (۵۳۷۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَدْرَکَ شَیْخًا یَمْشِی بَیْنَ ابْنَیْہِ مُتَوَکِّئًا عَلَیْہِمَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا شَأْنُ ہٰذَا الشَّیْخِ؟)) قَالَ ابْنَاہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَانَ عَلَیْہِ نَذْرٌ، فَقَالَ لَہُ: ((ارْکَبْ أَیُّہَا الشَّیْخُ، فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِیٌّ عَنْکَ وَعَنْ نَذْرِکَ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک بزرگ کو اس حال میں پایا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کا سہارا لے کر چل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: اس بزرگ کا کیا معاملہ ہے؟ اس کے بیٹوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان پر پیدل چلنے کی نذر تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: او بزرگا! سوار ہو جا، پس بیشک اللہ تعالیٰ تجھ سے اور تیری نذر سے غنی ہے۔

5372

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5372

Sahih

۔ (۵۳۷۲)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَغَنِیٌّ اَنْ یُعَذِّبَ ھٰذَا نَفْسَہٗ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۰۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اس سے غنی ہے کہ یہ آدمی اپنے آپ کو عذاب دے۔

5373

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5373

Sahih

۔ (۵۳۷۳)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ أُخْتِی نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِیَ إِلٰی بَیْتِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَمَرَتْنِی أَنْ أَسْتَفْتِیَ لَہَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَاسْتَفْتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لِتَمْشِ وَلْتَرْکَبْ۔)) قَالَ: وَکَانَ أَبُو الْخَیْرِ لَا یُفَارِقُ عُقْبَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۵۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری بہن نے بیت اللہ کی طرف پیدل چل کر جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت کروں، پس جب میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ چل بھی سکتی ہے اور سوار بھی ہو سکتی ہے۔ ابو الخیر راوی اپنے شیخ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے جدا نہیں ہوتے تھے۔

5374

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5374

Zaeef

۔ (۵۳۷۴)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا): أَنَّ أُخْتَہُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِیَ حَافِیَۃً غَیْرَ مُخْتَمِرَۃٍ، فَسَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ لَا یَصْنَعُ بِشَقَائِ أُخْتِکَ شَیْئًا، مُرْہَا فَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَرْکَبْ وَلْتَصُمْ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کی بہن نے نذر مانی کہ وہ ننگے پاؤں اور دوپٹہ لیے بغیر چلے گی، جب اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تیری بہن کی بدحالی سے کوئی معاملہ سر انجام نہیں دینا، اس کو کہو کہ وہ دوپٹہ اوڑھ لے اور سوار ہو جائے اور تین روزے رکھ لے۔

5375

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5375

Sahih

۔ (۵۳۷۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَۃَ نَذَرَتْ فِی ابْنٍ لَہَا لَتَحُجَّنَّ حَافِیَۃً بِغَیْرِ خِمَارٍ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((تَحُجُّ رَاکِبَۃً مُخْتَمِرَۃً وَلْتَصُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بہن نے اپنے ایک بیٹے کے سلسلے میں نذر مانی کہ وہ ضرور ضرور ننگے پاؤں اور بغیر دو پٹے کے حج کرے گی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس بات کا علم ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ سوار ہو کر حج کے لیے جائے اور دوپٹہ بھی اوڑھ لے، البتہ روزے رکھ لے۔

5376

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5376

Sahih

۔ (۵۳۷۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَدْرَکَ رَجُلَیْنِ وَہُمَا مُقْتَرِنَانِ یَمْشِیَانِ إِلَی الْبَیْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا بَالُ الْقِرَانِ؟)) قَالَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَذَرْنَا أَنْ نَمْشِیَ إِلَی الْبَیْتِ مُقْتَرِنَیْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ ہٰذَا نَذْرًا فَقَطَعَ قِرَانَہُمَا۔)) قَالَ سُرَیْجٌ فِی حَدِیثِہِ: ((إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِیَ بِہِ وَجْہُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے دو افراد کو پایا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اور بیت اللہ کی طرف چل رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اس رسی کی کیا وجہ ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہم نے نذر مانی تھی کہ ایک دوسرے کے ساتھ بندھ کر بیت اللہ کی طرف چل کر جائیں گے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو کوئی نذر نہیں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رسی کو کاٹ دیا، سریج نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نذر تو صرف وہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کی جائے۔

5377

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5377

Sahih

۔ (۵۳۷۷)۔ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّہُ حَجَّ مَعَ ذِی قَرَابَۃٍ لَہُ مُقْتَرِنًا بِہِ، فَرَآہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَا ہٰذَا؟)) قَالَ: إِنَّہُ نَذْرٌ فَأَمَرَ بِالْقِرَانِ أَنْ یُقْطَعَ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک دیہاتی آدمی اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتا ہے کہ وہ اپنے ایک رشتہ دار کے ساتھ اس طرح حج کے لیے جا رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ بندھا ہوا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو پوچھا: یہ کیاہے؟ اس نے کہا: یہ نذر ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رسی کو کاٹ دینے کا حکم دیا۔

5378

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5378

Sahih

۔ (۵۳۷۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ جَدِّہِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَظَرَ إِلٰی أَعْرَابِیٍّ قَائِمًا فِی الشَّمْسِ وَہُوَ یَخْطُبُ، فَقَالَ: ((مَا شَأْنُکَ؟)) قَالَ: نَذَرْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْ لَا أَزَالَ فِی الشَّمْسِ حَتّٰی تَفْرُغَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ ہٰذَا نَذْرًا إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِیَ بِہِ وَجْہُ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۶۹۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بدّو کو دیکھا کہ وہ دھوپ میں کھڑا ہے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطاب فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی ہے کہ آپ کے اس خطاب سے فارغ ہونے تک دھوپ میں کھڑا رہوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کوئی نذر نہیں ہے، نذر تو وہ ہوتی ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی تلاش کی جائے۔

5379

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5379

Sahih

۔ (۵۳۷۹)۔ عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أَبِی إِسْرَائِیلَ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ وَأَبُو إِسْرَائِیلَ یُصَلِّی، فَقِیلَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ہُوَ ذَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَا یَقْعُدُ وَلَا یُکَلِّمُ النَّاسَ وَلَا یَسْتَظِلُّ وَہُوَ یُرِیدُ الصِّیَامَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیَقْعُدْ وَلْیُکَلِّمِ النَّاسَ وَلْیَسْتَظِلَّ وَلْیَصُمْ)) (مسند أحمد: ۱۷۶۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو اسرائیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ ابو اسرائیل نماز پڑھ رہا تھا، کسی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! یہ ابو اسرائیل ہے، یہ نہ بیٹھتا ہے، نہ لوگوں سے بات کرتا ہے، نہ سائے میں آتا ہے اور یہ روزے کا ارادہ بھی رکھتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے، لوگوں سے بات کرے، سائے میں آ جائے اور روزہ رکھے لے۔