Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 77 · Chapter 867

جہاد کے مسائل

لڑائی کے وقت بھاگ جانے کی حرمت کا بیان، الا یہ کہ آدمی نے اپنی جماعت کو ملنا ہو، اگرچہ وہ جماعت دور ہو

3 hadiths in this chapter

5010

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5010

Zaeef

۔ (۵۰۱۰)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ لَقِیَ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، وَأَدّٰی زَکَاۃَ مَالِہِ طَیِّبًا بِہَا نَفْسُہُ مُحْتَسِبًا، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ فَلَہُ الْجَنَّۃُ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَخَمْسٌ لَیْسَ لَہُنَّ کَفَّارَۃٌ، الشِّرْکُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَیْرِ حَقٍّ، أَوْ بَہْتُ مُؤْمِنٍ، أَوْ الْفِرَارُ یَوْمَ الزَّحْفِ، أَوْ یَمِینٌ صَابِرَۃٌ، یَقْتَطِعُ بِہَا مَالًا بِغَیْرِ حَقٍّ۔)) (مسند أحمد: ۸۷۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملا کہ اس نے اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، دل کی خوشی کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے زکوۃ ادا کی ہو اور امام کی بات سنی ہو اور اس کی اطاعت کی ہو تو اس کے لیے جنت ہو گی، یا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ پانچ گناہ ہیں، ان کا کوئی کفارہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ناحق جان کو قتل کرنا، مؤمن پر تہمت لگانا، لڑائی والے دن بھاگ جانا اور جھوٹی قسم، جس کے ذریعے وہ ناحق مال حاصل کرتا ہے۔

5011

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5011

Sahih

۔ (۵۰۱۱)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو رُہْمٍ السَّمَعِیُّ: أَنَّ أَبَا أَیُّوبَ حَدَّثَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ جَائَ یَعْبُدُ اللّٰہَ لَا یُشْرِکُ بِہِ شَیْئًا، وَیُقِیمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ، وَیَصُومُ رَمَضَانَ، وَیَجْتَنِبُ الْکَبَائِرَ، فَإِنَّ لَہُ الْجَنَّۃَ۔)) وَسَأَلُوہُ مَا الْکَبَائِرُ؟ قَالَ: ((الْإِشْرَاکُ بِاللّٰہِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَۃِ، وَفِرَارٌ یَوْمَ الزَّحْفِ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۸۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں آیا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، نماز قائم کی ہو، زکوۃ ادا کی ہو، رمضان کے روزے رکھے ہوں اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا ہو تو اس کے لیے جنت ہو گی۔ جب لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کبائر کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، مسلمان نفس کو قتل کرنا اور لڑائی والے دن بھاگ جانا۔

5012

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #5012

Zaeef

۔ (۵۰۱۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: کُنْتُ فِی سَرِیَّۃٍ مِنْ سَرَایَا رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَحَاصَ النَّاسُ حَیْصَۃً، وَکُنْتُ فِیمَنْ حَاصَ، فَقُلْنَا: کَیْفَ نَصْنَعُ وَقَدْ فَرَرْنَا مِنْ الزَّحْفِ وَبُؤْنَا بِالْغَضَبِ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ دَخَلْنَا الْمَدِینَۃَ فَبِتْنَا ثُمَّ قُلْنَا: لَوْ عَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَإِنْ کَانَتْ لَہُ تَوْبَۃٌ وَإِلَّا ذَہَبْنَا، فَأَتَیْنَاہُ قَبْلَ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ، فَخَرَجَ فَقَالَ: ((مَنِ الْقَوْمُ؟)) قَالَ: فَقُلْنَا نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، قَالَ: ((لَا بَلْ أَنْتُمْ الْعَکَّارُونَ، أَنَا فِئَتُکُمْ، وَأَنَا فِئَۃُ الْمُسْلِمِینَ۔)) قَالَ: فَأَتَیْنَاہُ حَتّٰی قَبَّلْنَا یَدَہُ۔ (مسند أحمد: ۵۳۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بھیجے ہوئے سرایا میں سے ایک سریّہ کی بات ہے، میں خود بھی اس میں تھا، لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا اور میں بھی فرار اختیار کرنے والوں میں سے تھا، پھر ہم نے کہا: اب ہم کیا کریں، ہم تو لڑائی سے بھاگے ہیں اور غضب ِ الہی کے ساتھ لوٹے ہیں، پھر ہم نے کہا: اب ہم مدینہ میں داخل ہو جائیں اور اندر جا کر رات گزاریں، لیکن پھر ہمارے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر پیش کرتے ہیں، اگر توبہ کا حق ہوا تو ٹھیک، وگرنہ ہم چلے جائیں گے، پس ہم نمازِ فجر سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے تو پوچھا: کون لوگ ہیں؟ ہم نے کہا: جی ہم ہیں، لڑائی سے بھاگ کر آ جانے والے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ تم تو قتال کی طرف پلٹ جانے والے ہو اور میں تمہارا مدد گار ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی پناہ گاہ اور ان کا مددگار ہوں۔ پس ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بوسہ لیا۔