Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 66 · Chapter 621

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

صدقۂ فطر دینے کے وقت کا بیان

20 hadiths in this chapter

3571

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3571

Sahih

۔ (۳۵۷۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْ لَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَمَرَ بِزَکَاۃِ الْفِطْرِ اَنْ تُؤَدّٰی قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَی الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۵۳۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ لوگوں کے عید کے لئے جانے سے پہلے پہلے صدقۂ فطر ادا کیا جائے۔

3572

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3572

Sahih

۔ (۳۵۷۲) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) مِثْلُہُ إِلاَّ اَنَّہُ قَالَ: قَبْلَ خُرُوْجِ النَّاسِ إِلیَ الْمُصَلّٰی، وَقَالَ مَرَّۃً: إِلَی الصَّلاۃِ۔ (مسند احمد: ۶۳۸۹) وَقَدْ تَقَدَّمَ فِی حَدِیْثِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ النَّاَس قَبْلَ الْفِطْرِ بِیَوْمَیْنِ، فَقَالَ: ((اَدُّوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ اَوْ قَمْحٍ بَیْنَ اثْنَیْنِ، وَتَقَدَّمَ اَیْضًا فِی حَدِیْثِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَضَ زَکَاۃَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سابق حدیث کی مانند ہی ہے، البتہ اس میں یہ صراحت ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کے عید گاہ کو جانے سے پہلے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، ایک روایت میں ہے: نماز عید کے لئے جانے سے پہلے پہلے۔سیدنا عبد اللہ بن ثعلبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث پہلے گزر چکی ہے، اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے عید الفطر سے دو روز قبل لوگوں کو خطبہ دیا اورفرمایا: تم ہر دو افراد کی طرف سے گندم کا ایک صاع صدقۂ فطر ادا کرو۔ نیز سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حدیث میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمضان کا صدقۂ فطر فرض کیا۔

3573

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3573

Sahih

۔ (۳۵۷۳) عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ اَبِیْہِ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَدْرِ النَّہَارِ، قَالَ: فَجَائَ ہُ قَوْمٌ حُفَاۃٌ عُرَاۃٌ مُجْتَابِی النِّمَارِ اَوِالْعَبائِ مُتَقَلِّدِی السُّیُوْفِ عَامَّتُہُمْ مِنْ مُضَرَ، بَلْ کُلُّہُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَغَّیَر وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِمَا رَاٰی بِہِمْ مِنَ الْفَاقَۃِ، قَالَ: فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَاَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ وَاَقَامَ فَصَلّٰی ثُمَّ خَطَبَ، فقَالَ: {یَا اَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ } اِلٰی آخِرِ الآیَۃِ {إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا}، وَقَرَاَ الْآیَۃَ الَّتِی فِی آخِرِ الْحَشْرِ: {وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ} تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِیْنَارِہِ، مِنْ دِرْہَِمِہٖ،مِنْثَوْبِہِ،مِنْصَاعِبُرِّہٖ،مِنْصَاعِتَمْرِہٖ،حَتّٰی قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ۔)) قَالَ: فَجَائَ رَجُلٌ مِنَ الْاَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ کَادَتْ کَفُّہُ تَعْجِزُ عَنْہَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، ثُمَّ تَتابَعَ النَّاسُ حَتَّی رَاَیْتُ کَوْمَیْنَ مِنْ طَعَامٍ وَثِیَابٍ حَتَّی رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَہَلَّلُ وَجْہُہُ یَعْنِی کَاَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ سَنَّ فِی الإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً، فَلَہُ اَجْرُہَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْتَقِصَ مِنْ اُجُوْرِہِمْ شَیْئٌ، وَمَنْ سَنَّ فِی الإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہَا وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْتَقِصَ مِنْ اَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، ابھی دن شروع ہو رہا تھا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں کچھ ایسے لوگ آئے جن کے پاؤں میں جوتے اور جسم پر پورا لباس نہیں تھا، انھوں نے کمبل یا چوغے لپیٹے ہوئے تھے اور تلواریں کندھوں سے لٹکائی ہوئی تھیں، ان میں سے اکثر بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے افراد قبیلہ مضر سے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی تنگ دستی کی یہ صورتحال دیکھی توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر تشریف لے گئے، پھر جب باہر آئے تو سیدنابلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ اذان اور اقامت کہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھائی اور اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں یہ آیتیں تلاوت کیں: {یَااَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَائً وَّ اتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہٖوَالْاَرْحَامَاِنَّاللّٰہَکَانَعَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔} یعنی: لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کر کے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے۔ سورۂ حشر والی یہ آیت تلاوت کی: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَّاتَّقُوْا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۔} یعنی: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر فرد دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کے دن کے لئے کیا کچھ آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو، جو تم عمل کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ یہ خطاب سن کر کوئی دینار لے کر آیا، کوئی درہم، کوئی کپڑا، کوئی گندم کا صاع اور کوئی کھجور کا صاع لے کر آیا اور کسی نے کھجور کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔ اتنے میں ایک انصاری ایک تھیلی اٹھا کر لایا،( وہ اس قدر وزنی تھی کہ) قریب تھا کہ اس کا ہاتھ عاجز آ جائے گا، بلکہ وہ عاجز آ گیا،یہ منظر دیکھ کر لوگوں نے پے در پے صدقات پیش کرنا شروع کر دیئے،یہاں تک کہ خوراک اور لباس کے دو ڈھیر لگ گئے، اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا اور وہ سنہری رنگ کا لگ رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا تو اسے اپنے اس عمل کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر بھی اجر ملے گا اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جو کوئی اسلام میں برا طریقہ جاری کرے گا،اسے اپنے عمل کا اور اس کے بعد جتنے بھی لوگ اس پر عمل کریں گے، ان سب کے برابر گناہ ہو گا اور ان کے گناہ میں کوئی کمی بھی واقع نہیں ہو گی۔

