Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 76 · Chapter 817

ہدی اور قربانی کے جانوروں کے مسائل

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں

10 hadiths in this chapter

4652

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4652

Zaeef

۔ (۴۶۵۲)۔ عَنْ أَبِيْ رَافِعٍ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا ضَحّٰی، اشْتَرٰی کَبْشَیْنِ سَمِینَیْنِ أَقْرَنَیْنِ أَمْلَحَیْنِ (وَفِيْ لَفْظٍ مَوْجِیَّیْنِ خَصِیَّیْنِ)، فَإِذَا صَلّٰی وَ خَطَبَ النَّاسَ أُتِيَ بِأَحَدِھِمَا وَ ھُوَ قَائِمٌ فِيْ مُصَلَاّہُ، فَذَبَحَہُ بِنَفْسِہِ بِالْمُدْیَۃِ، ثُمَّ یَقُوْلُ: ((اَللّٰھُمَّ إِنَّ ھٰذَا عَنْ أُمَّتِيْ جَمِیْعًا، مِمَّنْ شَھِدَ لَکَ بِالتّوْحِیْدِ، وَ شَھِدَ لِيْ بِالْبَلَاغِ۔)) ثُمَّ یُؤْتٰی بِالآخَرِ فَیَذْبَحُہُ بِنَفْسِہِ وَ یَقُوْلُ: ((ھٰذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ۔)) وَ یُطْعِمُھُمَا جَمِیْعًا الْمَسَاکِیْنَ، وَ یَأْکُلُ ھُوَ وَ أَھْلُہُ مِنْھُمَا، فَمَکَثْنَا سِنِیْنَ لَیْسَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ھَاشِمٍ یُضَحِّي، قَدْ کَفَاہُ اللّٰہُ الْمُؤْنَۃَ بِرَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ الْغُرْمَ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مولائے رسول سیدنا ابورافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب قربانی کرتے تو دو موٹے تازے، سینگوں والے، چتکبرے اور خصی دنبے خریدتے، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ عید ادا کرتے اور لوگوں کو خطبہ دیتے تو ایک دنبے کو لایا جاتا جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابھی تک عید گاہ میں ہی کھڑے ہوتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود چھری کے ساتھ اس کو ذبح کرتے اور فرماتے: اے اللہ! یہ میری ساری امت کی طرف سے ہے، جنہوں نے تیرے لیے توحید کی اور میرے لیے تبلیغ کی شہادت دی ہے۔ پھر دوسرا دنبہ لایا جاتا، اس کو بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود ذبح کرتے اور فرماتے: یہ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور آلِ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف سے ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ دونوں دنبے مسکینوں کو کھلا دیتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت بھی ان سے کھاتے تھے۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: پھر ہم نے کئی برسوں تک دیکھا کہ بنو ہاشم کا کوئی بندہ قربانی نہیں کرتا تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس عمل کی وجہ سے ان کو قربانی کے بوجھ اور خرچ سے کفایت کر دیا تھا۔

4653

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4653

Sahih

۔ (۴۶۵۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَبَحَ یَومَ الْعِیْدِ کَبْشَیْنِ، ثُمَّ قَالَ حِیْنَ وَجَّھَھُمَا: ((إِنِّي وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَ الأَرْضَ حَنِیْفًا مُسْلِمًا وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ، لا شَرِیْکَ لَہُ وَ بِذٰلِکَ أُمِرْتُ، وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ، بِسْمِ اللّٰہِ واللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَ لَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَ أُمَّتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عید کے دن دو دنبے ذبح کیے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو قبلہ رخ لٹایا تو یہ دعا پڑھی: إِنِّي وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ ……بِسْمِ اللّٰہِ واللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَ لَکَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَ أُمَّتِہِ۔ (بیشک میں نے اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف متوجہ کیا ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میں یک سو اور مسلمان ہوں اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، اس اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی چیز کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے پہلا ہوں، اللہ کے نام ساتھ اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، اے اللہ! یہ جانور تیری طرف سے تھا اور تیرے لیے ہے محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور ان کی امت کی طرف سے)۔

4654

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4654

Sahih

۔ (۴۶۵۴)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُضَحِّي بِکَبْشَیْنِ أَقْرَنَیْنِ أَمْلَحَیْنِ، وَ کَانَ یُسَمِّي وَ یُکَبِّرُ، وَ لَقَدْ رَأَیْتُہُ یَذْبَحُھُمَا بِیَدِہِ، وَاضِعًا عَلٰی صِفَاحِھِمَا قَدَمَہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سینگوں والے اور چتکبرے دو دنبوں کی قربانی کرتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کا نام لے کر اور تکبیر کہہ کر ذبح کرتے تھے اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھا ہوا ہوتا تھا۔

