Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 69 · Chapter 670

روزے دار کا وصال کرنا

سفر میں روزہ نہ رکھنے کو افضل قرار دینے والوں کے دلائل کا بیان

12 hadiths in this chapter

3835

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3835

Sahih

۔ (۳۸۳۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ فَرَاٰی رَجُلاً قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَیْہِ وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَیْہِ، قَالُوْا: ہٰذَا رَجُلٌ صَائِمٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ الْبِرُّ اَنْ تَصُوْمُوْا فِیالسَّفَرِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۲۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر کے دوران ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے اردگرد جمع تھے، اس کے اوپر سایہ کیا گیا تھا اور لوگ بتا رہے تھے کہ یہ روزے دار آدمی ہے۔ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ نیکی نہیں ہے کہ تم لوگ سفر میں روزہ رکھو۔

3836

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3836

Sahih

۔ (۳۸۳۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَزَادَ) فَدَعَاہُ فَاَمَرَہُ اَنْ یُفْطِرُ فَقَالَ: ((اَمَا یَکْفِیْکَ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ وَمَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَصُوْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) یہی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کو بلوایا،اسے روزہ افطار کرنے کا حکم دیا اور اس سے فرمایا: کیا تیرے لیے اتنا کافی نہیں ہے کہ تو اللہ کے رسول کے ساتھ اللہ کی راہ میں نکلا ہوا ہے کہ تو پھر روزہ بھی رکھ رہا ہے۔

3837

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3837

Sahih

۔ (۳۸۳۷) عَنْ کَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ مِنْ اَصَحَابِ السَّقِیْفَۃِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیْسَ مِنَ امْبِرِّ امْصِیَامُ فِی امْسَفَرِ)) (مسند احمد:۲۴۰۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناکعب بن عاصم اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو اصحابِ سقیفہ میں سے تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔

3838

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3838

Sahih

۔ (۳۸۳۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّیَامُ فِی السَّفَرِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔

3839

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3839

Zaeef

۔ (۳۸۳۹) عَنْ اَبِی طُعْمَۃَ اَنَّہُ قَالَ: کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِذْ جَائَ ہُ رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ إِنِّی اَقْوٰی عَلَی الصِّیَامِ فِی السَّفْرِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ لَمْ یَقْبَلْرُخْصَۃَ اللّٰہِ کَانَ عَلَیْہِ مِنَ الإِثْمِ مِثْلُ جِبَالِ عَرَفَۃَ۔)) (مسند احمد: ۵۳۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابوطعمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس موجود تھا، ایک آدمی نے آکر کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں( تو کیا میں روزہ رکھ لیا کروں)؟سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو آدمی اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول نہیں کرتا، اسے عرفہ کے پہاڑوں جتنا گناہ ملتا ہے۔

3840

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3840

Zaeef

۔ (۳۸۴۰) عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَاَلْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُوْلُ فِی الصَّوْمِ فِی السَّفْرِ؟ قَالَ: تََاْخُذُ إِنْ حَدَّثْتُکَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا خَرَجَ مِنْ ہٰذِہِ الْمَدِیْنَۃِ قَصَرَ الصَّلَاۃَ وَلَمْ یَصُمْ حَتّٰییَرْجِعَ إِلَیْہَا۔ (مسند احمد: ۵۷۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ بشر بن حرب کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے پوچھا کہ تم سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انھوں نے کہا: اگر میں تم کو بیان کروں تو تسلیم کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اس مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو واپس آنے تک نماز بھی قصر کرتے تھے اور روزہ بھی ترک کر دیتے تھے۔

3841

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3841

Sahih

۔ (۳۸۴۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفَتْحِ إِلٰی مَکَّۃَ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ(وَفِی لَفْظٍ لِعَشْرٍ مَضَیْنَ مِنْ رَمَضَانَ) فَصَامَ حَتَّی مَرَّ بِغَدِیْرٍ فِی الطَّرِیْقِ وَذَالِکَ فِی نَحْرِ الظَّہِیْرَۃِ، قَالَ: فَعَطِشَ النَّاسُ وَجَعَلُوْا یَمُدُّوْنَ اَعْنَاقَہُمْ وَتَتُوْقُ اَنْفُسُہُمْ اِلَیْہِ، قَالَ: فَدَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَدَحٍ فِیْہِ مَائٌ فَاَمْسَکَہُ عَلٰییَدِہُ حَتّٰی رَآہُ النَّاسُ ثُمَّ شَرِبَ فَشَرِبَ النَّاسُ۔ (مسند احمد: ۳۴۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے تھے، ایک روایت میں ہے کہ ماہِ رمضان کے دس دن گزر چکے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا،عین دوپہر کے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پانی کے ایک تالاب کے پاس سے گزرے، چونکہ لوگ پیاسے تھے، اس لیے وہ گردنیں لمبی کر کے دیکھ رہے تھے اور ان کے نفس پانی کو چاہ رہے تھے، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی کا پیالہ منگوا کر اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں دیکھ لیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے نوش فرمایا اور لوگوں نے بھی پانی پی لیا۔

