Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 68 · Chapter 653

افطار وسحری کے مسائل اور آداب

سحری کی فضیلت اور اس کا حکم

16 hadiths in this chapter

3723

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3723

Sahih

۔ (۳۷۲۳) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَسَحَّرُوْا فَإِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۰۱۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سحری کھایا کرو، بیشک سحری کے کھانے میں برکت ہے۔

3724

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3724

Zaeef

۔ (۳۷۲۴) وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبَرَکَۃِ فِی السُّحُوْرِ وَالثَّرِیْدِ۔ (مسند احمد: ۷۷۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سحری اور ثرید میں برکت کی دعا فرمائی ہے۔

3725

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3725

Sahih

۔ (۳۷۲۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّہُ دَخَلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَتَسَحَّرُ فَقَالَ: ((إِنَّہُ بَرَکَۃٌ، اَعْطَاکُمُوْہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَلَا تَدَعُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک صحابی رسول سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس اس وقت گئے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سحری کاکھانا کھا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ برکت والا کھانا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہے، پس اس کو نہ چھوڑو۔

3726

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3726

Sahih

۔ (۳۷۲۶) عَنْ عِرْباَضِ بْنِ سَارِیَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَعَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی السَّحُوْرِ فِی رَمَضَانَ‘ فَقَالَ: ((ہَلُمَّ إِلٰی ھٰذَا الْغَدَائِ الْمُبَارَکِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماہِ رمضان میں مجھے سحری کی دعوت دی اور فرمایا: اس بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔

3727

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3727

Sahih

۔ (۳۷۲۷) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلسَّحُوْرُ اَکْلَۃٌ بَرَکَۃٌ فَلَا تَدَعُوْہُ وَلَوْ اَنْ یَجْرَعَ اَحَدُکُمْ جَرْعَۃً مِنْ مَائٍ فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الْمُتَسَحِّرِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۴۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سحری کا کھانا بابرکت ہے، اس لیے اس کو نہ چھوڑا کرو، خواہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ اور فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے اور فرشتے رحمت کے نزول کی دعا کرتے ہیں۔

3728

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3728

Sahih

۔ (۳۷۲۸) عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ اَرَادَ اَنْ یَصُوْمَ فَلْیَتَسَحَّرْ بِشَیْئٍ)) (مسند احمد: ۱۵۰۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہو تو وہ کسی نہ کسی چیز کے ساتھ سحری کیا کرے۔

3729

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3729

Sahih

۔ (۳۷۲۹) عَنْ اَبِی قَیْسٍ مَوْلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کَانَ یَسْرُدُ الصَّوْمَ وَقَلَّمَا یُصِیْبُ مِنَ الْعَشَائِ اَوَّلَ الَّلیْلِ اَکْثَرَ مَا کَانَ یُصِیْبُ مِنَ السَّحَرِ، قَالَ: وَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ فَصْلًا بَیْنَ صِیَامِنَا وَصِیَامِ اَہْلِ الْکِتَابِ اَکْلَۃُ السَّحَرِ)) (مسند احمد: ۱۷۹۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابوقیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسلسل روزے رکھا کرتے تھے، وہ شام کو رات کے ابتدائی حصہ میں کھانا کم ہی کھاتے تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ زیادہ تر سحری ہی کرتے تھے، میں نے ان سے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کرنا ہے۔

3730

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3730

Sahih

۔ (۳۷۳۰) عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ (الطَّائِیِّ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَنِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصلَّاَۃَ وَالصِّیَامَ، قَالَ: ((صَلِّ کَذَا وَکَذَا وَصُمْ، فَإِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَکُلْ وَاشْرَبْ حَتّٰییَتَبَیَّنَ لَکَ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ، وَصُمْ ثَلَاثِیْنَیَوْمًا إِلَّا اَنْ تَرَی الْہِلَالَ قَبْلَ ذٰلِکَ۔)) فَاَخَذْتُ خَیْطَیْنِ مِنْ شَعْرٍ اسْوَدَ وَاَبْیَضَ، فَکُنْتُ اَنْظُرُ فِیْہِمَا فَلَا یَتَبَّیَنُ لِیْ، فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَضَحِکَ وَقَالَ: ((یَا ابْنَ حَاتِمٍ إِنَّمَا ذَاکَ بَیَاضُ النَّہَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّیْلِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی بن حاتم طائی کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے نماز اور روزہ کی تعلیم دی، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: فلاں فلاں نماز پڑھا کرو اور (اس طرح) روزے رکھا کرو، جب سورج غروب ہو جائے تو (ساری رات) کھاپی سکتے ہو، یہاں تک کہ سفید دھاگہ، سیاہ دھاگے سے ممتاز ہو جائے اور (رمضان کے) پورے تیس روزے رکھا کرو، الّا یہ کہ چاند اس سے پہلے نظرآجائے۔ پس میں نے ایک سیاہ اور ایک سفید دھاگہ لیا اور(سحری کے وقت) ان کی طرف دیکھنے لگا، لیکن وہ میرے لیے واضح نہیں ہو رہے تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ سن کر مسکرا پڑے اور فرمایا: سفید دھاگے سے مراد (طلوع فجر کے وقت) دن کی سفیدی کا رات کی سیاہی سے ممتاز ہونا ہے۔