3574

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3574

Sahih

۔ (۳۵۷۴) عَنْ ابْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ (بُرَیْدَۃَ الاَسْلَمِیِّ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا یُخْرِجُ رَجُلٌ شَیْئًا مِنَ الصَّدَقَۃِ حَتّٰییَفَکَّ عَنْہَا لَحْیَیْ سَبْعِیْنَ شَیْطَانًا۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بھی کوئی آدمی صدقہ کرتاہے تو وہ ستر شیطانوں کے جبڑے توڑتا ہے۔

3575

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3575

Sahih

۔ (۳۵۷۵) عَنْ عَدِی بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَامِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ إلِاسَیُکَلِّمُہُ رَبُّہُ عَزَّوَجَلَّ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ تَرْجُمَانٌ، فَینْظُرُ عَمَّنْ اَیْمَنَ مِنْہُ، فَلَا یَرٰی إِلاَّ شَیْئًا قَدَّمَہُ، وَیَنْظُرُ عَمَّنْ اََشَامَ مِنْہُ، فَلَا یَرٰی إِلَّا شَیْئًا قَدَّمَہُ، وَیَنْظُرُ اَمَامَہُ فَتَسْتَقْبِلُہُ النَّارُ۔)) قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ اَنْ یَّقِیَ وَجْھَہٗالنَّارَوَلَوْبِشِقِّتَمْرَۃٍ، فَلْیَفْعَلْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۵۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعدی بن حاتم طائی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا ربّ گفتگو کرے گا، اس حال میں کہ اس کے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا، پس جب وہ بندہ اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا، جو اس نے آگے بھیجا ہو گا، پھر جب وہ اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو اسے اُدھر بھی وہی کچھ نظر آئے گا، جو وہ آگے بھیج چکا ہو گا، جب وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو اُدھر اس کے سامنے آگ ہو گی۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس آدمی میں اپنے چہرے کو آگ سے بچانے کیلئے جو استطاعت ہے، وہ استعمال کر دے، اگرچہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنے کی صورت میں ہو۔

3576

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3576

Sahih

۔ (۳۵۷۶) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: ((مَنِاسْتَطَاعَمِنْکُمْاَنْیَتَّقِیَ النَّارَ فَلْیَتَصَدَّقْ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَبِکَلِمَۃٍ طَیِّبَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (۳۵۷۶) (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو کوئی آگ سے بچنے کی طاقت رکھتا ہے تو وہ صدقہ کرے، خواہ وہ کھجور کے ایک حصے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو اور جسے وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرے)۔

3577

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3577

Sahih

۔ (۳۵۷۷) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیْبٍ اَنْ اَبَا الْخَیْرِ حَدَّثَہُ اَنَّہُ سَمِعَ عُقْبَہَ بْنَ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((کُلُّ امْرِیئٍ فِی ظِلِّ صَدَقَتِہِ، حَتَّییُفْصَلَ بَیْنَ النَّاسِ اَوْ قَالَ: یُحْکَمَ بَیْنَ النَّاسِ۔)) قَالَ یَزِیْدُ: وَکَانَ اَبُوْ الْخَیْرِ لَایُخْطِئُہُیَوْمٌ إِلَّا تَصَدَّقَ فِیْہِ بِشَیْئٍ وَلَوْ کَعْکَۃً، اَوْ بَصَلَۃً اَوْکَذَا۔ (مسند احمد: ۱۷۴۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر شخص اپنے اپنے صدقہ کے سایہ میں ہو گا۔ یزید بن ابی حبیب کہتے ہیں: ابو خیر مرثد ہر روز کسی نہ کسی چیز کا صدقہ کیا کرتے تھے، خواہ وہ ایک کیک یا ایک پیازیا اس قسم کی کوئی چیز ہوتی۔

