Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 74 · Chapter 781

حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان

عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانگی کا وقت اور عرفہ اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان

9 hadiths in this chapter

4455

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4455

Sahih

۔ (۴۴۵۵) عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کُنْتُ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ، قَالَ: فَلَمَّا وَقَعَتِ الشَّمْسُ، دَفَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَلَمَّا سَمِعَ حَطْمَۃَ النَّاسِ خَلْفَہُ، قَالَ: ((رُوَیْدًا أَیُّہَا النَّاسُ! عَلَیْکُمُ السَّکِیْنَۃَ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ بِالْإِیْضَاعِ۔)) قَالَ: فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا الْتَحَمَ عَلَیْہِ النَّاسُ أَعْنَقَ، وَإِذَا وَجَدَ فُرْجَۃً، نَصَّ، (وَفِیْ لَفْظٍ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ حَتّٰی مَرَّ بِالشِّعْبِ الَّذِیْیَزْعُمُ کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ أَنَّہُ صَلّٰی فِیْہِ)، (وَفِیْ لَفْظٍ: فَأَتَی النَّقْبَ الَّذِیْیَنْزِلُ الْأَمَرَائُ وَالْخُلَفَائُ) فَنَزَلَ بِہِ فَبَالَ، مَا یَقُوْلُ: أَھَرَاقَ الْمَائَ کَمَا یَقُوْلُوْنَہُ، ثُمَّ جِئْتُہُ بِالإِدَاوَۃِ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاۃَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: فَقَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ أَمَامَکَ)) قَالَ: فَرَکِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَا صَلّٰی حَتَّی أَتٰی الْمُزْدَلِفَۃَ فَنَزَلَ بِہَا، فَجَمَعَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ الْآخِرَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۲۱۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں عرفہ کے دن پچھلے پہر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سواری پر سوار تھا، جب سورج غروب ہو اتو رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے روانہ ہوئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کا رش دیکھا اور شور سنا تو فرمایا: لوگو! آرام سے چلو، سکون کو لازم پکڑو، تیز چلنا اور مشقت اٹھانا کوئی نیکی نہیں۔ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب لوگوں کا ہجوم ہو جاتا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آہستہ چلتے اور جب راستہ خالی ہوتا تو ذرا تیز چلتے، ( عَنَق کی بہ نسبت نَصّ میں زیادہ تیزی ہوتی ہے،) یہاں تک کہ جب آپ اس گھاٹی سے گزرے جس کے متعلق اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں نماز اداکی تھی، دوسری روایت میں ہے: جب آپ اس گھاٹی پر پہنچے جہاں امرا ء اور خلفاء اترتے ہیں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں اتر کر پیشاب کیا، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، پھر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پانی کا برتن لے کر آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر ادا کریں گے۔ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: پھر رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سوار ہو گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس وقت نماز نہ پڑھی،یہا ں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ جاکر اترے اور آپ نے وہاں مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔

4456

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4456

Sahih

۔ (۴۴۵۶) عَنْ إِبْرَاھِیْمَ بْنِ عُقْبَۃَ أَخْبَرَنِیْ کُرَیْبٌ أَنَّہُ سَأَلَ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرْنِی کَیْفَ صَنَعْتُمْ عَشِیَّۃَ رَدِفْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِیْیُنِیْخُ فِیْہِ النَّاسُ لِلْمَغْرِبِ فَأَنَاخَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَاقَتَہُ ثُمَّ بَالَ مَائً، وَمَا قَالَ: أَھْرَاقَ الْمَائَ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوْئِ، فَتَوَضَّأَ وُضُوْئً لَیْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلصَّلَاۃَ، قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ أَمَامَکَ۔)) قَالَ: فَرَکِبَ حَتّٰی قَدِمَ الْمُزْدَلِفَۃَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِیْ مَنَازِلِہِمْ وَلَمْ یَحُلُّوْا حَتّٰی أَقَامَ الْعِشَائَ فَصَلّٰی ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ، قَالَ: فَقُلْتُ: کَیْفَ فَعَلْتُمْ حِیْنَ أَصْبَحْتُمْ؟ قَالَ: رَدِفَہُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِی سُبَّاقِ قُرَیْشٍ عَلٰی رِجْلَیَّ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ کریب نے سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا کہ جس شام یعنی عرفہ کے دن شام کو جب تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سوار تھے تو تم نے کیا کیا تھا؟ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم اس گھاٹی پر پہنچے جہاں لوگ اتر کر مغرب کی نماز کے لئے ٹھہرتے ہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہا ں اپنی اونٹنی کو بٹھا کر پیشاب کیا ، راوی نے أَھْرَاقَ کے الفاظ نہیں کہے، ا اس کے بعد وضو کا پانی منگواکر مختصر سا وضو کیا۔ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز آگے جاکر پڑھیں گے۔ اس کے بعد آپ سوار ہوکر روانہ ہوئے اور مزدلفہ جاپہنچے۔ آپ نے وہاں مغرب کی نماز ادا کی، بعد ازاں لوگوں نے اپنی اپنی جگہ اونٹوں کو بٹھایا، لیکن ابھی تک انہوں نے سواریوں سے سامان نہیں کھولے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عشاء کی نماز کھڑی کر دی،یہ نماز ادا کر کے لوگوں نے سواریوں سے سامان اتارے، کریب نے پوچھا: آپ لوگوں نے صبح کیا کچھ کیا تھا؟ سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس مرحلے میں آپ کے ساتھ سوار ہوئے تھے اور میں پہلے جانے والے قریشیوں کے ساتھ پیدل چلا گیا تھا۔

