Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 69 · Chapter 669

روزے دار کا وصال کرنا

رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان

15 hadiths in this chapter

3820

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3820

Sahih

۔ (۳۸۲۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا جَائَ رَجُلٌ یَنْتِفُ شَعْرَہُ وَیَدْعُو وَیْلَہُ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( مَالَکَ؟)) قَالَ: قَدْ وَقَعَ عَلَی امْرَاَتِہٖفِی رَمَضَانَ، قَالَ: ((اَعْتِقْ رَقَبَۃً۔)) قَالَ: لَااَجِدُہَا، قَالَ: ((صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ۔)) قَالَ: لَا اَسْتَطِیْعُ، قَالَ: ((اَطْعِمْ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا۔)) قَالَ: لَا اَجِدُ، قَالَ: فَاُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَقٍ، فِیْہِ خَمْسَۃَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، قَالَ: ((خُذْ ہٰذَا فَاَطْعِمْہُ عَنْکَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا بَیْنَ لَابَتَیْہَا اَہْلُ بَیْتٍ اَفْقَرُ مِنَّا۔ قَالَ: ((کُلْہُ اَنْتَ وَعِیَالُکَ۔)) (مسند احمد: ۶۹۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی اپنے بالوں کو نوچتا ہوا اور اپنی ہلاکت کی خبر دیتا ہوا آیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے ہواکیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہِ رمضان میں(روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک غلام یا لونڈی آزاد کرو۔ اس نے کہا: میں یہ نہیں کر سکتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو۔ اس نے کہا: مجھ میں اتنی طاقت بھی نہیں ہے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلاؤ۔ اس نے کہا: میں تو اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا۔ اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا، اس میں پندرہ صاع کھجور تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: یہ لے جاؤ اور ساٹھ مساکین کو کھلا دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مدینہ منورہ کے ان دو حرّوں (سیاہ پتھروں والے میدان) میں کوئی بھی گھر والے مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اور تمہارا اہل خانہ ہی کھا لے۔

3821

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3821

Sahih

۔ (۳۸۲۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِمِثلِہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَزَادَ بَدَنَۃً، وَقَالَ: عَمْرٌو فِیْ حَدِیْثِہٖ: وَاَمَرَہُ اَنْ یَصُوْمَیَوْمًا مَکَانَہُ۔ (مسند احمد: ۶۹۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ایک اونٹ کا صدقہ کرنے کے حکم کا اضافہ ہے۔عمرو نے اپنی روایت میں کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیا تھا کہ وہ اس کے عوض ایک روزہ بھی رکھے۔

3822

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3822

Sahih

۔ (۳۸۲۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ) بِنَحْوِ حَدِیْثِ ابْنِ اَبِیْ حَفْصَۃَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ وَفِیْہِ، فاُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَرَقٍ وَالْعَرَقُ الْمِکْتَلُ فِیْہِ تَمْرٌ، قَالَ: ((اِذْہَبْ فَتَصَدَّقْ بِہَا…)) الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۷۷۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (چوتھی سند) اس میں ہے: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا، اس میں کھجوریں تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جاؤ اور یہ صدقہ کر دو، …۔

3823

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3823

Sahih

۔ (۳۸۲۳) وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَر رَجُلاً اَفْطَرَ فِی رَمَضَانَ اَنْ یُعْتِقَ رَقَبَۃً اَوْ یَصُوْمَ شَہْرِیْنِ اَوْ یُطْعِمَ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا۔ (مسند احمد: ۷۶۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک غلام یا لونڈی آزاد کرے یا دو ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔

