Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 83 · Chapter 930

نذر کے ابواب

اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو

8 hadiths in this chapter

5361

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5361

Sahih

۔ (۵۳۶۱)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَتِ الْعَضْبَائُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِیْ عَقِیْلٍ، وَکانَتْ مِنْ سَوَابِقِ الْحَاجِّ، فَأُسِرَ الرَّجُلُ وَأُخِذَتِ الْعَضْبَائُ مَعَہُ… الْحَدِیْثَ وَفِیْہِ: وَحَبَسَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَضْبَائَ لِرَحْلِہِ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِکِینَ أَغَارُوْا عَلَی سَرْحِ الْمَدِینَۃِ، فَذَہَبُوا بِہَا وَکَانَتْ الْعَضْبَائُ فِیہِ، قَالَ: وَأَسَرُوا امْرَأَۃً مِنْ الْمُسْلِمِینَ، قَالَ: فَکَانُوا إِذَا نَزَلُوا أَرَاحُوا إِبِلَہُمْ بِأَفْنِیَتِہِمْ، قَالَ: فَقَامَتِ الْمَرْأَۃُ ذَاتَ لَیْلَۃٍ بَعْدَمَا نُوِّمُوا فَجَعَلَتْ کُلَّمَا أَتَتْ عَلَی بَعِیرٍ رَغَا حَتّٰی أَتَتْ عَلَی الْعَضْبَائِ، فَأَتَتْ عَلٰی نَاقَۃٍ ذَلُولٍ مُجَرَّسَۃٍ فَرَکِبَتْہَا ثُمَّ وَجَّہَتْہَا قِبَلَ الْمَدِینَۃِ، قَالَ: وَنَذَرَتْ إِنْ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا، فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِینَۃَ عُرِفَتْ النَّاقَۃُ فَقِیلَ نَاقَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَأُخْبِرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَذْرِہَا أَوْ أَتَتْہُ فَأَخْبَرَتْہُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِئْسَمَا جَزَتْہَا أَوْ بِئْسَمَا جَزَیْتِیہَا، إِنِ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْجَاہَا عَلَیْہَا لَتَنْحَرَنَّہَا۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، وَلَا فِیمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَم۔)) (مسند أحمد: ۲۰۱۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عضباء اونٹنی، بنو عقیل قبیلے کے آدمی کی تھی اور وہ حاجیوں کے قافلے سے آگے گرز جانے والی اونٹنی تھی، جب یہ بندہ قیدی ہو گیاور اس کی اونٹنی پکڑ لی گئی، …الحدیث، آگے چل کر اس حدیث میں ہے: رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عضباء اونٹنی کو اپنی سواری کے لیے روک لیا، پھر جب مشرکوں نے مدینہ کے مویشیوں کو لوٹا تو ان میں یہ اونٹنی بھی تھی، انھوں نے ایک خاتون کو بھی قیدی کر لیا تھا، جب وہ راستے میںپڑاؤ ڈالتے تو اپنے اونٹوں کو اپنے صحنوں میں بٹھا دیتے، ایک رات کو ان کے سو چکنے کے بعد وہ خاتون اٹھ کر چل پڑی، جب وہ کسی اونٹ کے پاس آتی تو وہ آواز نکالتا، یہاں تک کہ وہ عضباء اونٹنی تک آ پہنچی، یہ ایک مطیع اور سدھائی ہوئی اونٹنی تھی، وہ اس پر سواری ہوئی اور اس کو مدینہ کی طرف متوجہ کیا اور اس نے یہ نذر بھی مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو نجات دی تو وہ اس اونٹنی کو نحر کرے گی، جب وہ مدینہ پہنچی تو اس اونٹنی کو پہچان لیا گیا اور کہا جانے لگا: یہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اونٹنی ہے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کی نذر کا بتلایا گیا، یا جب وہ خاتون آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور اپنی نذر کے بارے میں بتلایا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تو اس اونٹنی کو برا بدلہ دیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے ذریعے نجارت دلا رہا ہے اور یہ اس کو نحر کرنے کی نذر مان رہی ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مانی گئی ہو اور جس کا آدمی مالک ہی نہ ہو۔

5362

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5362

Sahih

۔ (۵۳۶۲)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ أَخْبَرَنَا یُونُسُ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ جَائَ إِلَی الْحَسَنِ فَقَالَ: إِنَّ غُلَامًا لِی أَبَقَ فَنَذَرْتُ إِنْ أَنَا عَایَنْتُہُ أَنْ أَقْطَعَ یَدَہُ، فَقَدْ جَائَ فَہُوَ الْآنَ بِالْجِسْرِ، قَالَ: فَقَالَ الْحَسَنُ: لَا تَقْطَعْ یَدَہُ، وَحَدَّثَہُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ: إِنَّ عَبْدًا لِی أَبَقَ وَإِنِّی نَذَرْتُ إِنْ أَنَا عَایَنْتُہُ أَنْ أَقْطَعَ یَدَہُ، قَالَ: فَلَا تَقْطَعْ یَدَہُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَؤُمُّ فِینَا أَوْ قَالَ یَقُومُ فِینَا، فَیَأْمُرُنَا بِالصَّدَقَۃِ وَیَنْہَانَا عَنِ الْمُثْلَۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۰۱۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مسور بن مخرمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ حسن بصری کے پاس آئے اور کہا: میرا ایک غلام بھاگ گیا تھا اور میں نے نذر مانی تھی کہ اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا، اب وہ آ گیا ہے اور پل کے پاس ہے، انھوں نے کہا: تم اس کا ہاتھ نہ کاٹو، کیونکہ ایک آدمی نے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: بیشک میرا ایک غلام بھاگ گیا ہے اور میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میں نے اس کو دیکھ لیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا، انھوں نے کہا: تو اس کا ہاتھ نہ کاٹ، کیونکہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیںامامت کرواتے تھے یا ہمارے بیچ میں ٹھہرتے تھے تو ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیتے اور مثلہ سے منع کرتے تھے۔