4457

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4457

Sahih

۔ (۴۴۵۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ قَالَ: کُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِعَرَفَاتٍ فَلَمَّا کَانَ حِیْنَ رَاحَ رُحْتُ مَعَہُ، أَتَی الإِمَامُ فَصَلَّی مَعَہُ الْأُوْلٰی وَالْعَصْرَ، ثُمَّ وَقَفَ مَعَہُ وَأَنَا وَأَصْحَابٌ لِیْ حَتّٰی أَفَاضَ الإِمَامُ فَأَفْضََنا مَعَہُ حَتّٰی انْتَہَیْنَا إِلَی الْمَضِیْقِ دُوْنَ الْمَأْ زِمَیْنِ فَأَنَاخَ وَأَنَخْنَا وَنَحْنُ نَحْسَبُ أَنَّہُ یُرِیْدُ أَنْ یُصَلِّیَ، فَقَالَ غُلَامُہُ الَّذِیْیُمْسِکُ رَاحِلَتَہُ: إِنَّہُ لَیْسَیُرِیْدُ الصَّلَاۃَ، وَلٰکِنَّہُ ذَکَرَ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا انْتَہٰی إِلٰی ھٰذَا الْمَکَانِ قَضٰی حَاجَتَہُ، فَہُوَ یُحِبُّ أَنْ یَقْضِیَ حَاجَتَہُ۔ (مسند احمد: ۶۱۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ انس بن سیرین کہتے ہیں: میں عرفات میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ہمراہ تھا، جب روانگی کا وقت ہوا تو میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا، جب امام آیا تو سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں ادا کیں، پھر انہوں نے امام کے ساتھ وقوف کیا، میں اور میرے دوسرے احباب بھی ساتھ تھے، جب امام غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہوا تو ہم بھی ان کے ہمراہ چل پڑے، حتیٰ کہ جب ہم مَأْزِم نامی دو پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ راستے میں پہنچ گئے تو سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اپنی سواری کو بٹھا دیا،یہ دیکھ کر ہم نے بھی سواریاں بٹھادیں، ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ نماز ادا کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے جس غلام نے ان کی سواری کی رسی پکڑی ہوئی تھی، اس نے بتلایا کہ وہ یہاں نماز ادا نہیں کرنا چاہتے،ان کے اترنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کو یہ بات یاد آئی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس مقام پر پہنچے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قضائے حاجت کی تھی، اب سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی یہاں قضائے حاجت کرنا چاہتے ہیں۔

