Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 74 · Chapter 789

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان

5 hadiths in this chapter

4507

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4507

Zaeef

۔ (۴۵۰۷) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) حَتَّی انْتَہٰی إِلٰی جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ، فَقَالَ: نَاوِلْنِی أَحْجَارًا، قَالَ: فَنَاوَلْتُہُ سَبْعَۃَ أَحْجَارٍ، فَقَالَ لِی: خُذْ بِزِمَامِ النَّاقَۃِ قَالَ: ثُمَّ عَادَ إِلَیْہَا فَرَمٰی بِہَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِی بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ وَھُوَ رَاکِبٌ یُکَبِّرُمَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ، وَقَالَ: اللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُوْرًا، ثُمَّ قَالَ: ھَاھُنَا کَانَ یَقُوْمُ الَّذِیْ أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقْرَۃِ۔ (مسند احمد:۴۰۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ تھا، جب وہ جمرۂ عقبہ کے پاس پہنچے تو کہا: مجھے پتھر لا کر دو، پس میں نے انہیں سات پتھر لا دیئے، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: اونٹنی کی مہار پکڑلو، اس کے بعد وہ جمرہ کی طرف گئے اور وادی کے درمیان سے سات کنکریاں ماریں، جبکہ وہ سوار تھے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہہ رہے تھے، پھر انھوں نے یہ دعا کی: اے اللہ اس کو حج مبروربنا دے اور گناہ معاف کر دے۔اس کے بعد انھوں نے کہا: جس ہستی پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی،اس نے اس جگہ پر کھڑے ہو کر رمی کی تھی۔

4508

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4508

Sahih

۔ (۴۵۰۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِیَ فَجَعَلَ الْجَمْرَۃَ عَنْ حَاجِبِہِ الْأَیْمَنِ وَاسْتَقْبَلَ الْبَیْتَ، ثُمَّ رَمَاھَا بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ،…۔ فَذَکَرَ الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۴۰۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا کہ وہ وادی کے درمیان کھڑے ہوئے اور انہوں نے جمرۂ عقبہ کو اپنی دائیں جانب رکھا اور بیت اللہ کی طرف رخ کر کے اس کو سات کنکریاں ماریں، …۔ (الحدیث )

4509

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4509

Sahih

۔ (۴۵۰۹) وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّہُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللّٰہِ فَرَمَی الْجَمْرَۃَ الْکُبْرٰی بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ وَجَعَلَ الْبَیْتَ عَنْ یَسَارِہِ وَمِنًی عَنْ یَمِیْنِہِ، وَقَالَ: ھٰذَا مَقَامُ الَّذِیْ اُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُوْرَۃُ الْبَقْرَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۱۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے جمرہ کبریٰ کو سات کنکریاں ماریں، اس وقت بیت اللہ ان کی بائیں جانب اور منیٰ دائیں جانب تھا، پھر انھوں نے کہا: جس شخصیت پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی، انہوں نے اسی مقام پر کھڑے ہوکر رمی کی تھی۔

4510

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4510

Sahih

۔ (۴۵۱۰) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: رَمٰی عَبْدُ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی بِسَبْعٍ حَصَیَاتٍ،یُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاۃٍ، فَقِیْلَ لَہُ: إِنَّ نَاسًا یَرْمُوْنَہَا مِنْ فَوْقِہَا، فَقَالَ: ھٰذَا وَالَّذِیْ لَا إِلٰہَ غَیْرُہُ! مَقَامُ الَّذِیْ أُنْزِلَتْ عَلَیْہِ سُوْرَۃُالْبَقَرَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۳۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وادی کے درمیان کھڑے ہوکر جمرۂ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں، وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے، کسی نے ان سے کہا: لوگ تو اوپر والی جگہ کی طرف سے رمی کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! یہ اس ہستی کا مقام ہے، جس پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی۔

4511

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4511

Sahih

۔ (۴۵۱۱) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِی أُمِّی أَنَّہَا رَأَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْمِی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِی وَخَلْفَہُ إِنْسَانٌ، یَسْتُرُہُ مِنَ النَّاسِ أَنْ یُصِیْبُوْہُ بِالْحِجَارَۃِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ لَا یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَیْتُمْ فَارْمُوْا بِمْثِلِ حَصَی الْخَذْفِ،۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سلیمان بن عمرو بن الاحوص ازدی کہتے ہیں: میری ماں نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وادی کے درمیان سے جمرۂ عقبہ کی رمی کر رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے ایک انسان تھا، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لوگوں کی کنکریوں سے بچا رہا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے: لوگو! کوئی کسی کو قتل نہ کر دے اور جب تم رمی کرو تو (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) کنکری مارو۔