Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 76 · Chapter 818

ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل

ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے

4 hadiths in this chapter

4662

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4662

Sahih

۔ (۴۶۶۲)۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ، عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ، فَأَرَادَ رَجُلٌ أَنْ یُضَحِّيَ، فَلا یَمَسَّ مِنْ شَعْرِہِ وَ لا مِنْ بَشَرِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ذوالحجہ کے پہلے دس دن شروع ہو جائیں تو قربانی کرنے کا ارادہ رکھنے والا آدمی نہ اپنے بالوں کو چھوئے اور نہ اپنے جسم کو۔

4663

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4663

Sahih

۔ (۴۶۶۳)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ أَرَادَ أَنْ یُضَحِّيَ فَلا یُقَلِّمْ ((أَظْفَارَہُ))، وَلا یَحْلِقْ شَیْئًا مِنْ شَعْرِہِ فِي الْعَشْرِ الأوَلِ مِنْ ذِي الْحِجَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں نہ اپنے ناخن تراشے اور نہ اپنے بال مونڈے۔

4664

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4664

Sahih

۔ (۴۶۶۴)۔ (وَعَنْھا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ أَرَادَ أَنْ یَنْحَرَ فِي ھِلَالِ ذِي الْحِجَّۃِ، فَلا یَأْخُذْ مِنْ شَعْرِہِ وَ أَظْفَارِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ذوالحجہ کے مہینے میں قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑے۔

4665

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4665

Sahih

۔ (۴۶۶۵)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِرَجُلٍ: ((أُمِرْتُ بِیَوْمِ الأضْحٰی، جَعَلَہُ اللّٰہُ عِیدًا لِھٰذِہِ الأمْۃِ۔)) فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَیْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلاَّ مَنِیحَۃَ ابْنِي أَفَأُضَحِّي بِھَا؟ قَالَ: ((لا، وَ لٰکِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِک وَ تُقَلِّمُ أَظْفَارَکَ، وَتَقُصُّ شَارِبَکَ، وَ تَحْلِقُ عَانَتَکَ، فَذٰلِکَ تَمَامُ أُضْحِیَّتِکَ عِنْدَ اللّٰہِ)) (مسند احمد: ۶۵۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: مجھے یومِ اضحی کا حکم دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لیے عید بنایا ہے۔ اس آدمی نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میرے پاس صرف اپنے بیٹے کی ایک بکری ہو تو اس کی قربانی کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (قربانی والے دن) اپنے بالوں کو کاٹو، ناخنوں کو تراشو، مونچھوں کو کاٹو اور زیر ناف بال مونڈو، یہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری پوری قربانی ہو گی۔