3731

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3731

Zaeef

۔ (۳۷۳۱) عَنْ اَبِی ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : إِنِّی اُرِیْدُ اَنْ اَبِیْتَ عِنْدَکَ اللَّیْلَۃَ فَاُصَلِّیْ بِصَلَاتِکَ، قَاَل: ((لَا تَسْتَطِیْعُ صَلَاتِی۔)) فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْتَسِلُ فَیُسْتَرُ بِثَوْبٍ وَاَنَا مَحَوَّلٌ عَنْہُ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ فَعَلْتُ مِثْلَ ذَالِکَ ثُمَّ قَامَ یُصَلِّی وَقُمْتُ مَعَہُ حَتّٰی جَعَلْتُ اَضْرِبُ بِرَاْسِی الْجُدْرَانَ مِنْ طُوْلِ صَلَاتِہِ ثُمَّ اَذَّنَ بِلَالٌ لِلصَّلَاۃِ فَقَالَ: ((اَفَعَلْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((یَا بِلَالُ! إِنَّکَ لَتُؤَذِّنُ إِذَا کاَنَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِی السَّمَائِ وَلَیْسَ ذَالِکَ الصَّبْحُ، إِنَّمَا الصَّبْحُ ہٰکَذَا مُعْتَرِضًا۔)) ثُمَّ دَعَا بِسَحُوْرٍ فَتَسَحَّرَ۔ (مسند احمد: ۲۱۸۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا : میں آج رات آپ کے ہاں بسر کرنا چاہتا ہوں تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اقتدا میں رات کی نماز پڑھ سکوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میرے والی نماز کی استطاعت نہیں رکھتے۔ بہرحال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیدار ہوئے اور کپڑے کی اوٹ میں غسل کیا، جبکہ میرا رخ دوسری جانب تھا، پھر میں نے بھی اسی طرح کیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز شروع کر دی، (اور اتنا لمبا قیام کیا کہ) میں (تھکاوٹ یا نیند کے غلبہ کی وجہ) سے اپنا سر دیوار پر مارتا تھا،پھر سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نماز کے لیے اذان کہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اذان دے چکے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلال! تم جس وقت اذان کہتے ہو اس وقت روشنی آسمان کی طرف سیدھی جا رہی ہوتی ہے اوراس وقت صبح صادق نہیں ہوتی، صبح صادق تو اس وقت ہوتی ہے کہ جب روشنی (افق کے کناروں پر) پھیلتی ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھانا منگوا کر سحری کھائی۔

3732

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3732

Zaeef

۔ (۳۷۳۲) عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: تَسَحَّرْتُ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَمَرَرْتُ بِمَنْزِلِ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَدَخَلْتُ عَلَیْہِ فَاَمَرَ بِلَقْحَۃٍ، فَحُلِبَتْ وَبِقِدْرٍ فَسُخِّنتْ ثُمَّ قَالَ: اُدْنُ فَکُلْ فَقُلْتُ: إِنِّی اُرِیْدُ الصَّوْمَ، فَقَالَ: وَ اَنَا اَرِیْدُ الصَّوْمَ، فَاَکَلْنَا وَشَرِبْنَا ثُمَّ اَتَیْنَا الْمَسْجِدَ فَاُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ، ثُمَّ قَالَ حُذَیْفَۃُ: ہٰکَذَا فَعَلَ بِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِی رِوَایَۃٍ) ہٰکَذَا صَنَعْتُ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَنَعَ بِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قُلْتُ: اَبَعْدَ الصُّبْحِ؟ قاَل: نَعَمْ، ہُوَ الصُّبْحُ غَیْرَ اَنْ لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زربن حبیش کہتے ہیں: میں نے سحری کا کھانا کھایا اوراس کے بعد مسجد کی طرف چل دیا، میرا گزر سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے پاس سے ہوا، میں ان کے ہاں چلا گیا، انہوں نے حال میں ہی بچہ جنم دینے والی ایک اونٹنی کا دودھ دوہنے اور ہنڈیا کو گرم کرنے کا حکم دیا اور مجھ سے کہا: قریب آؤ اور کھانا کھاؤ۔ میں نے کہا: میں آج روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا: میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں، سو ہم نے کھانا کھایا اور دودھ پیا اور پھر ہم مسجد کی طرف چلے گئے، اتنے میں نماز کی اقامت کہہ دی گئی (اور ہم نے نماز پڑھی)، پھر سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بتایا کہ اس کے ساتھ بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دفعہ ایسے ہی کیا تھا۔ دوسری روایت میں ہے: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ ایسے ہی کیا تھا۔میں نے کہا: کیا صبح ہو جانے کے بعد؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، صبح ہو چکی تھی، بس ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا۔

