Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 69 · Chapter 672

روزے دار کا وصال کرنا

مریض، بوڑھے، حاملہ اور مرضِعہ کے روزے کے حکم کا بیان

2 hadiths in this chapter

3850

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3850

Sahih

۔ (۳۸۵۰) عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ کَعْبٍ (زَا دَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ولَیْسَ بِالْاَنْصَارِیِّ) قَالَ: اَغَارَتْ عَلَیْنَا خَیْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِی لَفْظٍ: اَتْیَتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی إِبِلٍ لِجَارِیْ اُخِذَتْ) فَاَتَیْتُہُ وَہُوَ یَتَغَدّٰی، فَقَالَ: ((اُدْنُ فَکُلْ۔)) قُلْتُ: إِنِّی صَائِمٌ، قَالَ: ((اجْلِسْ اُحَدِّثْکَ عَنِ الصَّوْمِ اَوِ الصِّیَامِ، إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاۃِ وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ اَوِ الصِّیَامَ۔)) وَاللّٰہِ! لَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کِلَاہُمَا اَوْ اَحَدَہُمَا، فَیَالَہَفَ نَفْسِی، ہَلاَّ کُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ بنو عبداللہ بن کعب کے ایک آدمی سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ انصاری نہیں ہیں، کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھڑ سواروں نے ہمارے قبیلے پر چڑھائی کر دی، ایک روایت میں ہے: میرے ہمسائے کا اونٹ لوٹ لیا گیا تھا، میں اس سلسلہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: قریب آجاؤ اور کھانا کھاؤ۔ میں نے عرض کیا: میں تو روزے سے ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز کی اور مسافر، حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزوں کی رخصت دی ہے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حاملہ اور مرضعہ دونوں کا یا کسی ایک کا ذکر کیا تھا، ہائے افسوس! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کھانا کیوں نہیں کھایا تھا۔

3851

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3851

Sahih

۔ (۳۸۵۱) عَنْ مُعاذِ بْنِ جَبْلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌مِنْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ تَقَدَّمَ فِی بَابِ اْلاَحْوَالِ الَّتِی عُرِضَتْ لِلصِّیَامِ رَقَم (۳۱) صَفحۃ (۲۳۹) مِنَ الْجُزْئِ التَّاسِعِ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ اَنْزَلَ اْلآیَۃَ الْاُخْرٰی {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنَ} إِلٰی قَوْلِہٖ {فَمَنْشَہِدَمِنْکُمُالشَّہْرَفَلْیَصُمْہُ} قَالَ: فَاَثْبَتَ اللّٰہُ صِیَامَہُ عَلَی الْمُقِیْمِ الصَّحِیْحِ وَرَخَّصَ فِیْہِ لِلْمَرِیْضِ وَالْمُسَافِرِ، وَثَبَتَ الإِطْعامُ لِلْکَبِیْرِ الَّذِی لَا یَسْتَطِیْعُ الصِّیَامَ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ایک طویل حدیث ہے، جو جز نمبر ۹، حدیث نمبر (۳۱) اور صفحہ نمبر (۲۳۹) میں باب الاحوال التی عرضت للصیام میں گزر چکی ہے، اس میں ہے:پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی… شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (سورۂ بقرہ: ۱۸۵) یعنی: ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) تو اللہ نے تندرست اور مقیم آدمی پر روزہ فرض کر دیا اور مریض اورمسافر کو رخصت دے دی اور جو عمر رسیدہ آدمی روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کے لیے (مسکین کو) کھانا کھلانا مشروع ٹھہرا۔