Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 72 · Chapter 733

احرام، اس کے مواقیت ، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب

حیض اور نفاس والی عورتیں احرام سے پہلے اور اس کے بعد کیا کریں، ان امور کا بیان

5 hadiths in this chapter

4164

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4164

Sahih

۔ (۴۱۶۴)عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما رَفَعَہُ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النُّفَسَائَ وَالْحَائِضَ تَغْتَسِلُ، وَتُحْرِمُ، وَتَقْضِی الْمَنَاسِکَ کُلَّہَا، غَیْرَ أَنَّہَالاَ تَطُوْفُ بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْہُرَ۔ (مسند احمد: ۳۴۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’نفاس اور حیض والی عورت غسل کر کے احرام باندھ لے گی ، پھر وہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ باقی تمام مناسک ادا کرے گی ، جب وہ پاک ہو جائے گی تو تب بیت اللہ کا طواف کرے گی ۔‘‘

4165

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4165

Sahih

۔ (۴۱۶۵) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِیْ بَکْرٍ بِالْبَیْدَائِ فَذَکَرَ ذٰلِکَ أَبُوْ بَکْرٍ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مُرْہَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُہِلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) بیداء کے مقام پر محمد بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جنم دیا، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جب اس بات کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو حکم دو کہ وہ غسل کرکے احرام باندھ لیں۔

4166

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4166

Sahih

۔ (۴۱۶۶) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کَانَتْ عَائِشَۃُ تَقُوْلُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا نَذْکُرُ إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا سَرِفَ، طَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أَبْکِیْ، فَقَالَ: ((مَا یُبْکِیْکِ؟)) قُلْتُ: وَدِدْتُّ أَنِّی لَمْ أَخْرُجِ الْعَامَ، قَالَ: ((لَعَلَّکِ نَفِسْتِ، یَعْنِی حِضْتِ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((إِنَّ ہٰذَا شَیْئٌ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلٰی بَنَاتِ آدَمَ، فَافْعَلِی مَا یَفْعَلُ الْحَاجُّ غَیْرَ أَنْ لَّا تَطُوْفِی بِالْبَیْتِ حَتّٰی تَطْہُرِیْ…۔)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۶۸۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ قاسم بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہا کرتی تھیں کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا، جب ہم سرف مقام پر پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: کاش کہ میں اس سال حج کے لئے نہ آئی ہوتی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شاید تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو بناتِ آدم پر مقرر کیا ہے، اب تم وہ تمام امور سر انجام دو جو دوسرے حجا ج کریں گے، البتہ بیت اللہ کا طواف اس وقت تک نہ کرو، جب تک پاک نہ ہو جاؤ، …۔ الحدیث

4167

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4167

Sahih

۔ (۴۱۶۷) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ: فَحِضْتُ قَبْلَ أَنْ أَدْخُلَ مَکَّۃَ فَأَدْرَکَنِییَوْمُ عَرَفَۃَ وَأََنا حَائِضٌ فَشَکَوْتُ ذٰلِکَ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((دَعِیْ عُمْرَتَکِ، وَانْقُضِی رَأْسَکِ وَامْتَشِطِی وَاغْتَسِلِیْ وَأَہِلِّیْ بِالْحَجِّ۔)) فَفَعَلْتُ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے مجھے حیض آ گیا اور وہ جاری رہا، حتی کہ عرفہ والا دن آنے والا ہو گیا،میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کا شکوہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عمرہ کو رہنے دو اور سر کھول کر کنگھی کر لو اور غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو۔ چنانچہ میں نے اسی طرح کیا…۔ الحدیث۔

4168

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4168

Sahih

۔ (۴۱۶۸) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی عَائِشَۃَ وَہِیَ تَبْکِی، فَقَالَ لَہَا: مَالَکِ تَبْکِیْنَ؟)) قَالَتْ: أَبْکِیْ أَنَّ النَّاسَ أَحَلُّوْا وَلَمْ أَحْلِلْ، وَطَافُوْا بِالْبَیْتِ وَلَمْ أَطُفْ، وَہٰذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ، قَالَ: ((إِنَّ ہٰذَا أَمْرٌ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلٰی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِی، وَأَہِلِّی بِالْحَجِّ وَحُجِّی۔)) قَالَتْ: فَفَعَلْتُ ذَالِکَ، فَلَمَّا طَہَرْتُ قَالَ: ((طُوْفِی بِالْبَیْتِ وَبَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ ثُمَّ قَدْ أَحْلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَمِنْ عُمْرَتِکِ۔)) قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی أَجِدُ فِی نَفْسِی مِنْ عُمْرَتِی أَنِّی لَمْ أَکُنْ طُفْتُ حَتّٰی حَجَجْتُ، قَالَ: ((فَاذْہَبْ یَا عَبْدَ الرَّحْمٰنِ! فَأَعْمِرْ أُخْتَکَ مِنَ التَّنْعِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ وہ رو رہی تھیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا بات ہے، رو رہی ہو؟ انہوں نے کہا: لوگ حلال ہو گئے ہیں، لیکن میں حلال نہ ہو سکی اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف بھی کر لیا ہے ، لیکن میں طواف نہ کر سکی اور اب حج کے دن بھی آ گئے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالی نے اس چیز کو بناتِ آدم پر مقرر کیا ہے،اب تم غسل کرکے حج کا احرام باندھ لو اور حج ادا کرو۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: میں نے اسی طرح کیا، پھر جب میں حیض سے پاک ہو گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لو، اس طرح تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو جاؤ گی۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے دل میں یہ کھٹکا سا ہے کہ میں عمرہ کا احرام باندھنے کے باوجود بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی،یہاں تک کہ میں حج سے فارغ ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عبد الرحمن! جاؤ اور اپنی بہن کو تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ۔