Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 70 · Chapter 711

یوم عاشوراء

رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان

9 hadiths in this chapter

4042

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4042

Sahih

۔ (۴۰۴۲) عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیشٍ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: تَذَاکَرَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ الْقَدْرِ، فَقَالَ اُبَیٌّ: اَنَا وَالَّذِی لَا اِلٰہَ غَیْرُہُ! اَعْلَمُ اَیَّ لَیْلَۃٍ ہِیَ، ہِیَ اللَّیْلَۃُ الَّتِی اَخْبَرَنَا بِہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃُ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ تَمْضِی مِنْ رَمَضَانَ وَآیَۃُ ذَالِکَ اَنَّ الشَّمْسَ تُصْبِحُ الْغَدَ مِنْ تِلْکَ الَّلیْلَۃِ تَرَقْرَقُ، لَیْس لَہَا شُعَاعٌ، فَزَعَمَ سَلَمَۃُ بْنُ کُہَیْلٍ اَنَّ زِرًّا اَخْبَرَہُ اَنَّہُ رَصَدَہاَ ثَلَاثَ سِنِیْنَ مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍیَدْخُلُ رَمَضَانُ إِلٰی آخِرِہِ، فَرَآہَاتَطْلُعُ صَبِیْحَۃَ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ، تَرَقْرَقُ لَیْسَ لَہَا شُعَاعٌ (وَفِی رِوَایَۃٍ: بَیْضَائَ تَرَقْرَقُ)۔ (مسند احمد: ۲۱۵۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زربن حبیش بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے شب ِ قدر کے بارے میں آپس میں بحث کی، سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: معبودِ برحق کی قسم! میں جانتا ہوں کہ وہ کونسی رات ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس کے بارے میں بتلایا تھا، یہ ماہِ رمضان کی ستائیس تاریخ کی رات ہے، اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح کو جب سورج بلند ہو رہا ہوتا ہے تو اس کی شعائیں نہیں ہوتیں۔سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ زرّ نے اسے بتلایا کہ اس نے مسلسل تین برس تک پورا ماہِ رمضان طلوع آفتاب کا مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ واقعی ستائیس کی صبح کو سورج طلوع کے بعد جب بلند ہو رہا ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، جبکہ اس کا رنگ سفید ہوتا ہے۔

4043

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4043

Sahih

۔ (۴۰۴۳) عَنْ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَۃَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ إِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ الْاَوَّلِ ثُمَّ قَالَ: ((لَا اَحْسَبُ مَا تَطْلُبُوْنَ إِلَّاوَرَائَ کُمْ۔)) ثُمَّ قُمْنَا مَعَہُ لَیْلَۃَ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ إِلٰی نِصْفِ اللَّیْلِ، ثُمَّ قَالَ: ((لَا اَحْسَبُ مَا تَطْلُبُوْنَ إِلَّا وَرَائَ کُمْ۔)) فَقُمْنَا مَعَہُ لَیْلَۃَ سََبْعٍ وَعِشْرِیْنَ حَتَّی اَصْبَحَ وَسَکَتَ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے ماہِ رمضان کی تئیسویں رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ رات کے پہلے ایک تہائی تک قیام کیا، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم جس چیز کو تلاش کر رہے ہو، وہ بعد میں آئے گی۔ پس ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پچیسویں رات کو نصف رات تک قیام کیا، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم جس رات کے متلاشی ہو وہ اس کے بعد ہوگی۔ سو ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ستائیسویں شب کو صبح تک قیام کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے۔

