Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 7 · Chapter 72

نجاست کو پاک کرنے کے ابواب

مردار کے چمڑے کو رنگ کر پاک کرنے کا بیان

11 hadiths in this chapter

414

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #414

Sahih

۔ (۴۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ وَہْلَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ قَالَ: قُلْتُ لَہُ: اِنَّا نَغْزُوْ فَنُؤْتٰی بِالْاِہَابِ وَالْأَسْقِیَۃِ، قَالَ: مَا أَدْرِیْ مَا أَقُوْلُ لَکَ اِلَّا أَنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((أَیُّمَا اِہَابٍ دُبِغَ فقَدْ طَہُرَ۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد الرحمن بن وہلہ نے سیدنا ابن عباس ؓ سے کہا: بیشک جب ہم جہاد کرتے ہیں تو ہمارے پاس چمڑے اور مشکیزے لائے جاتے ہیں، انھوں نے آگے سے کہا: مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں تجھ سے کیا کہوں، البتہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو چمڑا بھی رنگا جائے، پس تحقیق وہ پاک ہو جاتا ہے۔

415

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #415

Sahih

۔ (۴۱۵)۔عَنْ عَائِشَۃَ ؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ أَنْ یُنْتَفَعَ بِجُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ اِذَا دُبِغَتْ۔ (مسند أحمد: ۲۴۹۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مردار جانوروں کے چمڑوں سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا، بشرطیکہ اس کو رنگ دیا جائے۔

416

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #416

Sahih

۔ (۴۱۶)۔وَعَنْہَا أَیْضًا قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ جُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ فَقَالَ: ((دِبَاغُہَا طَہُوْرُہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۵۷۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہؓ سے یہ بھی روایت ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے مردار کے چمڑوں کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: ان کا رنگنا ان کو پاک کرنا ہے۔

417

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #417

Sahih

۔ (۴۱۷)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ سَوْدَۃَ بِنْتِ زَمْعَۃَ زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: مَاتَتْ شَاۃٌ لَنَا فَدَبَغْنَا مَسْکَہَا فَمَا زِلْنَا نَنْبِذُ فِیْہِ حَتَّی صَارَ شَنًّا۔ (مسند أحمد: ۲۷۹۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجہ ٔ رسول سیدہ سودہ بنت زمعہ ؓ نے کہا: ہمارے ایک بکری مر گئی تھی، پس ہم نے اس کے چمڑے کو رنگ لیا اور اس میں نبیذ بناتے رہے، یہاں تک کہ وہ بوسیدہ ہو گیا۔

418

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #418

Sahih

۔ (۴۱۸)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِبَیْتٍ بِفِنَائِہِ قِرْبَۃٌ مُعَلَّقَۃٌ فَاسْتَسْقٰی فَقِیْلَ اِنَّہَا مَیْتَۃٌ فَقَالَ: ((ذَکَاۃُ الْأَدِیْمِ دِبَاغُہُ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((دِبَاغُہَا طَہُوْرُہَا أَوْ ذَکَاتُہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۶۰۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سلمہ بن محبقؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ایک گھر کے پاس سے گزرے، اس گھر کے صحن میں لٹکاہوا ایک مشکیزہ تھا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانی طلب کیا، لیکن کہا گیا کہ یہ تو مردار کا چمڑا ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: چمڑے کو پاک کرنا اس کو رنگنا ہے۔ ایک روایت میں ہے: اس کو رنگنا اس کو پاک کرنا ہے۔

