Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 77 · Chapter 848

جہاد کے مسائل

شہداء کی فضیلت

13 hadiths in this chapter

4875

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4875

Sahih

۔ (۴۸۷۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلشُّہَدَائُ عَلٰی بَارِقِ نَہْرٍ بِبَابِ الْجَنَّۃِ فِیْ قُبَّۃٍ خضْرَائَ، یَخْرُجُ عَلَیْہِمْ رِزْقُہَم مِنَ الْجَنَّۃِ بُکْرَۃً وَّعَشِیًّا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہداء جنت کے دروازے پر سبز قبے میں نہر کی ایک طرف ہوتے ہیں، صبح و شام ان کا رزق جنت سے آتا ہے۔

4876

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4876

Sahih

۔ (۴۸۷۶)۔ عَنِ ابْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ، عَنْ أَبِیْہٖ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعْنِیْ ((أَنَّ أَرْوَاحَ الشُّہَدَائِ فِیْ طَیْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّۃِ)) وَقُرِیئَ عَلٰی سُفْیَانَ: نَسَمَۃٌ تَعْلُقُ فِیْ ثَمَرَۃٍ أَوْ شَجَرِ الْجَنَّۃِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۷۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک شہداء کی روحیں سبز پرندوں میں جنت کے پھلوں یا درختوں سے لٹکتی ہیں۔

4877

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4877

Zaeef

۔ (۴۸۷۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: وَعَدَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ الْہِنْدِ، فَإِنْ اسْتُشْہِدْتُ کُنْتُ مِنْ خَیْرِ الشُّہَدَائِ، وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ الْمُحَرَّرُ۔ (مسند أحمد: ۷۱۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ کیا، اگر میں اس میں شہید ہو گیا تو میں بہترین شہید ہوں گا اور اگر میں اس سے واپس آ گیا تو ابو ہریرہ (آگ سے) آزاد ہو کر واپس آئے گا۔

4878

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4878

Sahih

۔ (۴۸۷۸)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یَجِدُ الشَّہِیْدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ اِلَّا کَمَا یَجِدُ أَحَدُکُمْ مَسَّ الْقَرْصَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۴۰) (۴۸۷۸)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یَجِدُ الشَّہِیْدُ مِنْ مَسِّ الْقَتْلِ اِلَّا کَمَا یَجِدُ أَحَدُکُمْ مَسَّ الْقَرْصَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۷۹۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہید قتل کی ضرب سے کوئی تکلیف نہیں پاتا، مگر اتنی جنتی تم میں سے کوئی چٹکی یا ڈنک کی تکلیف محسوس کرتا ہے۔

4879

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4879

Sahih

۔ (۴۸۷۹)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ کَلْمٍ یُکْلَمُہُ الْمُسْلِمُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، ثُمَّ یَکُونُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَہَیْئَتِہَا إِذَا طُعِنَتْ تَنْفَجِرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْکِ۔)) قَالَ أَبِی: یَعْنِی الْعَرْفَ الرِّیحَ۔ (مسند أحمد: ۸۱۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر زخم جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں مسلمان کو لگتا ہے، یہ قیامت کے دن اسی ہیئت پر ہو گا، جب وہ زخم لگا گیا لیکن اس سے خون بہہ رہا ہو گا کہ اس کا رنگ تو خون والا ہو گا، لیکن خوشبو کستوری کی ہو گی۔

4880

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4880

Sahih

۔ (۴۸۸۰)۔ (وَعَنْہٗ أَیْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَضْحَکُ اللّٰہُ لِرَجُلَیْنِ، یَقْتُلُ أَحَدُہُمَا الْآخَرَ کِلَاہُمَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالُوْا کَیْفَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((یَقْتُلُ ہٰذَا فَیَلِجُ الْجَنَّۃَ، ثُمَّ یَتُوبُ اللّٰہُ عَلَی الْآخَرِ فَیَہْدِیہِ إِلَی الْإِسْلَامِ، ثُمَّ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَیُسْتَشْہَدُ۔)) (مسند أحمد: ۸۲۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف ہنستے ہیں، حالانکہ ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، لیکن وہ دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک شہید ہو کر جنت میں داخل ہو جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ دوسرے یعنی قاتل پر رجوع کرتا ہے اور اس کو اسلام کی طرف ہدایت دے دیتا ہے، پھر وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور شہید ہو جاتا ہے۔

