Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 72 · Chapter 734

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

احرام میں شرط لگانے کا بیان

6 hadiths in this chapter

4169

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4169

Sahih

۔ (۴۱۶۹)عَنِ ابْنِ عَبَّا سٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ قَالَ: جَائَ تْ ضُبَاعَۃُ بِنْتُ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: إِنِّیْ امْرَأَۃٌ ثَقِیْلَۃٌ، وَإِنِّی أُرِیْدُ الْحَجَّ فَکَیْفَ تَأْمُرُنِی کَیْفَ أُہِلُّ؟ قَالَ: ((أَہِلِّیْ وَاشْتَرِطِیْ أَنَّ مَحِلِّیْ حَیْثُ حَبَسْتَنِیْ۔)) قَالَ: فَأَدْرَکَتْ۔ (مسند احمد: ۳۱۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئیں اور کہا: میں بھاری جسم والی خاتون ہوں اور میں حج کے لئے جانے کا ارادہ رکھتی ہوں، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے کیا حکم دیتے ہیں کہ میں کیسے احرام باندھوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: احرام باندھ لو اور اللہ سے یہ شرط لگا لوکہ اے اللہ! تو نے مجھے جہاں روک دیا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی۔ پھر اس نے حج کر لیا تھا۔

4170

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4170

Sahih

۔ (۴۱۷۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّہَا قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إنِیِّ أُرِیْدُ أَنَّ أَحُجَّ فَأَشْتَرِطَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَتْ: فَکَیْفَ أَقُوْلُ؟ قَالَ: ((قُوْلِی لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ مَحِلِّیْ مِنَ الْأَرْضِ حَیْثُ تَحْبِسُنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں حج کی ادائیگی کا ارادہ رکھتی ہوں، تو میں کوئی شرط لگا سکتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھرمیں کیسے کہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اس طرح کہہ: لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ مَحِلِّیْ مِنَ الْأَرْضِ حَیْثُ تَحْبِسُنِیْ (میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میرے حلال ہونے کی جگہ وہ ہو گی، جہاں تو مجھے روک لے گا)۔

4171

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4171

Sahih

۔ (۴۱۷۱) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضُبَاعَۃَ بِنْتَ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَہِیَ شَاکِیَۃٌ، فَقَالَ: ((أَلَا تَخْرُجِیْنَ مَعَنَا فِیْ سَفَرِنَا ہٰذَا؟)) وَہُوَ یُرِیْدُ حَجَّۃَ الْوَدَاعِ، قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی شَاکِیَۃٌ، وَأَخْشٰی أَنْ تَحْبِسَنِی شَکْوَایَ، قَالَ: ((فَأَہِلِّی بِالْحَجِّ وَقُوْلِی اَللّٰہُمَّ مَحِلِّی حَیْثُ تَحْبِسُنِی۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ بیمار تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟ جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا،سیدہ ضباعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تو بیمار ہوں اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ میری بیماری مجھے روک دے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حج کا احرام باندھ لو اور یوں کہو: اے اللہ! تو مجھے جہاں روک دے گا، وہی میرے حلال ہونے کی جگہ ہو گی۔

4172

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4172

Sahih

۔ (۴۱۷۲) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ: إِنِّی أُرِیْدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاکِیَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حُجِّی وَاشْتَرِطِی أَنَّ مَحِلِّی حَیْثُ حَبَسْتَنِی۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، انہوں نے کہا: میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، لیکن میں بیمار بھی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم حج کے لئے روانہ ہو جاؤ اور یہ شرط لگالو کہ اے اللہ تو مجھے جہاں روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی۔

4173

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4173

Sahih

۔ (۴۱۷۳)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ لَہَا: أَرَدْتِّ الْحَجَّ؟ قَالَتْ: وَاللّٰہِ! مَا أَجِدُنِی إِلَّا وَجِعَۃً، فَقَالَ لَہَا: ((حُجِّی وَاشْتَرِطِی۔)) فَقَالَ: ((قُوْلِی اَللّٰہُمَّ مَحِلِّی حَیْثُ حَبَسْتَنِی۔)) وَکَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اوران سے فرمایا: کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار سمجھتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم حج کے لئے نکلواور یہ شرط لگا لو کہ اے اللہ! تو مجھے جہاں روک لے گا، میں اسی مقام پر حلال ہو جاؤں گی۔ یہ خاتون ان دنوں سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں۔

4174

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4174

Sahih

۔ (۴۱۷۴) عَنْ سَالِمِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الْاِشْتِرَاطَ فِیْ الْحَجِّ وَیَقُوْلُ: أَمَا حَسْبُکُمْ بسُنَّۃِ نَبِیِّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ لَمْ یَشْتَرِطْ۔ (مسند احمد: ۴۸۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج میں شرط لگانے کو پسند نہیں کرتے تھے اوروہ کہا کرتے تھے: کیا تمہارے لئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت کافی نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی شرط نہیں لگائی تھی۔