Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 74 · Chapter 782

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

عرفہ سے مزدلفہ کو جاتے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لوگوں کو سکون سے چلنے کا حکم دینے کا بیان

3 hadiths in this chapter

4464

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4464

Sahih

۔ (۴۴۶۴) عَنْ مِقْسِمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما لَمَّا أَفَاضَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عَرَفَۃَ تَسَارَعَ قَوْمٌ، فَقَالَ: ’’اِمْتَدُّوْا، وَسَدُّوْا لَیْسَ الْبِرُّ بِإِیْضَاعِ الْخَیْلِ، وَلَا الرِّکَابِ۔)) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَمَا رَأَیْتُ رَافِعَۃًیَدَھَا تَعْدُوْ حَتَّی أَتَیْنَا جَمْعًا۔ (مسند احمد: ۲۰۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو لوگوں نے جلد بازی کا مظاہرہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کھل کھل کر چلو اور سیدھے سیدھے چلو، گھوڑوں اور سواریوں کو بھگانا نیکی نہیں ہے۔ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے مزدلفہ پہنچنے تک کسی سواری کو نہیں دیکھا کہ اس نے دوڑتے ہوئے اپنی اگلی ٹانگوں کو اٹھایا ہو۔

4465

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4465

Sahih

۔ (۴۴۶۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ عَرَفَۃَ وَرِدْفُہُ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ، فَجَالَتْ بِہِ النَّاقَۃُ، وَھُوَ رَافِعٌ یَدَیْہِ، لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَہُ، فَسَارَ عَلٰی ھَیْئَتِہِ، حَتّٰی أَتٰی جَمْعًا، ثُمَّ أَفَاضَ الْغَدَ، وَرِدْفُہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ فَمَا زالَ یُلَبِّی حَتّٰی رَمٰی جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۹۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب عرفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے، اونٹنی دوڑ پڑی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وقت ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، تا ہم ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سر سے بلند نہ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ پہنچنے تک آرام سے چلتے رہے، پھر اگلے دن جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کے پیچھے سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔

4466

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4466

Sahih

۔ (۴۴۶۶) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ الْفَضْلِ (بْنِ عَبَّاسٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ فَجَالَتْ بِہِ النَّاقَۃُ وَھُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ قَبْلَ أَنْ یُفِیْضَ وَھُوَ رَافِعٌ یَدَیْہِ لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَہُ (وَفِیْہِ:) ثُمَّ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ رِدْفُہُ، قَالَ الْفَضْلُ: مَا زَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یُلَبِّیْ حَتّٰی رَمَی الْجَمْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، وہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں ، البتہ اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی عرفات میں وقوف کیے ہوئے تھے اور وہاں سے روانہ نہیں ہوئے تھے کہ آپ کی اونٹنی دوڑ پڑی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ اوپر کو اٹھائے ہوئے تھے ، تاہم وہ آپ کے سر سے بلند نہیں تھے اس روایت میں ہے : پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا فضل رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سواری پر سوار تھے ، وہ کہتے ہیں کہ آپ جمرہ عقبہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پکارتے رہے ۔