Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 78 · Chapter 898

امان، صلح اور عارضی جنگ بندی کے ابواب

تیز اندازی، اس کی فضیلت، اس پر ابھارنے اور لڑائی کے آلات سے کھیلنے وغیرہ کا بیان

7 hadiths in this chapter

5171

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5171

Sahih

۔ (۵۱۷۱)۔ عَنْ سَلَمَۃ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ، وَہُمْ یَتَنَاضَلُونَ فِی السُّوقِ، فَقَالَ: ((ارْمُوا یَا بَنِی إِسْمَاعِیلَ، فَإِنَّ أَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا ارْمُوْا، وَأَنَا مَعَ بَنِی فُلَانٍ۔)) لِأَحَدِ الْفَرِیقَیْنِ فَأَمْسَکُوا أَیْدِیَہُمْ، فَقَالَ: ((اِرْمُوا۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ نَرْمِی وَأَنْتَ مَعَ بَنِی فُلَانٍ، قَالَ: ((ارْمُوا وَأَنَا مَعَکُمْ کُلِّکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۶۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بنو اسلم کے لوگوں کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بازار میں تیر اندازی میں مقابلہ کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا، کرو تیر اندازی اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں۔ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک فریق کا نام لیا تو وہ رک گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: پھینکو تیر (کیوں رک گئے ہو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے پھینکیں، جبکہ آپ تو بنو فلاں کے ساتھ ہو گئے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کرو تیز اندازی، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔

5172

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5172

Sahih

۔ (۵۱۷۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَفَرٍ یَرْمُوْنَ قَالَ: ((رَمْیًا بَنِیْ اِسْمَاعِیْلَ فَاِنَّ اَبَاکُمْ کَانَ رَامِیًا۔)) (مسند أحمد: ۳۴۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیر اندازی کرنے والے ایک گروہ کے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے بنو اسماعیل! تیر اندازی کرو، بیشک تمہارا باپ بھی تیر انداز تھا۔

5173

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5173

Sahih

۔ (۵۱۷۳)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ یَقُوْلُ: ((سَتُفْتَحُ عَلَیْکُمْ اَرْضُوْنَ وَیَکْفِیْکُمُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فَلَا یَعْجِزُ اَحَدُکُمْ اَنْ یَلْھُوَ بِسَھْمِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عنقریب کئی علاقے فتح ہوں گے اور اللہ تعالیٰ تم سے کفایت کرے گا، لیکن کوئی آدمی اتنا عاجز نہ آ جائے کہ وہ تیر اندازی سے غفلت برتنا شروع کر دے۔

5174

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5174

Sahih

۔ (۵۱۷۴)۔ (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ: {اَعِدُّوْا لَھُمْ مَاسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّۃٍ} اَلَا اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ، اَلَا اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ، اَلَا اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۵۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منبر پر یہ آیت پڑھی: اپنی استطاعت کے مطابق دشمنوں کے لیے اپنی قوت تیار رکھو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے، خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے، خبردار! بیشک قوت تیر اندازی ہے۔

5175

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5175

Sahih

۔ (۵۱۷۵)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ الْجُہَنِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُدْخِلُ الثَّلَاثَۃَ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّۃَ: صَانِعَہُ یَحْتَسِبُ فِی صَنْعَتِہِ الْخَیْرَ، وَالْمُمِدَّ بِہِ، وَالرَّامِیَ بِہِ۔)) وَقَالَ: ((ارْمُوا وَارْکَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ تَرْکَبُوا، وَإِنَّ کُلَّ شَیْئٍ یَلْہُو بِہِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْیَۃَ الرَّجُلِ بِقَوْسِہِ، وَتَأْدِیبَہُ فَرَسَہُ، وَمُلَاعَبَتَہُ امْرَأَتَہُ، فَإِنَّہُنَّ مِنْ الْحَقِّ، وَمَنْ نَسِیَ الرَّمْیَ بَعْدَمَا عُلِّمَہُ فَقَدْ کَفَرَ الَّذِی عُلِّمَہُ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ: فَتُوُفِّیَ عُقْبَۃُ وَلَہٗ بِضْعٌ وَسِتُّوْنَ اَوْ بِضْعٌ وَّسَبْعُوْن قَوْسًا مَعَ کُلِّ قَوْسٍ قَرْنٌ وَنَبَلٌ وَ اَوْصٰی بِھِنَّ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔) (مسند أحمد: ۱۷۴۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا: (۱) اس کو بنانے والا، جو خیر کے ارادے سے اس کو بناتا ہے، (۲) اس کوآگے مجاہد کو پکڑانے والا اور (۳) اس کو پھینکنے والا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیر اندازی بھی کرو اور گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی مشق بھی کرو، لیکن مجھے سواری کی بہ نسبت تیر اندازی زیادہ پسند ہے اور جس جس چیز کے ساتھ بندہ کھیلتا ہے، وہ سب باطل اور بے مقصد ہیں، ما سوائے ان امور کے: آدمی کا اپنی کمان سے تیر اندازی کرنا، اپنے گھوڑے کی تربیت کرنا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ امور حق ہیں اور جس نے تیراندازی کا فن حاصل کرنے کے بعد اس کو بھلا دیا، اس نے اس چیز کا کفر کیا، جس کی اس کو تعلیم دی گئی تھی۔ ایک روایت میں ہے: جب سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے تو ان کے پاس چونسٹھ پینسٹھ یا چوہتر پچھتّر کمانیں تھیں، ہر کمان کے ساتھ تھیلا اور عربی تیرے تھے، اور انھوں نے ان کے بارے میں وصیت کی تھی کہ یہ اللہ کے راستہ میں وقف ہیں۔

5176

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5176

Sahih

۔ (۵۱۷۶)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ: کَانَ عُقْبَۃُ یَأْتِینِی فَیَقُولُ: اخْرُجْ بِنَا نَرْمِی، فَأَبْطَأْتُ عَلَیْہِ ذَاتَ یَوْمٍ أَوْ تَثَاقَلْتُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ یُدْخِلُ بِالسَّہْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَۃً الْجَنَّۃَ۔)) فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ الْمُتَقَدِّمِ وَفِیْ آخِرِہِ: ((وَمَنْ عَلَّمَہُ اللّٰہُ الرَّمْیَ فَتَرَکَہُ رَغْبَۃً عَنْہُ فَنِعْمَۃٌ کَفَّرَھَا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۴۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا خالد بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آتے اور کہتے: باہر آؤ، تیر اندازی کریں، ایک دن میں نے باہر آنے میں تاخیر کی یا سستی کا مظاہرہ کیا، تو انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین افراد کو جنت میں داخل کرے گا، پھر انھوں نے سابق حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس کے آخری الفاظ اس طرح ہیں: اور اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو تیراندازی کی تعلیم دی، لیکن اس نے بے رغبتی کی وجہ سے اس کو ترک کر دیاتو دراصل اس نے ایک نعمت کا کفر کیا۔

5177

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5177

Sahih

۔ (۵۱۷۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: بَیْنَا الْحَبَشَۃُ یَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحِرَابِہِمْ، دَخَلَ عُمَرُ فَأَہْوٰی إِلَی الْحَصْبَائِ یَحْصِبُہُمْ بِہَا، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((دَعْہُمْ یَا عُمَرُ)) (مسند أحمد: ۸۰۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ حبشی لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں (مسجد نبوی میں) لڑائی کے آلات کے ساتھ کھیل رہے تھے، جب سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو وہ ان کو مارنے کے لیے کنکریاں اٹھانے کے جھکے، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! ان کو کھیلنے دو۔