4881

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4881

Sahih

۔ (۴۸۸۱)۔ عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی أَشْرَفْنَا عَلٰی حَرَّۃِ وَاقِمٍ قَالَ: فَدَنَوْنَا مِنْہَا فَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِیَّۃٍ، فَقُلْنَا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قُبُورُ إِخْوَانِنَا ہٰذِہِ، قَالَ: ((قُبُورُ أَصْحَابِنَا۔)) ثُمَّ خَرَجْنَا حَتّٰی إِذَا جِئْنَا قُبُورَ الشُّہَدَائِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰذِہِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا۔)) (مسند أحمد: ۱۳۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ (مدینہ کے) واقم ٹیلے کے پاس موجود حرّہ ہمیں نظر آنے لگا، جب ہم اس کے قریب پہنچے تو نظر آیا کہ وہاں وادی کے پست مقام پر چند قبریں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے ساتھیوں کی قبریں ہیں۔ پھر ہم آگے بڑھے، یہاں تک کہ شہداء کی قبروں کے پاس پہنچ گئے، وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں۔

4882

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4882

Sahih

۔ (۴۸۸۲)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَائَ یَقُولُ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْأَنْصَارِ مُقَنَّعٌ فِی الْحَدِیدِ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أُسْلِمُ أَوْ أُقَاتِلُ، قَالَ: ((لَا بَلْ أَسْلِمْ، ثُمَّ قَاتِلْ۔)) فَأَسْلَمَ ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ہٰذَا عَمِلَ قَلِیلًا وَأُجِرَ کَثِیرًا۔)) (مسند أحمد: ۱۸۷۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، وہ لوہے کے ہتھیاروں سے لدا ہوا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسلام قبول کروں یا قتال کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، تو پہلے اسلام قبول کر اور پھر قتال کر۔ پس وہ مسلمان ہو گیا اور پھر لڑا، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس شخص نے عمل تو تھوڑا کیا ہے، لیکن اس کو بہت زیادہ اجر دیا گیا ہے۔

4883

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4883

Sahih

۔ (۴۸۸۳)۔ عَنْ نُعَیْمِ بْنِ ہَمَّارٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّ الشُّہَدَاء ِ أَفْضَلُ قَالَ: ((اَلَّذِینَ إِنْ یُلْقَوْا فِی الصَّفِّ یَلْفِتُونَ وُجُوہَہُمْ حَتّٰی یُقْتَلُوا أُولَئِکَ یَنْطَلِقُونَ فِی الْغُرَفِ الْعُلٰی مِنَ الْجَنَّۃِ وَیَضْحَکُ إِلَیْہِمْ رَبُّہُمْ وَإِذَا ضَحِکَ رَبُّکَ إِلٰی عَبْدٍ فِی الدُّنْیَا فَلَا حِسَابَ عَلَیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۸۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا نُعیم بن ہمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا کہ کون سے شہداء زیادہ فضیلت والے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ لو گ ہیں کہ جب صف میں دشمن سے ان کا مقابلہ ہوتا ہے تو وہ اپنے چہروں کو اُن ہی کی طرف متوجہ کر لیتے ہیں، یہاں تک کہ شہید ہو جاتے ہیں، یہ وہ لوگ جو جنت کے بلند بالا خانوں میں چلتے ہیں اور ان کا ربّ ان کی طرف ہنستا ہے، اور جب تیرا ربّ دنیا میں ہی کسی کی طرف ہنس پڑتا ہے تو اس پر کوئی حساب نہیں ہوتا۔

4884

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4884

Sahih

۔ (۴۸۸۴)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِی کَرِبَ الْکِنْدِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ لِلشَّہِیدِ عِنْدَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ الْحَکَمُ: سِتَّ خِصَالٍ أَنْ یُغْفَرَ لَہُ فِی أَوَّلِ دَفْعَۃٍ مِنْ دَمِہِ وَیَرٰی۔)) قَالَ الْحَکَمُ: ((وَیُرٰی مَقْعَدَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَیُحَلّٰی حُلَّۃَ الْإِیمَانِ، وَیُزَوَّجَ مِنْ الْحُورِ الْعِینِ، وَیُجَارَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَیَأْمَنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَکْبَرِ۔)) قَالَ الْحَکَمُ: ((یَوْمَ الْفَزَعِ الْأَکْبَرِ، وَیُوضَعَ عَلٰی رَأْسِہِ تَاجُ الْوَقَارِ، الْیَاقُوتَۃُ مِنْہُ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا، وَیُزَوَّجَ اثْنَتَیْنِ وَسَبْعِینَ زَوْجَۃً مِنْ الْحُورِ الْعِینِ، وَیُشَفَّعَ فِی سَبْعِینَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِہ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ہاں شہید کے لیے چھ خصلتیں ہیں: اس کو خون گرتے ہی اس کو بخش دیا جاتا ہے، اسی وقت وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لیتا ہے، اس کو ایمان کی پوشاک پہنا دی جاتی ہے، آہو چشم حور سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے، اس کو عذابِ قبر سے پناہ دے دی جاتی ہے، وہ بڑی گھبراہٹ سے امن میں رہتاہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جاتا ہے کہ اس کا ایک موتی دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوتا ہے، بہتر آہو چشم حوروں سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے اور اس کے ستر رشتہ داروں کے حق میں اس کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔

