Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 73 · Chapter 763

مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان

ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان

3 hadiths in this chapter

4367

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4367

Sahih

۔ (۴۳۶۷) وَعَنْہَا اَیْضًا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہَا: ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیْثُ عَہْدٍ بِشِرْکٍ أَوْ بِجَاھِلِیَّۃٍ لَھَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ، فَأَلْزَقْتُہَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَہَا بَابَیْنَ، بَابًا شَرْقِیًّا، وَبَابًا غَرْبِیًّاوَزِدْتُّ فِیْہَا مِنَ الْحِجْرِ سِتَّۃَ أَذْرُعٍ، فَإِنَّ قُرَیْشًا اقْتْصَرَتْہَا حِیْنَ بَنَتِ الْکَعْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تمہاری قوم تازہ تازہ شرک یا جاہلیت کو چھوڑ کر نہ آئی ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کرکے اسے زمین کے ساتھ ملادیتا اور اس کے دودروازے بنا دیتا، ایک مشرق کی طرف سے اور دوسرا مغرب کی جانب سے اور میں حطیم میں سے چھ ہاتھ کے بقدر جگہ بیت اللہ میں شامل کر دیتا، بات یہ ہے کہ جب قریش نے اس کی تعمیر کی تھی تو (مصارف کی قلت کی وجہ سے) وہ اس کی پوری تعمیر نہ کرسکے تھے۔

4368

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4368

Sahih

۔ (۴۳۶۸) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ! لَا تَمْنَعُنَّ أَحَدًا طَافَ بِہٰذَا الْبَیْتِ أَوْ صَلّٰی أَیَّ سَاعَۃٍ مِنْ لَیْلٍ أَوْ نَہَارٍ)) (مسند احمد: ۱۶۸۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جبیر بن مطعم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنی عبدمناف! اگر کوئی آدمی دن اور رات کے کسی حصے میں بیت اللہ کا طواف کرنا چاہے یانماز پڑھنا چاہے تو تم نے کسی کو کسی صورت میں نہیں روکنا۔

4369

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4369

Zaeef

۔ (۴۳۶۹) عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِقَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ الطَّوَافِ بِالْکَعْبَۃِ فَقَالَ: کُنَّا نَطُوْفُ فَنَمْسَحُ الرُّکْنَ الْفَاتِحَۃَ وَالْخَاتِمَۃَ، وَلَمْ نَکُنْ نَطُوْفُ بَعْدَ صَلَاۃِ الصُّبْحِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَطْلُعُ الشَّمْسُ عَلٰی قَرْنَیِ الشَّیْطَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۳۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کعبہ کے طواف کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا:ہم طواف کرتے تھے اور رکنِ یمانی اور حجر اسود کو چھوتے تھے اور ہم نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک طواف نہیں کیاکرتے تھے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھاکہ: سورج شیطان کے دو سینگوں پر طلوع ہوتاہے۔