4044

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4044

Sahih

۔ (۴۰۴۴) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِی ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ عَنْ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِاُبَیٍّ: اَخْبِرْنِیْ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَإِنَّ ابْنَ اُمِّ عَبْدٍ کَانَ یَقُوْلُ: مَنْ یَقُمِ الْحَوْلَ یُصِبْہَا۔ قَالَ: یَرْحَمُ اللّٰہُ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَدْ عَلِمَ اَنَّہَا فِی رَمَضَانَ، فَإِنَّہَا لِسَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ وَلَٰکِنَّہُ عَمّٰی عَلٰی النَّاسِ لِکَیْلَایَتَّکِلُوْا، فَوَاللّٰہِ الَّذِی اَنْزَلَ الْکِتَابَ عَلٰی مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنَّہَا فِی رَمَضَانَ لَیْلَۃُ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ، قَالَ: قُلْتُ: یَا اَبَا الْمُنْذِرِ! وَاَنّٰی عَلِمْتَہَا؟ قَالَ: بِالْآیَۃِ الَّتِی اَنْبَاَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا فَوَاللّٰہِ إِنَّہَا لَہِیَ مَا یُسْتَثْنِی، قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا الْآیَۃُ؟ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ غَدَاۃَ إِذٍ کَاَنَّہَا طَسْتٌ، لَیْسَ لَہَا شُعَاعٌ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ: حَتَّی تَرْتَفِعَ)۔ (مسند احمد: ۲۱۵۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زِرّ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ مجھے شب ِ قدر کے بارے میں بتائیں، ام عبد کا بیٹایعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو یہ کہتے ہیں کہ جو آدمی سارا سال قیام کرے گا،وہ اس رات کو پا ہی لے گا۔ سیدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر رحم فرمائے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ رات ماہِ رمضان میں ہے اور ہے بھی ستائیسویں رات، دراصل انہوں نے اس رات کے تعین کو لوگوں سے اس لیے پوشیدہ رکھا کہ لوگ اسی پر اکتفا کر لیں گے (باقی راتوں کا قیام ترک کر دیں گے)۔ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر کتاب اتارنے والے اللہ کی قسم! یہ رات ماہِ رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔ میں نے سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابومنذر! یہ علم آپ کو کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک علامت بتلائی تھی، پھر ہم نے اسے شمار کیا اور خوب یاد رکھا۔ اللہ کی قسم! وہ یہی رات ہے۔ زِرّ نے کہا: سیدنا ابی نے استثنا نہیں کیا، (ان شاء اللہ بھی نہیں کہا)۔ میں (عاصم) نے زر سے کہا: وہ علامت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: وہ یہ ہے کہ شب ِ قدر کی صبح کو سورج ایک تھال کی مانند دکھائی دیتا ہے، اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں،یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔

4045

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4045

Sahih

۔ (۴۰۴۵) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِی سُلَیْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَیْشٍیَقُوْلُ: لَوْلَاسُفَہَاؤُکُمْ، لَوَضَعْتُ یَدَیَّ فِی اَذُنَیَّ ثُمَّ نَادَیْتُ: اَلَا إِنَّ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی رَمَضَانَ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فِی السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ، قَبْلَہَا ثَلَاثٌ وَبَعْدَہَا ثَلَاثٌ، نَبَاُ مَنْ لَمْ یَکْذِبْنِیْ عَنْ نَبَائِ مَنْ لَمْ یَکْذِبْہُ، قُلْتُ ِلاَبِییُوْسُفَ: یَعْنِی اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: کَذَا ہُوَ عِنْدِی۔ (مسند احمد: ۲۱۵۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زربن حبیش نے کہا: اگر یہ کم عقل لوگ نہ ہوتے تو میں کان میں انگلی ڈال کر زور زور سے یہ اعلان کرتا کہ شب ِ قدر، ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی آخری سات راتوں میں سے پہلے تین راتوں کے بعد اور آخری تین راتوں سے پہلے ہوتی ہے، اس شخصیت نے مجھے یہ بات بتائی جو مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی اور اس کو ایسی ہستی نے بیان کیا کہ وہ بھی اس کو جھوٹی بات بیان نہیں کر سکتی۔ میں نے ابو یوسف سے کہا: کیا ان کی مراد سیدنا ابی بن کعب اور نبی ٔ کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں؟ انھوں نے کہا: جی، اسی طرح بات ہے۔

4046

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4046

Sahih

۔ (۴۰۴۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَجُلاً اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَتٰی لَیْلَۃُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ((مَنْ یَذْکُرُ مِنْکُمْ لَیْلَۃَ الصَّہْبَاوَاتِ؟)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: اَنَا بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ، وَإِنَّ فِییَدِی لَتَمَرَاتٍ اَتَسَحَّرُ بِہِنَّ، مُسْتَتِرًا بِمُؤْخِرَۃِ رَحِلِیْ مِنَ الْفَجْرِ وَذَالِکَ حِیْنَ طَلَعَ الْقَمَرُ۔ (مسند احمد: ۳۵۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ سوال کیا: شب ِ قدر کب ہوتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو یاد ہے کہ صہباوات والی رات کون سی تھی؟ سیدناعبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، مجھے یاد ہے، اس رات کو سحری کے وقت میں ہاتھ میں کھجوریں لے کر سحری کر رہا تھا اور طلوع فجر کے ڈر سے پالان کے پیچھے چھپا ہوا تھا، جبکہ اس وقت چاند طلوع ہو چکا تھا۔