4458

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4458

Sahih

۔ (۴۴۵۸) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فِیْ خِلَافَۃِ عُثْمَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَۃَ، قَالَ: فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: لَوْ أَنَّ أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَفَاضَ الْآنَ کَانَ قَدْ أَصَابَ، قَالَ: فَلَا أَدْرِی أَکَلِمَۃُ ابْنِ مَسْعُوْدٍ کَانَتْ أَسْرَعَ أَوْ إِفَاضَۃُ عُثْمَانَ، قَالَ: فَاَوْضَعَ النَّاسُ، وَلَمْ یَزِدِ ابْنُ مَسْعُوْدٍ عَلَی الْعَنَقٍ، حَتّٰی أَتَیْنَا جَمْعًا فَصَلّٰی بِنَا ابْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِۃِ ثُمَّ تَعَشّٰی، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَائَ الآخِرَۃَ، ثُمَّ رَقَدَ حَتّٰی إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ، قَامَ فَصَلَّی الْغَدَاۃَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: مَا کُنْتَ تُصَلِّی الصَّلَاۃَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ،قَالَ: وَکَانَ یُسْفِرُ بِالصَّلَاۃِ، قَالَ: إِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ وَھٰذَا الْمَکَانِ یُصَلِّی ھٰذِہِ السَّاعَۃَ۔ (مسند احمد: ۳۸۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے عہد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حج ادا کیا، جب ہم نے عرفہ میں وقوف کیا اور سورج غروب ہو گیا تو سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر امیر المومنین ابھی روانہ ہوجائیں تو یہ روانگی سنت کے مطابق ہو گی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بات پہلے ہوئی یا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روانگی پہلے شروع ہوئی، لوگوں نے تو بہت تیز چلنا شروع کر دیا، لیکن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رفتار ہلکی تیز رہی،یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے، سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، بعد ازاں انہوں نے کھانا منگوا کر کھایا، اس کے بعد عشاء کی اقامت ہوئی اور انہوں نے یہ نماز پڑھائی، پھر وہ سو گئے، جب صبح صاوق ہوئی تو اٹھ کر نمازِ فجر ادا کی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے عرض کیا : آپ تو صبح کی نماز اس وقت یعنی اس قدر سویرے ادا نہیں کیا کرتے؟ وہ صبح کی نماز روشنی ہونے پر اداکیا کرتے تھے، انھوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس دن اس مقام پر اسی وقت میں نماز فجر ادا کرتے دیکھا ہے۔

4459

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4459

Sahih

۔ (۴۴۵۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَدْلَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْبَطْحَائِ لَیْلَۃَ النَّفْرِ إِدْلَاجًا۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روانگی والی رات بطحاء سے کافی اندھیرا کیا (پھر سفر شروع کیا)۔

4460

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4460

Sahih

۔ (۴۴۶۰) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمْ یَنْزِلْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَ عَرَفَاتٍ وَجَمْعٍ إِلَّا لِیُہْرِیْقَ الْمَائَ۔ (مسند احمد: ۲۴۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات اور مزدلفہ کے درمیان صرف پیشاب کرنے کے لیے اترے تھے ۔

4461

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4461

Sahih

۔ (۴۴۶۱) وَعَنْہُ اَیْضًا أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ کَانَ رِدْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ عَرَفَۃَ فَدَخَلَ الشِّعْبَ فَنَزَلَ فَأَھْرَاقَ الْمَائَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَرَکِبَ وَلَمْ یُصَلِّ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کے دن سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سواری پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے سوار تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھاٹی میں داخل ہوئے تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، اس کے بعد وضو کرکے دوبارہ سوار ہوکر چل پڑے اور وہاں نماز ادا نہیں کی۔

4462

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4462

Sahih

۔ (۴۴۶۲) عَنِ الْفََضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمَّا أَفَاضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ، فَبَلَغْنَا الشِّعْبَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَکِبْنَا حَتّٰی جِئْنَا الْمُزْدَلِفَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۸۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو میں آپ کے ہمراہ تھا، جب ہم گھاٹی میں پہنچے تو آپ نے وہاں اتر کر پیشاب کیا اور وضو کیا اس کے بعد ہم پھر سوار ہو کر چل پڑے اور مزدلفہ پہنچ گئے۔

4463

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4463

Sahih

۔ (۴۴۶۳) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَفَعَ یَسِیْرُ الْعَنَقَ وَجَعَلَ النَّاسُ یَضْرِبُوْنَیَمِیْنًا وَشِمَالاً وَھُوَ یَلْتَفِتُ وَیَقُوْلُ: ((اَلسَّکِیْنَۃَ أَیُّہَا النَّاسُ!)) حَتّٰی جَائَ الْمُزْدَلِفَۃَ وَجَمَعَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ، ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَۃِ فَوَقَفَ عَلٰی قُزَحَ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ، وَقَالَ: ((ھٰذَا الْمَوْقِفُ وَکُلُّ الْمُزْدَلِفَۃِ مَوْقِفٌ۔)) (مسند احمد: ۶۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ سے روانہ ہوئے تو کچھ تیز رفتاری سے چلے، لوگ دائیں بائیں نکلے جارہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی طرف متوجہ ہو کر ان کو فرما رہے تھے: لوگو! آرام سے چلو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں پہنچ گئے، وہاں آکر دونوں نمازوں یعنی مغرب اور عشاء کو جمع کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مزدلفہ میں ٹھہرے رہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قُزَح پہاڑ پر وقوف کیا اور روانہ ہوتے وقت سیدنا فضل بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے تو یہاں وقوف کیا ہوا ہے، لیکن سارا مزدلفہ جائے وقوف ہے۔