Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 7 · Chapter 73

نجاست کو پاک کرنے کے ابواب

اس چیز کا بیان کہ مردار کے چمڑوں کو کھانا حرام ہے، اگرچہ ان کو رنگ کر پاک کر لیا جائے

1 hadith in this chapter

425

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #425

Zaeef

۔ (۴۲۵)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: مَاتَتْ شَاۃٌ لِسَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَاتَتْ فُلَانَۃٌ تَعْنِیْ شَاۃً، فَقَالَ: ((فَلَوْ لَا أَخَذْتُمْ مَسْکَہَا۔)) فقَالَتْ: نَأْخُذُ مَسْکَ شَاۃٍ قَدْ مَاتَتْ؟ فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّمَا قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِیْمَا أُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَطْعَمُہُ اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ مِیْتَۃً أَوْ دَمًّا مَسْفُوْحًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ} فَاِنَّکُمْ لَا تَطْعَمُوْنَہُ، اِنْ تَدْبُغُوْہُ فَتَنْتَفِعُوْا بِہِ۔))،فَأَرْسَلَتْ اِلَیْہَا فَسَلَخَتْ مَسْکَہَا فَدَبَغَتْہُ فَأَخَذَتْ مِنْہُ قِرْبَۃً حَتّٰی تَخَرَّقَتْ عِنْدَہَا۔ (مسند أحمد: ۳۰۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓکی بکری مر گئی، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں بکری مر گئی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم نے اس کا چمڑا کیوں نہیں اتار لیا۔ انھوں نے کہا: ہم مر جانے والی بکری کا چمڑا کیسے اتار لیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ احکام بذریعہ وحی میرے پاس آئے اس میں کوئی حرام نہیں پاتا کسی کھانے والے کے لیے جو اس کو کھائے، مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو۔ (سورۂ انعام: ۱۴۵) پس بیشک تم نے اس کے چمڑے کو کھانا تو نہیں ہے، اگر تم اس کو رنگ لو تو اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ پس انھوں نے کسی بندے کو بھیج کر (اس بکری کو منگوا لیا) اور اس کی کھال اتار لی اور اس کو رنگ کر اس کا مشکیزہ بنا لیا، (پھر وہ اس کو استعمال کرتی رہیں) یہاں تک کہ وہ ان کے پاس ہی پھٹ گیا تھا۔