3733

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3733

Zaeef

۔ (۳۷۳۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا مُؤَمَّلٌ ثَنَا سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ نَصْرٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ بِلَالٌ یَاْتِیْ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَتَسَحَّرُ وَإِنِّی لَاُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِی، قُلْتُ: اَبَعْدَ الصُّبْحِ ؟ قَالَ: بَعْدَ الصُّبْحِ إِلَّا اَنَّہَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا بلال رضی اللہ عنہ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت سحری کھا رہے ہوتے تھے، جبکہ میں اس وقت اپنے تیر کے گرنے کی جگہ کو بھی دیکھ سکتا تھا، میں (نصر) نے کہا: کیا صبح کے بعد؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، صبح کے بعد، البتہ ابھی سورج طلوع نہ ہوا ہوا تھا۔

3734

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3734

Zaeef

۔ (۳۷۳۴) (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ): حَدَثَّنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِحُذَیْفَۃَ: اَیُّ سَاعَۃٍ تَسَحَّرْتُمْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: ہُوَ النَّہَارُ إِلَّا اَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ۔ (مسند احمد: ۲۳۷۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) عاصم نے کہا: میں نے سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ لوگوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی تھی؟ انہوں نے کہا: بس دن ہو چکا تھا، البتہ سورج طلوع نہ ہوا تھا۔

3735

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3735

Sahih

۔ (۳۷۳۵) عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اُوْذِنُہُ بِالصَّلَاۃِ قَالَ: اَبُوْ اَحْمَدَ، وَہُوَ یُرِیْدُ الصِّیَامَ فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ وَسَقََانِی، ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الْمَسْجِدِ لِلصَّلَاۃِ فَقَامَ یُصَلِّی بِغَیْرِ وُضُوْئٍ یُرِیْدُ الصَّوْمَ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنابلال بن رباح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ کا روزہ رکھنے کا ارادہ تھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیالہ منگوا کر خود بھی پیا اور مجھے بھی پلایا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور وضو کے بغیر نماز پڑھنے لگے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم روزے کا ارادہ رکھتے تھے۔

3736

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3736

Sahih

۔ (۳۷۳۶) عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَذَالِکَ فِی السَّحَرِ: ((یَا اَنَسُ! إِنِّی اُرِیْدُ الصِّیَامَ فَاَطْعِمْنِی شَیْئًا۔)) قَالَ: فَجِئْتُہُ بِتَمْرٍ وَإِنَائٍ فِیْہِ مَائٌ بَعْدَ مَا اَذَّنَ بِلَالٌ ، فَقَالَ: ((یَا اَنَسُ! اُنْظُرْ إِنْسَانًا یَاْکُلُ مَعِیَ۔)) قَالَ: فَدَعَوْتُ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی شَرِبْتُ شَرْبَۃَ سَوِیْقٍ فَاَنَا اُرِیْدُ الصَّیَامَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ: ((وَاَنَا اُرِیْدُ الصَّیَامَ۔)) فَتَسَحَّرَ مَعَہُ وَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَاُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا قتادہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے سحری کے وقت فرمایا: انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کوئی چیز کھلاؤ۔ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں کھجور اور پانی کا برتن لے کر حاضر ہوا، جبکہ سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اذان کہہ چکے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انس! کوئی آدمی ڈھونڈ کر لاؤ جو میرے ساتھ کھانا کھائے ۔ میں سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا کر لایا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو ستو پی چکا ہوں اور میرا روزہ رکھنے کا ارادہ تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں بھی روزہ رکھنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعتیں ادا کی، اس کے بعد نکلے اور نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی۔

3737

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3737

Sahih

۔ (۳۷۳۷) عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَاَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ الرَّجُلِ یُرِیْدُ الصِّیَامَ وَالإِنَائُ عَلٰییَدِہٖ لِیَشْرَبَ مِنْہُ فَیَسْمَعُ النِّدَائَ؟ قَالَ جَابِرٌ: کُنَّا نُحَدَّثُ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِیَشْرَبْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا کہ ایک آدمی روزہ رکھنا چاہتا ہے اور کوئی چیز پینے کے لیے برتن اس کے ہاتھ میں ہے، لیکن اسی وقت اذان کی آواز آ جاتی ہے (تو وہ کیا کرے)؟ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمیں یہ بیان کیا جاتا تھا کہ (ایسی صورت حال کے بارے میں) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: وہ پی لے۔

3738

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3738

Sahih

۔ (۳۷۳۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَ اَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ وَحَرَّمَ الطَّعَامَ، وَکَانَ لاَ یُؤَذَّنُ حَتّٰییَطْلُعَ الْفَجْرُ۔ (مسند احمد: ۲۶۹۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب موذن اذان کہتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو رکعتیں ادا فرماتے اور (روزے دار کے لیے) کھانا حرام کر دیتے، اور جب تک صبحِ (صادق) طلوع نہ ہو جاتی تھی، اس وقت تک اذان نہیں دی جاتی تھی۔