Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 70 · Chapter 706

یوم عاشوراء

شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان

3 hadiths in this chapter

4022

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4022

Sahih

۔ (۴۰۲۲) عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْلَۃُ الْقَدْرِ فِی الْعَشْرِ الْبَوَاقِیْ مَنْ قَامَہُنَّ اِبْتِغَائَ حِسْبَتِہِنَّ، فَإِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰییَغْفِرُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ وَمَا تَاَخَّرَ، وَہِیَ لَیْلَۃُ وِتْرٍ تِسْعٍ، اَوْ سَبْعٍ اَوْ خَامِسَۃٍ اَوْ ثَالِثَۃٍ، اَوْ آخِرِ لَیْلَۃٍ۔)) وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اَمَارَۃَ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ اَنَّہَا صَافِیَۃٌ بَلْجَۃٌ، کَاَنَّ فِیْہَا قَمَرًا سَاطِعًا، سَاکِنَۃٌ سَاجِیَۃٌ، لَا بَرْدَ فِیْہَا ولَا حَرَّ ، وَلَا یَحِلُّ لِکَوْکَبٍ اَنْ یُرْمَی بِہِ فِیْہَا حَتّٰی تُصْبِحَ، وَإِنَّ اَمَارَتَہَا اَنَّ الشَّمْسَ صَبِیْحَتَہَا تَخْرُجُ مُسْتَوِیْۃً، لَیْسَ لَہَا شُعَاعٌ مِثْلَ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ، وَلَا یَحِلُّ لِلْشَّیْطَانِ اَنْ یَخْرُجَ مَعَہَا یَوْمَئِذٍ)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شب ِ قدر، ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے، جو آدمی اجرو ثواب کی خاطر ان دس راتوں میں قیام کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے گا، یہ رات طاق راتوں یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں یا انتیسوں کو ہو گی۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بھی فرمایا: شب ِ قدر کی علامت یہ ہے کہ یہ رات صاف اور روشن ہوتی ہے، گویا اس میں چاند چمک رہا ہے، انتہائی پرسکون ہوتی ہے، اس رات میں سردی ہوتی ہے نہ گرمی، اس رات کو صبح تک کسی تارے کو نہیں پھینکا جاتا اور جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، وہ چودھویں کے چاند کی مانند ہوتا ہے اوراس روز اس کے طلوع ہوتے وقت شیطان اس کے سامنے نہیں آتا۔

4023

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4023

Sahih

۔ (۴۰۲۳) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اَخْبَرْنَا رَسُوْلُ للّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: ((ہِیَ فِی شَہْرِ رمَضَانَ فَالْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فَإِنَّہَا فِی وِتْرٍ لَیْلَۃِ إِحْدٰی وَعِشْرِیْنَ اَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ اَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ اَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِیْنَ اَوْ آخِرِ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ، مَنْ قَامَہَا احْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہِ (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ وَمَا تَاَخَّرَ)۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ رات ماہِ رمضان میں ہوتی ہے، پس تم اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو اور اس عشرے کی بھی طاق راتوں میں،یعنی اکیسویں یا تئیسویں یا پچیسویں یا ستائیسویں یا رمضان کی آخری رات میں، جس نے اجرو ثواب کے حصول کے لیے اس رات قیام کیا، اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

4024

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #4024

Sahih

۔ (۴۰۲۴) عَنْ اَبِی بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِلْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ لِتِسْعٍ یَبْقَیْنَ، اَوْ لِسَبْعٍ یَبْقَیْنَ اَوْ لِخَمْسٍ اَوْ ثَلَاثٍ اَوْ آخِرِ لَیْلَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اس رات کو آخری عشرہ میں تلاش کرو، یعنی جب ماہِ رمضان کے نو دن یا سات دن یا پانچ دن یا تین دن باقی ہوں یا پھر اس ماہ کی آخری رات کو۔