Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 70 · Chapter 707

یوم عاشوراء

ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان

8 hadiths in this chapter

4025

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4025

Sahih

۔ (۴۰۲۵) عَنْ عُیَنْیَۃَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: ذُکِرَتْ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ عِنْدَ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: مَا اَنَا بِمُلْتَمِسِہَا بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَّا فِی عَشْرِ اْلاَوَاخِرِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فِی الْوِتْرِ مِنْہُ۔)) قَالَ: فَکَانَ اَبُوْ بَکْرَۃَیُصَلِّیْ فِی الْعِشْرِیْنَ مِنْ رَمَضَانَ کَصَلَاتِہٖفِی سَائِرِ السَّنَۃِ، فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اِجْتَہَدَ۔ (مسند احمد: ۲۰۶۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس شب ِ قدر کا ذکر ہوا، انہوں نے کہا:میں تو اس رات کو صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا، کیونکہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا معمول یہ تھا کہ وہ رمضان کے پہلے بیس دنوں میں تو پورے سال والی عادت کے مطابق نماز پڑھتے، لیکن جب آخری عشرے کا آغاز ہو جاتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے۔

4026

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4026

Sahih

۔ (۴۰۲۶) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلْتَمِسُوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فِی وِتْرٍ، فَإِنِّی قَدْ رَاَیْتُہَا فَنُسِّیْتُہَا وَہِیَ لَیْلَۃُ مَطَرٍ وَرِیْحٍ اَوْ قَالَ: قَطْرٍ وَرِیْحٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناجابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم شب ِ قدر کو ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو، میں نے اس رات کو دیکھا تو تھا، لیکن پھر مجھے بھلا دیا گیا، (اس دفعہ) یہ بارش اور ہوا والی رات ہو گی۔

4027

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4027

Sahih

۔ (۴۰۲۷) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الْصَامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُرِیْدُ اَنْ یُخْبِرَنَا بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحٰی رَجُلَانِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَرَجْتُ وَاَنَا اُرِیْدُ اَنْ اُخْبِرَکُمْ بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَتَلاحٰی رُجَلَانِ فَرُفِعَتْ، وَعَسٰی اَنْ یَکُوْنَ خَیْرًا لَکُمْ، فَالْتَمِسُوْہَا فِی التَّاسِعَۃِ، اَوِالسَّابِعَۃِ اَوِ الْخَامِسَۃِ،(وَفِی لَفْظٍ فَاطْلُبُوْہَا فِی الْعَشْرِالْاَوَاخِرِ فِی تَاسِعَۃٍ اَوْ سَابِعَۃٍ اَوْ خَامِسَۃٍ)۔)) (مسند احمد: ۲۳۰۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف آئے ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں بتلانا چاہتے تھے، (لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ) دو آدمی جھگڑ رہے تھے، اور پھر فرمایا: میں تمہیں شب ِ قدر کے بارے میں بتلانے کے لیے آرہا تھا، لیکن جب دو آدمیوں کو جھگڑتا ہوا پایا تو وہ علامتیں اٹھا لی گئیں اور ممکن ہے کہ اسی میں تمہارے لیے خیر اور بہتری ہو، اب تم اس کو آخری عشرے میں اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرنا۔

4028

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4028

Sahih

۔ (۴۰۲۸) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ فِی لَیْلَۃَ الْقَدْرِ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ، فَالْتََمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ وِتْرًا، فَفِی اَیِّ الْوِتْرِ تَرَوْنَہَا۔ (مسند احمد: ۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شب ِ قدر کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے، تم اس کو جانتے ہی ہو، تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا کرو، تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ کونسی طاق رات ہوگی؟

4029

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4029

Sahih

۔ (۴۰۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ اْلاَوَاخِرِ فِی تَاسِعَۃٍ تَبْقٰی، اَوْ خَامِسَۃٍ تَبْقٰی اَوْ سَابِعَۃٍ تَبْقٰی۔)) (مسند احمد: ۳۴۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس رات کو آخری عشرے میں اس وقت تلاش کیا کرو، جب نو یا پانچ یا سات راتیں باقی ہوں۔