4885

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4885

Sahih

۔ (۴۸۸۵)۔ عَنْ قَیْسٍ الْجُذَامِیِّ رَجُلٍ کَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُعْطَی الشَّہِیدُ سِتَّ خِصَالٍ، عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَۃٍ مِنْ دَمِہِ یُکَفَّرُ عَنْہُ کُلُّ خَطِیئَۃٍ، وَیُرٰی مَقْعَدَہُ مِنَ الْجَنَّۃِ، وَیُزَوَّجُ مِنَ الْحُورِ الْعِینِ، وَیُؤْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَکْبَرِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَیُحَلَّی حُلَّۃَ الْإِیمَانِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۹۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا قیس جذامی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، یہ ایسے آدمی تھے جن کو صحبت کا شرف حاصل تھا، سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شہید کو چھ خصلتیں عطا کی جاتی ہیں: اس کے خون کے پہلے قطرے میں ہی اس کا ہر قسم کا گناہ معاف کر دیا جاتا ہے، اس کو اس کا جنت میں سے ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، انتہائی سفید سیاہ رنگ والی سوتی آنکھوں والی عورتوں سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے، اس کو بڑی گھبراہٹ سے اور عذاب ِ قبر سے امن میں رکھا جاتا ہے اور اس کو ایمان کی پوشاک پہنا دی جاتی ہے۔

4886

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4886

Sahih

۔ (۴۸۸۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَلَہَا عِنْدَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی خَیْرٌ، تُحِبُّ أَنْ تَرْجِعَ إِلَیْکُمْ إِلَّا الْمَقْتُولُ، (وَقَالَ رَوْحٌ إِلَّا الْقَتِیلُ) فِی سَبِیلِ اللّٰہِ، فَإِنَّہُ یُحِبُّ أَنْ یَرْجِعَ فَیُقْتَلَ مَرَّۃً أُخْرٰی۔)) (مسند أحمد: ۲۳۰۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین پر کوئی ایسا نفس نہیں ہے، جو وفات پائے اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں خیر ہو اور وہ پھر بھی دنیا کی طرف لوٹنے کو پسند کرے، ما سوائے شہید فی سبیل اللہ کے، پس بیشک وہ یہ پسند کرتا ہے کہ وہ واپس لوٹے اور اس کو دوبارہ شہید کر دیا جائے۔

4887

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4887

Zaeef

۔ (۴۸۸۷)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّہُ قَالَ: ذُکِرَ الشَّہِیدُ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ((لَا تَجِفُّ الْأَرْضُ مِنْ دَمِ الشَّہِیدِ حَتّٰی یَبْتَدِرَہُ زَوْجَتَاہُ کَأَنَّہُمَا ظِئْرَانِ أَظَلَّتَا أَوْ أَضَلَّتَا فَصِیلَیْہِمَا بِبَرَاحٍ مِنَ الْأَرْضِ بِیَدِ کُلِّ وَاحِدَۃٍ مِنْہُمَا حُلَّۃٌ خَیْرٌ مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا۔)) (مسند أحمد: ۷۹۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس شہید کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابھی تک زمین شہید کے خون سے خشک نہیں ہو پاتی کہ اس کی دو بیویاں اس کی طرف لپکتے ہوئے آتی ہیں، گویا کہ وہ دو دایاں ہیں، جوبے آب و گیاہ زمین میں اپنے بچے پر سایہ کر رہی ہوں یا غائب ہونے والے بچے کو پا لینے پر اس پر سایہ کر رہی ہوں، ان میں ہر ایک کے ہاتھ میں ایک پوشاک ہوتی ہے، اس کی قیمت دنیا وما فیہا سے زیادہ ہوتی ہے۔