3824

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3824

Sahih

۔ (۳۸۲۴) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ، حَدَّثَہُ اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حَدَّثَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَا ہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ فَارِعِ اُجُمِ حَسَّانَ، جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: اِحْتَرَقْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((مَا شَأْنُکَ؟)) قَالَ: وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِی وَاَنَا صَائِمٌ، قَالَ: وَذَاکَ فِی رَمَضَانَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِجْلِسْ۔)) فَجَلَسَ فِی نَاحِیَۃِ الْقَوْمِ فَاَتٰی رَجُلٌ بِحِمَارٍ عَلَیْہِ غِرَارَۃٌ، فِیْہَا تَمْرٌ۔ قَالَ: ہٰذِہِ صَدَقَتِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( اَیْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا؟)) فَقَالَ: ہَا ہُوَ ذَا اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خُذْ ہٰذَا، فَتَصَدَّقْ بِہِ۔)) قَالَ: وَاَیْنَ الصَّدَقَۃُیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِلَّا عَلَیَّ وَلِی، فَوَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا اَجِدُ اَنَا وَعِیَالِی شَیْئًا، قَالَ: ((فَخُذْہَا۔)) فَاَخَذَہَا۔ (مسند احمد: ۲۶۸۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قلعہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو جل گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: بات کیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہ رمضان میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ وہ لوگوں کی ایک طرف بیٹھ گیا، اتنے میں ایک آدمی اپنے گدھا پر ایک بورا لاد کر لایا، اس میں کھجوریں تھیں اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میری طرف سے صدقہ ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جلنے والا کہاں ہے، جو ابھی بات کر رہا تھا؟ وہ خود بولا: جی اے اللہ کے رسول! وہ یہ میں ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لے جاؤ اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! صدقہ کہاں ہو گا، مگر مجھ پر اور میرے لیے، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میرے اور میرے گھر والوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو لے جاؤ۔ پس وہ لے کر چلا گیا۔

3825

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3825

Sahih

۔ (۳۸۲۵) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: جَائَ حَمْزَۃُ (بْنُ عَمْرٍو) الاَسْلَمِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی رَجُلٌ اَسْرُدُ الصَّوْمَ، اَفَاَصُوْمُ فِی السَّفَرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَاَفْطِرْ)) (مسند احمد: ۲۶۱۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں، آیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔

3826

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3826

Sahih

۔ (۳۸۲۶) عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ، وَإِنَّ اَحَدَنَا لَیَضَعُیَدَہُ عَلٰی رَاْسِہِ مِنْ شِدَّۃِ الْحَرِّ وَمَا مِنَّا صَائِمٌ إِلَّا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ رَوَاحَۃَ۔ (مسند احمد: ۲۲۰۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابو دردا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اس قدر شدید گرمی تھی کہ ہم میں سے بعض اپنے سروں پر ہاتھ رکھتے تھے اوررسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ ہم میں کوئی بھی روزے دار نہیں تھا۔

3827

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3827

Zaeef

۔ (۳۸۲۷) عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْمَحَبَّقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((مَنْ کَانَتْ لَہُ حَمُوْلَۃٌ تَاْوِی إِلٰی شِبَعٍ فَلْیَصُمْ رَمَضَانَ حَیْثُ اَدْرَکَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سلمہ بن محیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس ایسی سواری ہو جو اسے کھانے کی جگہ تک پہنچا سکتی ہو تو رمضان جہاں بھی اسے پا لے، وہ روزہ رکھے۔

3828

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3828

Sahih

۔ (۳۸۲۸) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نَغْزُوْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَا یَجِدُ الصَّائِمُ عَلَی الْمُفْطِرِ وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَی الصَّائِمِ، یُرَوْنَ اَنَّہُ یَعْنِیْ اَنَّہُ مَنْ وَجَدَ قُوَّۃً فَصَامَ فَإِنَّ ذَالِکَ حَسَنٌ، وَیَرَوْنَ اَنَّ مَنْ وَجَدَ ضَعْفًا فَاَفْطَرَ فَإِنَّ ذَالِکَ حَسَنٌ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوہ کرتے تھے، ہم میں سے کوئی روزہ رکھ لیتا تھا اور کوئی نہیں رکھتا تھا، روزہ دار، روزہ نہ رکھنے والوں پر اور روزہ نہ رکھنے والے، روزہ دار پر کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتا تھا، ان کا یہ خیال تھا کہ جو شخص سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو اور وہ روزہ رکھ لے تو یہ اچھا ہے اور جو کمزوری محسوس کرتا ہو اور وہ روزہ نہ رکھے تو یہ اس کے لیے اچھا ہے۔

3829

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3829

Sahih

۔ (۳۸۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاٍس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَا تَعِبْ عَلٰی مَنْ صَامَ فِی السَّفَرِ ولَا عَلٰی مَنْ اَفْطَرَ، قَدْ صَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی السَّفَرِ وَاَفْطَرَ۔ (مسند احمد: ۲۰۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: نہ تو سفر میں روزہ رکھنے والے پر کوئی عیب لگا اور نہ روزہ چھوڑنے والے پر، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور ترک بھی کیا ہے۔