4655

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4655

Sahih

۔ (۴۶۵۵)۔ عَنْ أَبِيْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَحّٰی بِکَبْشٍ أَقْرَنَ وَ قَالَ: ((ھٰذَا عَنِّيْ وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سینگوں والے ایک دنبے کی قربانی کی اور فرمایا: ھَذَا عَنِّيْ وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي (یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے ہے، جنھوں نے قربانی نہیں کی)۔

4656

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4656

Sahih

۔ (۴۶۵۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عِیْدَ الأضْحٰی، فَلَمَّا انْصَرَفَ اُتِیَ بِکَبْشٍ فَذَبَحَہُ، فَقَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُمَّ إِنَّ ھٰذَا عَنَّي وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عید الاضحی ادا کی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فارغ ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ذبح کرنے لگے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بِسْمِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ أَکْبَرُ، اَللّٰہُمَّ إِنَّ ھٰذَا عَنَّي وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيْ (اللہ کے نام کے ساتھ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اے اللہ! بیشک یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے، جنھوں نے قربانی نہیں کی)۔

4657

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4657

Sahih

۔ (۴۶۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّنِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِکَبْشٍ أَقْرَنَ یَطَأُ فِيْ سَوَادٍ، وَ یَنْظُرُ فِيْ سَوَادٍ، وَ یَبْرُکُ فِيْ سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِہِ لِیُضَحِّيَ بِہِ ثُمَّ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ ھَلُمُّي الْمُدْیَۃَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اِسْتَحِدِّیْھَا بِحَجَرٍ۔)) فَفَعَلَتْ، ثُمَّ أَخَذَھَا وَ أَخَذَ الْکَبْشَ، فَأَضْجَعَہُ، ثُمَّ ذَبَحَہُ، وَقَالَ: ((بِسْمِ اللّٰہ، اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ مِنْ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ۔)) ثُمَّ ضَحّٰی بِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے دنبے کا حکم دیا جو سینگوں والا ہو، اس کے پاؤں کالے ہوں، آنکھوں کے ارد گرد والی جگہ بھی کالی ہو اور پیٹ بھی کالا ہو، پس اس کو لایا گیا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی قربانی کریں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! چھری لاؤ۔ پھر فرمایا: اس کو پتھر کے ساتھ تیز کرو۔ پس سیدہ نے ایسے ہی کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چھری لی اور دنبے کو پکڑا، اس کو ذبح کرنے کے لیے لٹایا اور فرمایا: (اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! تو محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم )، آلِ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اور امت ِ محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرف سے قبول فرما)۔

4658

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4658

Sahih

۔ (۴۶۵۸)۔ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ یَذْبَحُ أُضْحِیَتَہُ بِالْمُصَلّٰی یَوْمَ النَّحْرِ، وَ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَفْعَلُہُ۔ (مسند احمد: ۵۸۷۶)7

اردو ترجمہ · Urdu

۔ امام نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قربانی والے دن عیدگاہ میں اپنی قربانی کو ذبح کرتے تھے اور بتلاتے تھے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایسے ہی کرتے تھے۔

4659

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4659

Sahih

۔ (۴۶۵۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْحَرُ یَوْمَ الَأَضْحٰی بِالْمَدِیْنَۃِ، قَالَ: وَکَانَ إِذَا لَمْ یَنْحَرْ ذَبَحَ۔ (مسند احمد: ۶۴۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں عید الاضحی والے دن نحر کرتے تھے، اگر نحر نہ کرتے تو ذبح کرتے تھے۔

4660

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4660

Zaeef

۔ (۴۶۶۰)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: أَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ یُضَحِّي۔ (مسند احمد: ۴۹۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور اس عرصے میں ہر سال قربانی کی۔

4661

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4661

Sahih

۔ (۴۶۶۱)۔ عَنْ أَبِي الْخَیْرِ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ حَدَّثَہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَنَّہُ أَضْجَعَ أُضْحِیَتَہُ لِیَذْبَحَھَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلرَجُلٍ: ((أَعِنِّي عَلٰی ضَحِیَّتِي۔)) فَأَعَانَہُ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو الخیر کہتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی قربانی کو ذبح کرنے کے لیے لٹانا چاہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: اس قربانی کے معاملے میں ذرا میری مدد کرنا۔ پس اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدد کی۔