Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 77 · Chapter 869

جہاد کے مسائل

اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر

9 hadiths in this chapter

5015

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5015

Sahih

۔ (۵۰۱۵)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اُحِلَّتْ لِیَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِاَحَدٍ مِنْ قَبْلِیْ)) (مسند أحمد: ۱۴۳۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے غنیمتیں حلال کی گئی ہیں،جبکہ یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھیں۔

5016

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5016

Sahih

۔ (۵۰۱۶)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِقَوْمٍ سُودِ الرُّئُ وْسِ قَبْلَکُمْ، کَانَتْ تَنْزِلُ النَّارُ مِنَ السَّمَائِ فَتَأْکُلُہَا۔)) کَانَ یَوْمَ بَدْرٍ أَسْرَعَ النَّاسُ فِی الْغَنَائِمِ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ، فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَیِّبًا} [الانفال: ۶۸،۶۹] (مسند أحمد: ۷۴۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے کالے سروں والی قوم یعنی بنو آدم کے لیے غنیمتیں حلال نہیں تھیں، بلکہ ان کے ہاں یوں ہوتا تھا کہ آگ آسمان سے نازل ہوتی تھی اور غنائم کو کھا جاتی تھی۔ جب بدر والے دن لوگوں نے غنیمتیں حاصل کرنے میں جلدی کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: {لَوْلَا کِتَابٌ مِنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ، فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَیِّبًا} اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس بارے میں تمھیں کوئی بڑی سزا ہوتی، پس جو کچھ حلال اور پاکیزہ غنیمت تم نے حاصل کی ہے، خوب کھاؤ۔ (سورۂ انفال: ۶۸، ۶۹)

5017

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5017

Sahih

۔ (۵۰۱۷)۔ عَنْ اَبِیْ لَبِیْدٍ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ کَابُلَ فَأَصَابَ النَّاسُ غَنِیْمَۃً، فَانْتَہَبُوہَا فَأَمَرَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ مُنَادِیًا یُنَادِی إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنِ انْتَہَبَ نُہْبَۃً فَلَیْسَ مِنَّا۔)) فَرُدُّوا ہٰذِہِ الْغَنِیْمَۃَ فَرَدُّوہَا فَقَسَمَہَا بِالسَّوِیَّۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۰۹۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو لبید کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ کابل میں جہاد کیا، جب لوگوں نے غنیمت حاصل کی تو انھوں نے تقسیم سے پہلے اس کو لوٹنا شروع کر دیا، سیدنا عبدالرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک مُنادِی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے لوٹ مار کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ لہذا یہ غنیمتیں واپس کر دو، پس انھوں نے واپس کر دیں، پھر انھوں نے برابری کے ساتھ ان میں تقسیم کر دیں۔

5018

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5018

Zaeef

۔ (۵۰۱۸)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ أَخْبَرَ مُعَاوِیَۃَ حِینَ سَأَلَہُ عَنِ الرَّجُلِ الَّذِی سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِقَالًا قَبْلَ أَنْ یَقْسِمَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اتْرُکْہُ حَتّٰی یُقْسَمَ۔)) وَقَالَ عَتَّابٌ: ((حَتّٰی نَقْسِمَ ثُمَّ إِنْ شِئْتَ أَعْطَیْنَاکَ عِقَالًا، وَإِنْ شِئْتَ أَعْطَیْنَاکَ مِرَارًا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۱۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا، جس نے تقسیمِ غنائم سے پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے معمولی سی چیز کا سوال کیا تھا، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے یہ جواب دیا تھا: اس کو چھوڑ دے، یہاں تک کہ ان کو تقسیم کر دیا جائے۔ عتاب راوی کے یہ الفاظ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو رکھ دے، یہاں تک کہ ہم خود تقسیم کریں گے، پھر اگر تو نے چاہا تو تجھے اونٹ کا گھٹنا باندھنے والی رسی دے دیں گے اور اگر تو نے چاہا تو ہم تجھے رسی دے دیں گے۔