5363

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5363

Sahih

۔ (۵۳۶۳)۔ عَنْ ہَیَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ الْبُرْجُمِیِّ، أَنَّ غُلَامًا لِأَبِیہِ أَبَقَ، فَجَعَلَ لِلّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَیْہِ، إِنْ قَدَرَ عَلَیْہِ أَنْ یَقْطَعَ یَدَہُ، قَالَ: فَقَدَرَ عَلَیْہِ قَالَ: فَبَعَثَنِی إِلٰی عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، قَالَ: فَقَالَ أَقْرِئْ أَبَاکَ السَّلَامَ وَأَخْبِرْہُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَحُثُّ فِی خُطْبَتِہِ عَلَی الصَّدَقَۃِ، وَیَنْہٰی عَنِ الْمُثْلَۃِ، فَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ، وَیَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِہِ، قَالَ: وَبَعَثَنِی إِلٰی سَمُرَۃَ، فَقَالَ: أَقْرِئْ أَبَاکَ السَّلَامَ وَأَخْبِرْہُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَحُثُّ فِی خُطْبَتِہِ عَلَی الصَّدَقَۃِ، وَیَنْہٰی عَنِ الْمُثْلَۃِ، فَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ وَیَتَجَاوَزْ عَنْ غُلَامِہِ۔ (مسند أحمد: ۲۰۰۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ہیاج بن عمران برجمی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ان کے باپ کا غلام بھاگ گیا اور انھوں نے نذر مانی کہ اگر وہ اس پر قادر آ گئے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پس وہ اس پر قادر آ گئے اور مجھے سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف بھیجا ، میں نے جب ان کے پاس جا کر ان کو ساری بات بتلائی تو انھوں نے کہا: اپنے ابو جان کو میرا سلام کہنا اور بتلانا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خطبے میں صدقہ کرنے کی ترغیب دلاتے تھے اور مثلہ کرنے سے منع کرتے تھے، اس لیے تیرے باپ کو چاہیے کہ وہ اپنی نذر کا کفارہ دے دے اور اپنے غلام کو معاف کر دے۔ پھر میرے باپ نے مجھے سیدہ سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بھیج دیا، انھوں نے جواباً کہا: ابو جان کو سلام کہنا اور ان کو بتلانا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خطبے میں صدقہ کی ترغیب دلاتے تھے اور مثلہ سے منع کرتے تھے، لہذا ان کو چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ دیں اور اپنے غلام کو معاف کر دیں۔

5364

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5364

Sahih

۔ (۵۳۶۴)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا طَلَاقَ فِیْمَا لَا تَمْلِکُوْنَ وَلَا نَذَرَ فِیْمَا لَا تَمْلِکُوْنَ، وَلَا نَذَرَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۶۹۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس چیز کے تم مالک نہیں ہو، اس میںتمہاری کوئی طلاق نہیں، جس چیز کے تم مالک نہیں ہو، اس میں نذر نہیں مانی جاتی اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں بھی نذر نہیں مانی جاتی۔

5365

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5365

Sahih

۔ (۵۳۶۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا نَذَرَ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَکَفَّارَتُہٗ کَفَّارَۃُ یَمِیْنٍ)) (مسند أحمد: ۲۶۶۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی معصیت کوئی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔

5366

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5366

Sahih

۔ (۵۳۶۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا وَفَائَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۱۴۲۱۴)(وَبِالسَّنَدِ الْمُتَقَدِّمِ) قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ، أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ یَقُولُ: لَا وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ یَرْفَعَاہُ۔ (مسند أحمد: ۱۴۲۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مانی گئی نذر کو پورا کرنا نہیںہے۔

5367

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5367

Sahih

۔ (۵۳۶۷)۔ عَنْ ثَابِتِ بْنِ ضَحَّاکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ عَلٰی رَجُلٍ نَذْرٌ فِیْمَا لَا یَمْلِکُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۵۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ثابت بن ضحاک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو، اس پر اس میں کوئی نذر نہیں ہوتی۔

5368

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5368

Sahih

۔ (۵۳۶۸)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ مَا قَامَ فِینَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیبًا إِلَّا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَۃِ وَنَہَانَا عَنِ الْمُثْلَۃِ قَالَ وَقَالَ أَلَا وَإِنَّ مِنَ الْمُثْلَۃِ أَنْ یَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ یَخْرِمَ أَنْفَہُ أَلَا وَإِنَّ مِنَ الْمُثْلَۃِ أَنْ یَنْذُرَ الرَّجُلُ أَنْ یَحُجَّ مَاشِیًا فَلْیُہْدِ ہَدْیًا وَلْیَرْکَبْ (مسند أحمد: ۲۰۰۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی ہم میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صدقہ کرنے کا حکم دیا اور مثلہ کرنے سے منع کیا۔ پھر انھوں نے کہا: خبردار! یہ مثلہ ہے کہ آدمی یہ نذر مانے کہ وہ اپنے غلام کی ناک کاٹ دے گا،یہ بھی مثلہ ہے کہ آدمی پیدل حج کرنے کی نذر مانے، اس کو چاہیے کہ وہ ایک دم دے (جانور ذبح کرے) اور سوار ہو جائے۔