419

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #419

Zaeef

۔ (۴۱۹)۔ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلیِّ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَائٍ فَأَتَیْتُ خِبَائً فَاِذَا فِیْہِ امْرَأَۃٌ أَعْرَابِیَّۃٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: اِنَّ ہَذَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یُرِیْدُ مَائً یَتَوَضَّأُ، فَھَلْ عِنْدَکِ مِنْ مَائٍ؟ قَالَتْ: بِأَبِیْ وَأُمِّیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَوَاللّٰہِ! مَا تُظِلُّ السَّمَائُ وَلَا تُقِلُّ الْاََرْضُ رُوْحًا أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ رُوْحِہِ وَلَا أَعَزَّ، وَلَکِنَّ ہٰذِہِ الْقِرْبَۃَ مَسْکُ مَیْتَۃٍ وَلَا أُحِبُّ أُنَجِّسُ بِہِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم، فَرَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: ((ارْجِعْ اِلَیْہَا، فَاِنْ کَانَتْ دَبَغَتْہَا فَہِیَ طَہُوْرُہَا۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ اِلَیْہَا فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہَا فقَالَتْ: اَیْ وَاللّٰہِ! لَقَدْ دَبَغْتُہَا، فَأَتَیْتُہُ بِمَائٍ مِنْہَا وَعَلَیْہِ یَوْمَئِذٍ جُبَّۃٌ شَامِیَّۃٌ وَعَلَیْہِ خُفَّانِ وَ خِمَارٌ، قَالَ: فَأَدْخَلَ یَدَہُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ، قَالَ: مِنْ ضِیْقِ کُمِّہَا، قَالَ: فتَوَضَّأَ فَمَسَحَ عَلَی الْخِمَارِ وَالْخُفَّیْنِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مجھے پانی کے ساتھ طلب کیا، پس میں ایک خیمہ میں گیا، اس میں ایک بدّو خاتون تھی، میں نے اس سے کہا: یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہیں اور آپ وضو کرنے کے لیے پانی چاہ رہے ہیں، تو کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ اس نے کہا:میرے ماں باپ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر قربان ہوں، پس اللہ کی قسم! نہ آسمان نے ایسی روح پر سایہ کیا اور نہ زمین نے ایسی روح کو اٹھایا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی روح کی بہ نسبت مجھے محبوب اور معزَّز ہو، لیکن بات یہ ہے کہ یہ مشکیزہ تو مردار کے چمڑے کا ہے اور میں یہ پسند نہیں کروں گی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو اس کے ذریعے ناپاک کر دوں، پس میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی طرف لوٹا اور یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم اس کی طرف واپس جاؤ، اگر تو اس نے اس کو رنگا تھا تو یہی اس کو پاک کرنا ہے۔ پس میں اس کی طرف لوٹا اور اس کو یہ فرمان بتایا، اس نے کہا: جی اللہ کی قسم! میں نے اس کو رنگا تھا، پس میں پانی لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، اس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے شامی جُبّہ زین تن کیا ہوا تھا اور دو موزے بھی پہنے ہوئے اور پگڑی بھی باندھی ہوئی تھی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے آستینیں تنگ ہونے کی وجہ سے جُبّہ کے نیچے سے ہاتھ نکال لیے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور پگڑی اور موزوں پر مسح کیا۔

420

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #420

Sahih

۔ (۴۲۰)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ جُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ قَالَ: ((اِنَّ دِبَاغَہُ قَدْ أَذْہَبَ نَجَسَہُ أَوْ رِجْسَہُ أَوْ خَبَثَہُ))(مسند أحمد:۲۸۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مردار کے چمڑے کے بارے میں فرمایا: بیشک اس کا رنگنا اس کی نجاست کو ختم کر دیتا ہے۔

421

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #421

Sahih

۔ (۴۲۱)۔وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ دَاجِنَۃً لِمَیْمُوْنَۃَ (ؓ) مَاتَتْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((أَلَا اِنْتَفَعْتُمْ بِاِہَابِہَا، اَ لَا دَبَغْتُمُوْہُ فِاِنَّہُ ذَکَاتُہُ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس ؓ سے ہی مروی ہے کہ سیدہ میمونہ ؓکی پالتو بکری مر گئی، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا، تم نے اس کو رنگ کیوں نہیں لیا، پس یہی اس کو پاک کرنا ہے۔

422

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #422

Sahih

۔ (۴۲۲)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ (زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم): أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِشَاۃٍ لِمَوْلَاۃٍ لِمَیْمُوْنَۃَ مَیْتَۃٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّمَا حَرُمَ أَکْلُہَا۔)) قَالَ سُفْیَانُ: ہٰذِہِ الْکَلِمَۃُ لَمْ أَسْمَعْہَا اِلَّا مِنَ الزُّہْرِیِّ ((حَرُمَ أَکْلُہَا۔)) قَالَ أَبِیْ: قَالَ سُفْیَانُ مَرَّتَیْنِ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ۔ (مسند أحمد: ۳۰۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کی لونڈی کی مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ امام سفیان نے کہا: میں نے صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ کے الفاظ صرف امام زہری سے سنے ہیں۔ میرے باپ (امام احمد) نے کہا: سفیان نے دو مرتبہ میمونہ کے واسطہ سے حدیث بیان کی ہے۔

423

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #423

Sahih

۔ (۴۲۳)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّ بِشَاۃٍ مَیْتَۃٍ فَقَالَ: ((ہَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِاِہَابِہَا۔)) فقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہا مَیْتَۃٌ، فَقَالَ: ((اِنَّمَا حَرُمَ أَکْلُہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۳۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک مردار بکری کے پاس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا گزر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک یہ تو مردار ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے۔

424

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #424

Zaeef

۔ (۴۲۴)۔عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: مَرَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرِجَالٍ مِنْ قُرَیْشٍ یَجُرُّوْنَ شَاۃً لَہُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَوْ أَخَذْتُمْ اِہَابَہَا)) قَالُوْا: اِنَّہَا مَیْتَۃٌ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یُطَہِّرُہَا الْمَائُ وَالْقَرَظُ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ؓ کہتی ہے کہ قریش کے چند مردوں سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا گزر ہوا، وہ ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ کر لے جا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ان سے فرمایا: کاش تم اس کا چمڑا اتار لیتے۔ انھوں نے کہا: یہ تو مردار ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: پانی اور قرظ اس کو پاک کر دیں گے۔