5019

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5019

Sahih

۔ (۵۰۱۹)۔ عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِیِّ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِیِّ قَرْیَۃً مِنْ قُرَی الْمَغْرِبِ، یُقَالُ لَہَا: جَرَبَّۃُ، فَقَامَ فِینَا خَطِیبًا فَقَالَ: أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی لَا أَقُولُ فِیکُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: قَامَ فِینَا یَوْمَ حُنَیْنٍ، فَقَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِامْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ یَسْقِیَ مَائَہُ زَرْعَ غَیْرِہِ، یَعْنِی إِتْیَانَ الْحُبَالٰی مِنَ السَّبَایَا، وَأَنْ یُصِیبَ امْرَأَۃً ثَیِّبًا مِنَ السَّبْیِ حَتّٰی یَسْتَبْرِئَہَا، یَعْنِی إِذَا اشْتَرَاہَا، وَأَنْ یَبِیعَ مَغْنَمًا حَتّٰی یُقْسَمَ، وَأَنْ یَرْکَبَ دَابَّۃً مِنْ فَیْئِ الْمُسْلِمِینَ حَتّٰی إِذَا أَعْجَفَہَا، رَدَّہَا فِیہِ وَأَنْ یَلْبَسَ ثَوْبًا مِنْ فَیْئِ الْمُسْلِمِینَ حَتّٰی إِذَا أَخْلَقَہُ رَدَّہُ فِیہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۱۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حنش صنعانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا رویفع بن ثابت انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مغرب کی جَرَبَّہ نامی بستی والوں سے جنگ کی، وہ خطاب کرنے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور کہا: اے لوگو! میں تم سے وہی بات کروں گا، جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حنین والے دن ہمارے اندر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے بندے کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنا پانی دوسرے کی کھیتی کو پلائے، یعنی استعمال شدہ لونڈی خریدنے کی صورت میں استبرائے رحم سے پہلے اس سے جماع کرے، تقسیم سے پہلے مالِ غنیمت بیچ دے، مسلمانوں کے مال غنیمت سے کوئی سواری لے کر اس پر سواری کرے اور اس کو لاغر کر کے اسے مال غنیمت میں چھوڑ دے اور مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں سے کپڑا لے کر پہن لے اور پھر اس کو بوسیدہ کر کے مال غنیمت میں رکھ دے۔ دوسرے کی کھتی کو پانی پلانے کی ممانعت سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد یہ تھی کہ استبرائے رحم سے پہلے حاملہ قیدی خواتین سے خاص تعلق قائم نہ کیا جائے۔

5020

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5020

Sahih

۔ (۵۰۲۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗ نَھٰی عَنْ بَیْعِ الْغَنَائِمِ حَتّٰی تُقْسَمَ، وَعَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ حَتّٰی تُحْرَزَ مِنْ کُلِّ عَامٍ، وَاَنْ یُصَلِّی الرَّجُلُ حَتّٰی یَحْتَزِمَ۔ (مسند أحمد: ۹۰۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تقسیم سے پہلے مالِ غنیمت کو فروخت کرنے سے، آفت سے محفوظ ہونے سے پہلے پھلوں کو فروخت کرنے سے اورپیٹی کسنے سے پہلے آدمی کو نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔

5021

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5021

Sahih

۔ (۵۰۲۱)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: شَھِدْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ فَتْحَ خَیْبَرَ، فَلَمَّا انْھَزَمُوْا وَقَعْنَا فِیْ رِحَالِھِمْ، فَاَخَذَ النَّاسُ مَا وَجَدُوْا مِن خُرْثَیٍّ فَلَمْ یَکُنْ اَسْرَعَ مِنْ اَنْ فَارَتِ الْقُدُوْرُ، قَالَ: فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْقِدْرِ فَاُکْفِئَتْ وَقَسَمَ بَیْنَنَا فَجَعَلَ لِکُلِّ عَشْرَۃٍ شَاۃً۔(مسندأحمد:۱۹۲۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابولیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں خیبر کی فتح کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حاضر تھا، جب وہ یہودی شکست کھا گئے تو ہم ان کے گھروں میں گھس گئے اور گھروں سے ساز و سامان حاصل کرنے لگے، بہت جلدی ہنڈیاں ابلنے لگیں، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہنڈیوں کے متعلق حکم دیا تو ہنڈیاں انڈیل دی گئیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مالِ غنیمت تقسیم کیا اور ہر دس آدمیوں کو ایک بکری عطا کی۔

5022

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5022

Sahih

۔ (۵۰۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: کُنَّا مُحَاصِرِینَ قَصْرَ خَیْبَرَ، فَأَلْقٰی إِلَیْنَا رَجُلٌ جِرَابًا فِیہِ شَحْمٌ، فَذَہَبْتُ آخُذُہُ، فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَحْیَیْتُ۔ (مسند أحمد: ۲۰۸۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے خیبر کے محل کا محاصرہ کیا ہوا تھا، ایک آدمی نے چربی کا مشکیزہ ہماری طرف پھینکا، میں اس کو لینے کے لیے گیا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ کر شرما گیا۔

5023

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5023

Sahih

۔ (۵۰۲۳)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: دُلِّیَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمِ یَوْمَ خَیْبَرَ، قَالَ: فَالْتَزَمْتُہٗ قُلْتُ: لَا اُعْطِیْ اَحَدًا مِنْہٗ شَیْئًا، قَالَ: فَالْتَفَتُّ فَاِذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَبَسَّمُ۔ قَالَ بَھَزَ: اِلَیَّ۔ (مسند أحمد: ۱۶۹۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)خیبر والے دن چربی کا ایک مشکیزہ لٹکایا گیا، میں اس کو چمٹ گیا اور کہا: میں کسی کو اس میں سے کچھ بھی نہیں دوں گا، پھر جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف متوجہ ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا رہے تھے۔