3842

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3842

Sahih

۔ (۳۸۴۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ الْفَتْحِ فِی رَمَضَانَ فَصَامَ وَصَامَ الْمُسْلِمُوْنَ مَعَہُ، حَتّٰی إِذَا کَانَ بِالْکَدِیْدِ دَعَا بِمَائٍ فِی قَعْبٍ، وَہُوَ عَلٰی رَاحِلَتِہِ فَشَرِبَ، وَالنَّاسُ یَنْظُرُوْنَ،یُعْلِمُہُمْ اَنَّہُ قَدْ اَفْطَرَ فَاَفْطَرَ الْمُسْلِمُوْنَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے سال ماہِ رمضان میں سفر پر روانہ ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اور دوسرے مسلمانوں نے روزہ رکھا ہو اتھا،جب کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لکڑی کے پیالے میں پانی منگوایا،جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سواری پر تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پانی پیا اور لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ رہے تھے، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو یہ بتلانا چاہتے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو روزہ توڑ دیا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھ کر لوگوں نے بھی روزہ افطار کر لیا۔

3843

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3843

Sahih

۔ (۳۸۴۳) وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ حَتّٰی اَتٰی قُدَیْدًا فَاُتِیَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَاَفْطَرَ وَاَمَرَ النَّاسَ اَنْ یُفْطِرُوْا۔ (مسند احمد: ۳۲۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے (سفر میں) دن روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ قدید مقام پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں دودھ کا پیالہ پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے روزہ توڑ دیا اور لوگوں کو بھی افطار کرنے کا حکم دے دیا۔

3844

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3844

Sahih

۔ (۳۸۴۴) عَنْ طَاؤُوْسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْمَدِیْنَۃِیُرِیْدُ مَکَّۃَ فَصَامَ حَتّٰی اَتٰی عُسْفَانَ، قَالَ: فَدَعَا بِإِنَائٍ فَوَضَعَہُ عَلٰییَدِہِ حَتّٰی نَظَرَالنَّاسُ إِلَیْہِ ثُمَّ اَفْطَرَ، قَالَ: فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ: مَنْ شَائَ صَامَ وَمَنْ شَائَ اَفْطَرَ۔ (مسند احمد: ۲۳۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک برتن منگوایا اوراسے اپنے ہاتھ پر رکھا،یہاں تک کہ سب لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح دیکھ لیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ توڑ دیا۔ اسی لیے سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے کہ (سفر میں) جو چاہے روزہ رکھ لے اور جو چاہے افطار کر لے۔

3845

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3845

Sahih

۔ (۳۸۴۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ یَوْمَ الْفَتْحِ فَصَامَ حَتّٰی إِذَا کَانَ بِالْکَدِیْدِ اَفْطَرَ، وَإِنَّمَا یُؤْخَذُ بِاْلآخِرِ مِنْ فِعْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ۔ قِیْلَ لِسُفْیَانَ: قَوْلُہُ ’’إِنَّمَا یُؤْخَذُ بِالآخِرِ‘‘ مِنْ قَوْلِ الزُّہْرِیِّ اَوْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: کَذَا فِی الْحَدِیْثٍ۔ (مسند احمد: ۱۸۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ والے دن سفر پر روانہ ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کدید مقام پر پہنچے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے روزہ توڑ دیا۔(قانون یہ ہے کہ) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آخری فعل پر عمل کیا جاتا ہے۔کسی نے سفیان سے پوچھا: یہ الفاظ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آخری فعل پر عمل کیا جاتا ہے۔ امام زہری کے ہیں یا سیدنا عبدا للہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے؟ انہوں نے کہا: اسی طرح اس حدیث میں ہے۔

3846

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3846

Sahih

۔ (۳۸۴۶) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی نَہَرٍ مِنَ السَّمَائِ، وَالنَّاسُ صِیَامٌ فِییَوْمٍ صَائِفٍ مُشَاۃً وَنَبِیُّ اللّٰہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی بَغْلَۃٍ لَہُ فَقَالَ: ((اِشْرَبُوْا اَیُّہَاالنَّاسُ!)) قَالَ: فَاَبَوْا، قَالَ: ((إِنِّی لَسْتُ مِثْلَکُمْ إِنِّیْ اَیَسْرُکُمْ، إِنِّیْ رَاکِبٌ۔)) فَاَبَوْا، قَالَ: فَثَنٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخِذَہُ فَنَزَلَ فَشَرِبَ وَشَرِبَ النَّاسُ وَمَا کَانَیُرِیْدُ اَنْ یَشْرَبَ۔ (مسند احمد: ۱۱۴۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (سفر کے دوران) بارانی پانی کی ایک نہر پر پہنچے، گرمی سخت تھی اور لوگ روزے سے تھے اور پیدل سفر کر رہے تھے، البتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے خچر پر سوار تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! پانی پی لو۔ لیکن لوگوں نے پانی نہ پیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں تم میں سب سے زیادہ آسانی والا ہوں، میں تو سوار ہوں۔ لیکن لوگ (روزہ نہ توڑنے پر) اڑے رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ران موڑی، نیچے اترے اورپانی پی لیا اور (یہ منظر دیکھ کر) لوگوں نے بھی پانی پی لیا، دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ پانی پینے کا نہیں تھا۔