Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 79 · Chapter 899

گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب

گھوڑے کی تعریف اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت کا بیان

9 hadiths in this chapter

5178

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5178

Sahih

۔ (۵۱۷۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْخَیْلِ، فَقَالَ: ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَہِیَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَھِیَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَ ھی عَلٰی رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِی ہِیَ لَہُ أَجْرٌ الَّذِی یَتَّخِذُہَا وَیَحْبِسُہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَمَا غَیَّبَتْ فِی بُطُونِہَا فَہُوَ لَہُ أَجْرٌ، وَإِنْ اسْتَنَّتْ مِنْہُ شَرَفًا أَوْ شَرَفَیْنِ کَانَ لَہُ فِی کُلِّ خُطْوَۃٍ خَطَاہَا أَجْرٌ، وَلَوْ عَرَضَ لَہُ نَہْرٌ، فَسَقَاہَا مِنْہُ کَانَ لَہُ بِکُلِّ قَطْرَۃٍ غَیَّبَتْہُ فِی بُطُونِہَا أَجْرٌ۔)) حَتّٰی ذَکَرَ الْأَجْرَ فِی أَرْوَاثِہَا وَأَبْوَالِہَا۔ (مسند أحمد: ۸۹۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گھوڑے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر وابستہ کر دی گئی ہے، گھوڑا کسی کے لیے اجر ہوتا ہے، کسی کے لیے پردہ اور کسی کے لیے گناہ۔ جو گھوڑا باعث ِ اجر ہو تا ہے، وہ وہ ہوتاہے، جس کو آدمی اللہ کی راہ کی خاطر پالتا ہے، ایسا گھوڑا جو کچھ کھاتا ہے، اس میں بھی اس کے مالک کے لیے اجر ہے اور جب وہ ایک دو ٹیلوں تک چلتا ہے تو اس کے ہر ہر قدم کے بدلے مالک کے لیے اجر ہوتا ہے، اگر سامنے نہر آ جائے اور وہ اس سے پانی پی لے تو وہ جو پانی پیتا ہے، اس کے ہر ہر قطرے کے عوض مالک کو ثواب ملتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی لید اور پیشاب کے اجر وثواب کا بھی ذکر کیا۔

5179

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5179

Sahih

۔ (۵۱۷۹)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِیْمَانًا بِاللّٰہِ وَتَصْدِیْقًا لِمَوْعُوْدِہِ کَانَ شِبَعُہٗ وَرِیُّہٗ وَبَوْلُہٗ وَرَوْثُہٗ حَسَنَاتٍ فِیْ مِیْزَانِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۸۸۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی راہ میں ایک گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا سیر ہونا، سیراب ہونا، پیشاب اور لید، یہ سب چیزیں روزِ قیامت اس کے ترازو میں نیکیاں ہوں گی۔

5180

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5180

Sahih

۔ (۵۱۸۰)۔ عن أَسْمَاء بِنْتِ یَزِیدَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الْخَیْلُ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ مَعْقُودٌ أَبَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، فَمَنْ رَبَطَہَا عُدَّۃً فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، وَأَنْفَقَ عَلَیْہَا احْتِسَابًا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَإِنَّ شِبْعَہَا وَجُوعَہَا وَرِیَّہَا وَظَمَأَہَا وَأَرْوَاثَہَا وَأَبْوَالَہَا فَلَاحٌ فِی مَوَازِینِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ رَبَطَہَا رِیَائً وَسُمْعَۃً وَفَرَحًا وَمَرَحًا فَإِنَّ شِبَعَہَا وَجُوعَہَا وَرِیَّہَا وَظَمَأَہَا وَأَرْوَاثَہَا وَأَبْوَالَہَا خُسْرَانٌ فِی مَوَازِینِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۲۸۱۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ قیامت کے دن تک، یعنی ہمیشہ کے لیے خیر وابستہ کر دی گئی ہے، پس جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے تیاری کرتے ہوئے گھوڑا باندھا اور اسی کے راستے کی خاطر ثواب کی نیت سے اس پر خرچ کیا تو اس گھوڑے کا سیر ہونا، بھوکا ہونا، سیراب ہونا، پیاسا ہونا اور اس کا پیشاب، یہ سب چیزیں قیامت کے دن اس کے ترازوں میں کامیابی کا باعث ہوں گی، لیکن جس نے گھوڑے کو ریاکاری، شہرت اور اتراہٹ کے لیے پالا تو اس کے سیر ہونے، بھوکا رہنے، سیراب ہونا، پیاسا ہونا اور اس کی لید اور پیشاب، یہ سب چیزیں قیامت کے دن اس کے ترازوں میں خسارے کا باعث بنیں گی۔

5181

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5181

Sahih

۔ (۵۱۸۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند أحمد: ۵۲۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر رکھ دی گئی ہے۔

5182

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5182

Sahih

۔ (۵۱۸۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۱۳۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔

5183

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5183

Sahih

۔ (۵۱۸۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ، وَالنَّیْلُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَأَہْلُہَا مُعَانُونَ عَلَیْہَا، فَامْسَحُوا بِنَوَاصِیہَا، وَادْعُوا لَہَا بِالْبَرَکَۃِ، وَقَلِّدُوہَا، وَلَا تُقَلِّدُوہَا بِالْأَوْتَارِ)) وَقَالَ عَلِیٌّ: وَلَا تُقَلِّدُوہَا الْأَوْتَارَ۔ (مسند أحمد: ۱۴۸۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: روزِ قیامت تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر اور مقصود و مطلوب وابستہ کر دیا گیا ہے اور ان کے مالکان ان پر سوار ہو کر سختیاں جھیلتے ہیں، پس تم لوگ گھوڑوں کی پیشانیوں کو چھوا کرو اور ان کے لیے برکت کی دعا کیا کرو اور ان کو قلادے ڈالو، لیکن وہ تانت کے نہ ہوں۔

5184

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5184

Sahih

۔ (۵۱۸۴)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْبَرَکَۃُ فِیْ نَوَاصِی الْخَیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت ہے۔

5185

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5185

Sahih

۔ (۵۱۸۵)۔ عَنْ جَرِیرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَفْتِلُ عُرْفَ فَرَسٍ بِأُصْبُعَیْہِ وَہُوَ یَقُولُ: ((الْخَیْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِیہَا الْخَیْرُ، الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۴۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی انگلیوں کے ساتھ گھوڑے کی گردن کے بال بٹتے اور فرماتے: قیامت کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں کے ساتھ خیر یعنی اجر اور غنیمت وابستہ کر دی گئی ہے۔

5186

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5186

Sahih

۔ (۵۱۸۶)۔ عَنْ مَعْقَلِ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمْ یَکُنْ شَیْئٌ اَحَبَّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْخَیْلِ، ثُمَّ قَالَ: اَللّٰھُمَّ غَفْرًا، لَا، بَلِ النِّسَائُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۵۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ کوئی چیز نہیں ہے، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سب سے زیادہ پسند ہے، گھوڑوں کی بہ نسبت، پھر سیدنا معقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ! بخش دے، نہیں، بلکہ آپ کو عورتیں سب سے زیادہ پسند تھیں۔