Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 77 · Chapter 847

جہاد کے مسائل

شہادت اور شہداء کی فضیلت کے ابواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں ملنے والی شہادت کی فضیلت

6 hadiths in this chapter

4869

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4869

Sahih

۔ (۴۸۶۹)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَدَنَا مِنْ الْمَدِینَۃِ قَالَ: ((إِنَّ بِالْمَدِینَۃِ لَقَوْمًا مَا سِرْتُمْ مَسِیرًا وَلَا قَطَعْتُمْ وَادِیًا إِلَّا کَانُوْا مَعَکُمْ فِیہِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ؟ قَالَ: ((وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ حَبَسَہُمْ الْعُذْرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۹۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک سے لوٹے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک مدینہ میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں کہ جب بھی تم چلے اور تم نے جو وادی بھی عبور کی، وہ تمہارے ساتھ تھے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جبکہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں وہ مدینہ میں ہیں، دراصل ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔

4870

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4870

Sahih

۔ (۴۸۷۰)۔ عَنْ أَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یُؤْتٰی بِالرَّجُلِ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیَقُولُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: یَا ابْنَ آدَمَ کَیْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَکَ؟ فَیَقُولُ: یَا رَبِّ خَیْرَ مَنْزِلٍ، فَیَقُولُ: سَلْ وَتَمَنَّہْ، فَیَقُولُ: مَاأَسْأَلُ وَأَتَمَنّٰی إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِی إِلَی الدُّنْیَا فَأُقْتَلَ فِی سَبِیلِکَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرٰی مِنْ فَضْلِ الشَّہَادَۃِ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: اے ابن آدم! تو نے اپنی منزل کو کیسا پایا؟ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! بہترین منزل ہے، اللہ تعالیٰ کہے گا: تو مزید سوال کر اور تمنا کر، وہ کہے گا: میں کون سا سوال کروں اور کون سی تمنا کروں، ہاں تو مجھے دنیا میں لوٹا دے، تاکہ میں تیرے راستے میں دس بار شہید ہو سکوں، وہ یہ بات شہادت کی فضیلت کو دیکھ کر کہے گا۔

4871

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4871

Sahih

۔ (۴۸۷۱)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی عَمِیرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنَ النَّاسِ نَفْسُ مُسْلِمٍ یَقْبِضُہَا اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ تُحِبُّ أَنْ تَعُودَ إِلَیْکُمْ وَأَنَّ لَہَا الدُّنْیَا وَمَا فِیہَا غَیْرُ الشَّہِیدِ۔)) و قَالَ ابْنُ أَبِی عَمِیرَۃَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَأَنْ أُقْتَلَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ یَکُونَ لِی الْمَدَرُ وَالْوَبَرُ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۰۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن ابو عمیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں کوئی ایسا مسلمان نہیں ہے جو یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کو فوت کرے اور پھر وہ تمہاری طرف دوبارہ لوٹے اور اس کو دنیا اور اس کی تمام چیزیں ملیں، ما سوائے شہید کے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید کر دیا جائے تو یہ عمل مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمام شہر و دیہات مجھے مل جائیں۔

4872

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4872

Sahih

۔ (۴۸۷۲)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ أَحَدٍ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یُحِبُّ أَنْ یَخْرُجَ مِنْہَا، وَأَنَّ لَہٗ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ غَیْرُ الشَّہِیْدِ، یُحِبُّ أَنْ یُخْرَجَ فَیُقْتَلَ لِمَا یَرٰی مِنَ الْکَرَامَۃِ۔)) أَوْ مَعْنَاہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۲۰۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی ایسا نہیں ہے، جو جنت میں داخل ہو اور پھر وہ یہ پسند کرے کہ وہ وہاں سے نکل آئے اور زمین پر جو کچھ ہے، وہ سب کچھ اس کو مل جائے، ما سوائے شہید کے، وہ شہادت کی کرامت کا اندازہ کر کے یہ پسند کرے گا کہ اس کو جنت سے نکال لیا جائے، تاکہ اس کو دوبارہ شہید کر دیا جائے۔

4873

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4873

Sahih

۔ (۴۸۷۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((انْتَدَبَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَنْ خَرَجَ فِی سَبِیلِہِ، لَا یَخْرُجُ إِلَّا جِہَادًا فِی سَبِیلِی وَإِیمَانًا بِی وَتَصْدِیقًا بِرَسُولِی، فَہُوَ عَلَیَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ، أَوْ أَرْجِعَہُ إِلٰی مَسْکَنِہِ الَّذِی خَرَجَ مِنْہُ نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِیمَۃٍ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ مَا مِنْ کَلْمٍ یُکْلَمُ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ إِلَّا جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ کُلِمَ لَوْنُہُ لَوْنُ دَمٍ وَرِیحُہُ رِیحُ مِسْکٍ، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُسْلِمِینَ، مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِیَّۃٍ تَغْزُو فِی سَبِیلِ اللّٰہِ أَبَدًا، وَلٰکِنِّی لَا أَجِدُ سَعَۃً فَیَتْبَعُونِی وَلَا تَطِیبُ أَنْفُسُہُمْ فَیَتَخَلَّفُونَ بَعْدِی، وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ۔)) (مسند أحمد: ۸۹۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کی ضمانت اٹھائی ہے جو اس کے راستے میں نکلتا ہے اور (اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ) جب یہ آدمی صرف میرے راستے میں جہاد کرنے، مجھے پر ایمان لانے اور میرے رسول کی تصدیق کرنے کی وجہ سے نکلتا ہے تو میںبھی ضمانت دیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں گا یا اس کو اجر یا غنیمت، جو بھی اس نے حاصل کیا، سمیت اس کے گھر لوٹا دوں گا۔ (پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:)اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو زخم بھی اللہ کے راستے میں لگتاہے تو زخمی جس حالت میں زخمی ہوا تھا، اسی حالت میں روزِ قیامت آئے گا ، زخم سے بہنے والے خون کا رنگ تو وہی ہو گا جو خون کا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو کستوری کی طرح کی ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر مسلمانوں پر گراں نہ گزرتا تو میں کبھی بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے لشکر سے پیچھے نہ رہتا، لیکن میرے پاس (اسباب کی) وسعت نہیں کہ وہ سب میرے ساتھ آ سکیں اور مجھ سے پیچھے رہنا وہ پسند نہیں کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں تو چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور قتل کر دیاجاؤں، پھر (زندہ ہو کر) جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں، پھر (زندہ ہو کر) جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں۔

4874

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4874

Sahih

۔ (۴۸۷۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ یَوْمَ أُحُدٍ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اِنْ قُتِلْتُ فَأَیْنَ أَنَا؟ قَالَ: ((فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَاَلْقٰی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِیْ یَدِہٖ، فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ(وَقَالَ غَیْرُ عَمْرٍو) وَتَخَلّٰی مِنْ طَعَامِ الدُّنْیَا۔ (مسند أحمد: ۱۴۳۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے احد والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اگر میں شہید ہو جاؤں تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں۔ پس اس نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں ڈال دیں اور قتال کرنا شروع کر دیا، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا اور دنیا کے کھانے سے الگ ہو گیا۔