Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 74 · Chapter 787

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں

4 hadiths in this chapter

4496

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4496

Zaeef

۔ (۴۴۹۶) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ جِبْرِیْلَ ذَھَبَ بِإِبْرَاھِیْمَ إِلَی جَمْرَۃِ الْعَقَبَۃِ فَعَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ، فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ فَسَاخَ، ثُمَّ أَتَی الْجَمْرَۃَ الْوُسْطٰی، فَعَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ فَسَاخَ، ثُمَّ أَتَی الْجَمَرَۃَ الْقُصْوٰی، فَعَرَضَ لَہُ الشَّیْطَانُ فَرَمَاہُ بِسَبْعِ حَصَیَاتٍ فَسَاخَ، فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاھِیْمُ أَنْ یَذْبَحَ ابْنَہُ إِسْحَاقَ، قَالَ لأَبِیْہِ: یَا أَبَتِ! أَوْثِقْفِی َلاأَضْطَرِبُ فَیَنْتَضِحَ عَلَیْکَ مِنْ دَمِی إِذَا ذَبَحْتَنِی، فَشَدَّہُ، فَلَمَّا أَخَذَ الشَّفْرَۃَ،فَأَرَادَ أَنْ یَذْبَحَہُ نُوْدِیَ مِنْ خَلْفِہِ {أَنْ یَّآ إِبْرَاھِیْمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا}۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جبریل، ابرہیم علیہ السلام کو جمرۂ عقبہ کی طرف لے کر چلے،تو شیطان سامنے آگیا، ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں،سو وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد جب ابرا ہیم علیہ السلام جمرۂ وسطی کے پاس آئے تو پھر شیطان سامنے آ گیا، آپ علیہ السلام نے اس کو پھر سات کنکریاں ماریں، پس وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام جمرۂ قصویٰ کے پاس گئے، وہاں بھی شیطان سامنے آ گیا، آپ علیہ السلام نے اس کو یہاں بھی سات کنکریاں ماریں، پس وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسحق علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے والد سے کہا: اباجان ! آپ مجھے باندھ دیں تاکہ جب آپ مجھے ذبح کریں تو میں نہ تڑپ سکوں اور اس طرح میرا خون آپ کے اوپر نہ پڑے، ابراہیم علیہ السلام نے اسے باندھ دیا اور جب انہوں نے چھری سنبھالی تو پیچھے سے آواز آئی: اے ابرا ہیم! ا ٓپ نے خواب کو سچ کر دکھایا۔

4497

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4497

Sahih

۔ (۴۴۹۷) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَدَاۃَ جَمْعٍ: ((ھَلُمَّ، اُلْقُطْ لِیْ۔)) فَلَقَطْتُّ لَہُ حَصَیَاتٍ، ھُنَّ حَصَی الْخَذْفِ، فَلَمَّا وَضَعَہُنَّ فِیْیَدِہِ قَالَ: ((نَعَمْ، بِأَمْثَالِ ھٰؤُلَائِ وَإِیَّاکُمْ وَالْغُلُوَّ فِی الدِّیْنِ، فَإِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِالْغُلُوِّ فِیْ الدِّیْنِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے مزدلفہ کی صبح کو فرمایا: ادھر آؤ، میرے لئے کنکریاں چن کر لاؤ۔ پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لئے (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لایا، آپ نے ان کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: جی ہاں! بالکل اسی قسم کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں حد سے تجاوز کرنے سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے والے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔

4498

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4498

Sahih

۔ (۴۴۹۸) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْمِیْ جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِیْیَوْمَ النَّحْرِ وَھُوَ یَقُوْلُ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! لَا یَقْتُلْ بَعْضُکُمْ وَلَا یُصِبْ بَعْضُکُمْ، (وَفِیْ لَفْظٍ: لَا تَقْتُلُوْا أَنْفُسَکُمْ) وَإِذَا رَمَیْتُمُ الْجَمْرَۃَ فَارْمُوْھَا بِمِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ۔)) فَرَمٰی بِسَبْعٍ وَلَمْیَقِفْ، وَخَلْفَہُ رَجُلٌ یَسْتُرُہُ، قُلْتُ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوْا: اَلْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سلیمان بن عمرو کی ماں (سیدہ ام جندب ازدیہ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دس ذوالحجہ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وادی کے درمیان سے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور فرمایا: لوگو!ایک دوسرے کو قتل کرونہ ایذا پہنچاؤ، جب تم جمرے کی رمی کرو تو (چنے یا لوبیے کے دانے کے برابر) چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے رمی کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سات کنکریاں ماریں اور اس کے بعد آپ وہاں نہ رکے، ایک آدمی آپ کے پیچھے سوار تھا،جو (لوگوں کی کنکریوں سے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کر رہا تھا،میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔

4499

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4499

Zaeef

۔ (۴۴۹۹) عَنِ ابْنِ أَبِیْ نُجَیْحٍ قَالَ: سَأَلْتُ طَاؤُوْسًا عَنْ رَجُلٍ رَمَی الْجَمْرَۃَ بِسِتِّ حَصَیَاتٍ، فَقَالَ: لِیُطْعِمْ قَبْضَۃً مِنْ طَعَامٍ، قَالَ: فَلَقِیْتُ مُجَاھِدًا فَسَأََلْتُہُ، وَذَکَرْتُ لَہُ قَوْلَ طَاؤُوْسٍ، فَقَالَ: رَحِمَ اللّٰہُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، أَمَا بَلَغَہُ قَوْلُ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَمَیْنَا الْجِمَارَ أَوِ الْجَمْرَۃَ فِیْ حَجَّتِنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ جَلَسْنَا نَتَذَاکَـرُ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَیْتُ بِسِتٍّ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَیْتُ بِسَبْعٍ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَیْتُ بِثَمَانِ، وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَیْتُ بِتِسْعٍ، فَلَمْ یَرَوْا بِذٰلِکَ بَأْسًا۔ (مسند احمد: ۱۴۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابن ابی نجیح کہتے ہیں: میں نے طاؤس سے پوچھاکہ اگر کوئی آدمی جمرے کو چھ کنکریاں مارے تو اس کا کیا بنے گا؟ انھوں نے کہا: وہ ایک مٹھی کھانا صدقہ کرے۔ اس کے بعد جب میری مجاہد سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے طاؤس کے فتوے کا ذکر کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالی ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، کیا سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ قول ان تک نہیں پہنچا، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ حج کے موقع پر ہم نے جمرات کی رمی کی، اس کے بعد ہم بیٹھے باتیں کررہے تھے، کسی نے کہا: میں نے چھ کنکریاں ماریں ہیں، کسی نے کہا: میں نے تو سات ماری ہیں ، کسی نے کہا: میں نے آٹھ ماری ہیں اور کسی نے کہا: میں نے نوماری ہیں، پھر انھوں نے اس میں کوئی حرج محسوس نہ کی۔