3830

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3830

Sahih

۔ (۳۸۳۰) عَنْ اَپِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی مَکَّۃَ، وَنَحْنُ صِیَامٌ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( إِنَّکُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ وَالْفِطْرُ اَقْوٰی لَکُمْ، فَکَانَتْ رُخْصَۃً، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ اَفْطَرَ، ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ: إِنَّکُمْ مُصَبِّحُوْا عَدُوِّکُمْ وَالْفِطْرُ اَقْوٰی لَکُمْ فَاَفْطِرُوْا، فَکَانَتْ عَزِیْمَۃً فَاَفْطَرْنَا، وَلَقَدْ رَاَیْتُنَا نَصُوْمُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ ذَالِکَ فِی السَّفَرِ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں مکہ مکرمہ کی طرف سفر کیا، جبکہ ہم روزہ کی حالت میں تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا، وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو، تمہارے لیے زیادہ طاقت روزہ نہ رکھنے میں ہے۔ چونکہ یہ رخصت تھی، اس لیے ہم میں سے بعض نے روزہ رکھا اور بعض نے نہ رکھا، اس کے بعد جب ہم نے ایک دوسرے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم صبح کو دشمنوں پر حملہ کرنے والے ہو اور تمہارے لیے زیادہ قوت روزہ نہ رکھنے میں ہے، لہذا تم روزہ نہ رکھو۔ یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لازمی حکم تھا اس لیے ہم سب نے روزہ رکھنا ترک کر دیا، بہرحال میں نے دیکھا کہ اس کے بعد بھی ہم صحابہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے۔

3831

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3831

Sahih

۔ (۳۸۳۱) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): قَالَ: لَمَّا بَلَغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَّ الظَّہْرَانِ آذَنَنا بِلِقَائِ الْعَدُوِّ، فَاَمَرَنَا بِالْفِطْرِ فَاَفْطَرْنَا اَجْمَعُوْنَ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرالظہران کے مقام پر پہنچے تو آپ نے ہمیں دشمن کے مقابلہ کی خبر دی اورروزہ ترک کرنے کا حکم دیا،پس ہم سب نے روزہ چھوڑ دیا۔

3832

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3832

Sahih

۔ (۳۸۳۲) عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَامَ فِی سَفَرٍ عَامَ الْفَتْحَ وَاَمَرَ اَصْحَابَہٗبِالإِفْطَارِ،وَقَالَ: ((إِنَّکُمْتَلْقَوْنَ عَدُوَّ کُمْ فََتَقَوَّوْا۔)) فَقِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوْا لِصِیَامِکَ فَلَمَّا اَتَی الْکَدِیْدَ اَفْطَرَ، قَالَ الَّذِی حَدَّثَنِی فَلَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصُبُّ الْمَائَ عَلٰی رَاْسِہٖمِنَالْحَرِّوَہُوَصَائِمٌ۔ (مسنداحمد: ۱۶۷۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فتح مکہ والے سال دورانِ سفر روزہ رکھا،لیکن صحابہ کو روزہ نہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم دشمن سے مقابلہ کرنے والے ہو، لہذا (روزہ ترک کر کے) قوت حاصل کرو۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے روزہ رکھنے کی بنیاد پر لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے، پس جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کدید مقام پر پہنچے تو روزہ توڑ دیا۔ مجھے بیان کرنے والے نے یہ بھی کہا: میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کی حالت میں تھے۔

3833

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3833

Sahih

۔ (۳۸۳۳) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ فِی سَفَرٍ فِی رَمَضَانَ، فَاُتِیَ بِإِنَائٍ فَوَضَعَہُ عَلٰییَدِہ فَلَمَّا رَآہُ النَّاسُ اَفْطَرُوْا۔ (مسند احمد: ۱۲۲۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ماہِ رمضان میں سفر میں تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک برتن پیش کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اپنے ہاتھ پر رکھا، جب لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا تو انہوں نے بھی روزہ توڑ دیا۔

3834

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3834

Sahih

۔ (۳۸۳۴) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی رَمَضَانَ، وَالْفَتْحُ فِی رَمَضَانَ فَاَفْطَرْنَا فِیْہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ماہِ رمضان میں غزوہ کے لیے گئے، اور فتح مکہ بھی ماہ رمضان میں ہوئی تھی، بہرحال ہم نے ان دونوں غزووں میں روزہ نہیں رکھاتھا۔