4047

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4047

Sahih

۔ (۴۰۴۷) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَجُلاً اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! إِنِّیْ شَیْخٌ عَلِیْلٌ،یَشُقُّ عَلَیَّ الْقِیَامُ فَاْمُرْنِیْ بِلَیْلَۃٍ لَعَلَّ اللّٰہَ یُوَفِّقُنِیْ فِیْہَا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ، قَالَ: ((عَلَیْکَبِالسَّابِعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آیا اوراس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں بوڑھا اوربیمار آدمی ہوں، میرے لیے قیام کرنا مشکل ہے، لہذا آپ میرے لیے کسی ایک رات کا تعین کر دیں، شاید اللہ تعالیٰ مجھے اس میں شب ِ قدر کی سعادت سے نواز دے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ساتویں یعنی ستائیسویں رات کا اہتمام کرو۔

4048

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4048

Sahih

۔ (۴۰۴۸) عَنْ اَبِی عَقْرَبٍ، قَالَ: غَدَوْتُ إِلَی ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ذَاتَ غَدَاۃٍ فِی رَمَضَانَ فَوَجَدْتُّہُ فَوْقَ بَیْتِہٖ جَالِسًا فَسَمِعْنَا صَوْتَہُ وَہُوَ یَقُوْلُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَبَلَّغَ رَسُوْلُہُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی النِّصْفِ مِنَ السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ غَدَاۃَ إِذٍ صَافِیَۃً لَیْسَ لَہَا شُعَاعٌ۔)) فَنَظَرْتُ إِلَیْہَا فَوَجَدْتُّہَا کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۸۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عقرب کہتے ہیں:میں ماہِ رمضان میں ایک دن صبح کے وقت سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گیا، میں نے دیکھا کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے تھے، اتنے میں ہم نے ان کو یوں کہتے ہوئے سنا: اللہ نے سچ کہا اور اس کے رسول نے پہنچا دیا، پھریہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد ہے: بلاشبہ ماہِ رمضان کی آخری سات راتوں کی درمیانی شب قدر والی ہے، اس کی صبح کو جب سورج طلوع ہوتا ہے تو وہ بالکل صاف ہوتا ہے اور اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔ میں نے ابھی اس کی طرف دیکھا ہے اور اس کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کے مطابق پایا۔

4049

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4049

Sahih

۔ (۴۰۴۹) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ قَالَ: قَرَاْتُ عَلٰی اَبِی ھٰذَا الْحَدِیْثَ وَسَمِعْتُہُ سَمَاعًا، قَالَ: حَدَّثَنَا الْاَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ: اَخْبَرَنِی، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، قَالَ: ((مَنْ کَانَ مُتَحَرِّیَہَا فَلْیَتَحَرَّہَا فِی لَیْلَۃِ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ)) قَالَ: شُعْبۃُ وَذَکَر لِی رَجُلٌ ثِقَہٌ عَنْ سُفْیَانَ اَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ: إِنَّمَا قَالَ: ((مَنْ کَانَ مُتَحَرِّیَہَا فَلْیتَحَرَّہَا فِی السَّبْعِ الْبَوَاقِیْ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: فَلَا اَدْرِیْ قَالَ ذَا اَوْ ذَا، شعُبْۃُ ُشَکَّ، قَالَ اَبِیْ: الرَّجُلُ الثِقَۃُیَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ الْقَطَّانُ۔ (مسند احمد: ۶۴۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شب ِ قدر کے بارے میں فرمایا: جو آدمی اس رات کا متلاشی ہو تو وہ اسے ستائیسویں شب میں تلاش کرے۔ امام شعبہ نے کہا: ایک ثقہ آدمی نے مجھے بیان کیا کہ امام سفیان تو یہ کہا کرتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو اس طرح فرمایا تھا کہ جو آدمی اس رات کا متلاشی ہو تو وہ اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔ امام شعبہ نے کہا: اب میں نہیں جانتا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ جملہ ارشاد فرمایایا دوسرا، امام شعبہ کو شک ہو گیا، امام احمد نے کہا: ثقہ آدمی سے مراد امام یحیی بن سعید قطان ہیں۔

4050

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4050

Sahih

۔ (۴۰۵۰) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ: ((إِنَّہَا لَیْلَۃُ سَابِعَۃٍ اَوْ تَاسِعَۃٍ وَعِشْرِیْنَ، إِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ فِی اْلاَرْضِ اَکْثَرُ مِنْ عَدَدِ الْحَصٰی۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شب ِ قدر کے بارے میں فرمایا: یہ ستائیسویں یا انتیسویں رات ہوتی ہے، اس شب کو کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ فرشتے زمین پر اترتے ہیں۔