4030

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4030

Sahih

۔ (۴۰۳۰) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلَہُ۔

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔

4031

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4031

Sahih

۔ (۴۰۳۱) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَرَجْتُ إِلَیْکُمْ وَقَدْ بُیِّنَتْ لِیْ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ وَمَسِیْحُ الضَّلَالَۃِ، فَکَانَ تَلَاحٍ بَیْنَ رَجُلَیْنِ بِسُدَّۃِ الْمَسْجِدِ، فَاَتَیْتُہُمَا لِاَحْجِزَ بَیْنَہُمَا فَاُنْسِیْتُہَا وَسَاَشْدُوا لَکُمْ شَدْوًا، اَمَّا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ فَالْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ وِتْرًا، وَاَمَا مَسِیْحُ الضَّلَالَۃِ فَإِنَّہُ اَعُوْرُ الْعَیْنِ، اَجْلَی الْجَبْہَۃِ، عَرِیْضُ النَّحْرِ، فِیْہِ دَفًا، کَاَنَّہُ قَطَنُ بْنُ عَبْدِ الْعُزّٰی۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، یَضُرُّنِیْ شَبَہُہُ؟ قَالَ: ((لاَ، اَنْتَ امْرُؤٌ مُسْلِمٌ وَہُوَ امْرُؤٌ کَافِرٌ۔)) (مسند احمد: ۷۸۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے شب ِ قدر اور ضلالت والے مسیح دجال کے بارے میں حتمی طور پر بتلا دیا گیا تھا، میں تمہیں آگاہ کرنے کے لیے آیا، لیکن مسجد کے دروازے پر دو آدمی آپس میں الجھ رہے تھے، میں ان کے درمیان رکاوٹ بننے کے لیے ان کی طرف گیا، اتنے میں مجھے ان باتوں کا علم بھلا دیا گیا، اب بالاختصار بات یہ ہے کہ تم شب ِ قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو اور دجال کانا ہوگا، پیشانی پر بال تھوڑے ہوں گے، گردن موٹی ہوگی، کبڑے پن کی وجہ سے جھکا ہوا ہو گا، یوں سمجھیں کہ گویا کہ وہ قطن بن عبدالعزی کے مشابہ ہوگا۔ یہ سن کر سیدنا قطن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس کے ساتھ میری مشابہت میرے لیے نقصان دہ تو نہیں ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، تم مسلمان ہو اور وہ کافر ہوگا۔

4032

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4032

Sahih

۔ (۴۰۳۲) عَنْ اَبِی نَضْرَۃَ عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِعْتَکَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَشْرَ اْلاَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَہُوَ یَلْتَمِسُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ قَبْلَ اَنْ تُبَانَ لَہُ، فَلَمَّا تَفَضَّیْنَ اَمَرَ بِبُنْیَانِہِ، فَنُقِضَ ثُمَّ اُبِیْنَتْ لَہُ اَنَّہا فِی الْعَشْرِالْاَوَاخِرِ، فَاَمَرَ بِالْبِنَائِ فَاُعِیْدَ، ثُمَّ اعْتَکَفَ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: ((یَا اَیُّہَا النَّاسُ! اَنَّہَا اُبِیْنَتْ لِیْ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ فَخَرَجْتُ لِاُخْبِرَکُمْ فَجَائَ رَجُلَانِ یَحْتَقَّانِ، مَعَھُمَا الشَّیْطَانُ فَنُسِّیْتُہَا، فَالْتَمِسُوْہَا فِی التَّاسِعَۃِ وَالسَّابِعَۃِ وَالْخَامِسَۃِ۔)) فَقُلْتُ: یَا اَبَا سَعِیْدٍ! إِنَّکُمْ اَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، قَالَ: اَنَا اَحَقُّ بِذَاکَ مِنْکُمْ، فَمَا التَّاسِعَۃُ وَالسَّابِعَۃُ وَالْخَامِسَۃُ؟ قَالَ: تَدَعُ الَّتِی تَدْعُوْنَ إِحْدٰی وَعِشْرِیْنَ وَالَّتِی تَلِیْہَا التَّاسِعَۃُ، وَتَدَعُ الَّتِی تَدْعُوْنَ ثَلَاثَۃً وَعِشْرِیْنَ وَالَّتِی تَلِیْہَا السَّابِعَۃُ، وَتَدَعُ الَّتِی تَدْعُوْنَ خَمْسَۃً وَعِشْرِیْنَ وَالَّتِی تَلِیْہَا الْخَامِسَۃُ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شب ِ قدر کی وضاحت سے قبل رمضان کے درمیانے عشرے کا اعتکاف کیا، جب یہ عشرہ بیت گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے حجرے کو اکھاڑنے کا حکم دیا، سو اسے اکھاڑ دیا گیا، بعد ازاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر واضح ہوا کہ وہ رات تو آخری عشرے میں ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ وہ حجرہ دوبارہ لگا دیا جائے، پس اسے دوبارہ کھڑا کر دیا گیا، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آخری عشرے کا اعتکاف کیا، پھر لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: لوگو! مجھے حتمی طور پر شب ِ قدر کے بارے میں بتلا دیا گیا تھا اور میں تمہیں آگاہ کرنے کے لیے آرہا تھا، لیکن ہوا یوں کہ دو آدمی آپس میں جھگڑ رہے تھے،ان کے ساتھ شیطان بھی تھا، پس مجھے یہ علم بھلا دیا گیا، اب تم اس رات کو نویں اور ساتویں اور پانچویں طاق رات میں تلاش کرو۔ میں ابونضرہ نے کہا:اے ابوسعید! آپ ہم سے بہتر گنتی جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہم (صحابہ ہونے کی وجہ سے) تمہاری بہ نسبت اس کے زیادہ حقدار بھی ہیں۔ میں نے کہا: نویں، ساتویں اور پانچویں رات کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے کہا: جس رات کو تم اکیسویں رات کہتے ہو، اسے چھوڑ دو، اس سے اگلی رات نویں ہے،جس رات کو تم تئیسویں رات کہتے ہو، اسے چھوڑ دو اس سے اگلی رات ساتویں ہے اور جس رات کو تم پچیسویں رات کہتے ہو، اسے چھور دو، اس سے اگلی رات پانچویں ہے۔