3578

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3578

Sahih

۔ (۳۵۷۸) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کَانَ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ لَایَجِیْئُ إِلَی الْمَسْجِدِ إِلَّا وَمَعَہُ شَیْئٌیَتَصَدَّقُ بِہِ، قَالَ: فَجَائَ ذَاتَیَوْمٍ إِلَی الْمَسْجِدِ وَمَعَہُ بَصَلٌ؟ فَقُلْتُ لَہُ: اَبَا الْخَیْرِ مَا تُرِیْدُ إِلٰی ھٰذَا یُنْتِنُ عَلَیْکَ ثَوْبَکَ؟ قَالَ: یَا ابْنَ اَخِیْ! إِنَّہُ وَاللّٰہِ! مَا کَانَ فِی مَنْزِلِیْ شَیْئٌ اَتَصَدَّقُ بِہِ غَیْرَہٗ، إِنَّہُ حَدَّثَنِی رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ظِلُّ الْمُؤْمِنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ صَدَقَتُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۸۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) یزید کہتا ہے: مرثد بن عبد اللہ جب بھی مسجد کی طرف آتے تو صدقہ کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی نہ کوئی چیز ہوتی تھی۔ ایک دن جب وہ آئے تو ان کے پاس ایک پیاز تھا، میں نے کہا: ابو الخیر! آپ اس کو کیا کریں گے؟ یہ تو آپ کے کپڑوں کو بدبودار کر دے گا۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! اللہ کی قسم! آج میرے گھر میں صدقہ کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی چیز نہیں تھی۔ مجھے ایک صحابی نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مومن پر اس کا صدقہ سایہ فگن ہو گا۔

3579

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3579

Sahih

۔ (۳۵۷۹) عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْیَزَنِّی حَدَّثَنِی بَعْضُ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ ظِلَّ الْمُؤْمِنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ صَدَقَتُہُ)) (مسند احمد: ۱۸۲۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ایک صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مومن کا سایہ اس کا صدقہ ہو گا۔

3580

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3580

Sahih

۔ (۳۵۸۰) عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ رضی اللہ عنہ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ : ((یَا ابْنَ أدَمَ إِنَّکَ اِنْ تَبْذُلِ الْخَیْرَ خَیْرُ لَکَ و اِنْ تُمْسِکْہُ شَرُّ لَکَ ، وَلَاَ تُلَامُ عَلَی الْکَفَافِ وَابْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ وَالْیَدُ اْلُعْلیَا خَیْرُ مِنَ الْیَدِ السُّلٰی ۔)) (مسند احمد : ۲۲۶۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابن آدم! اگر تو ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کر دے گا تو یہ تیرے لئے بہتر ہو گا اور اگر اسے بچا کر رکھے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا، البتہ بقدر حاجت بچا کر رکھنے پر تجھے ملامت نہیں کیا جائے گا، اور خرچ کرتے وقت ان افراد سے ابتدا کر، جو تیری کفالت میں ہیں، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے (یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے) بہتر ہے۔

3581

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3581

Sahih

۔ (۳۵۸۱) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۷۱۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گزشتہ حدیث کی طرح کی ایک روایت بیان کی ہے۔

3582

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3582

Sahih

۔ (۳۵۸۲) وَعَنْہُ اَیْضًا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ مَلَکًا بِبَابٍ مِنْ اَبْوَابِ السَّمَائِ یَقُوْلُ: مَنْ یُقْرِضُ الْیَوْمَیُجْزٰی غَدًا، وَمَلَکًا بِبَابٍ آخَرَ یَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ اَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَعَجِّلْ لِمُمْسِکٍ تَلَفًا۔)) (مسند احمد: ۸۰۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر ایک فرشتہ یوں آواز دیتا ہے: کون آج قرض دے گا، تاکہ اسے کل (قیامت والے دن) بدلہ دیا جا سکے،اور ایک دوسرے دروازے پر ایک فرشتہ یوں کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بہترین متبادل عطا فرما اور بخیل کے مال کو ہلاک کر دے۔

3583

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3583

Sahih

۔ (۳۵۸۳) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہَا: ((یَا عَائِشَۃُ! اِسْتَتِرِیْ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ فَإِنَّہَا تَسُدُّ مِنَ الْجَائِعِ مَسَدَّہَا مِنَ الشَّبْعَانِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: عائشہ! آگ سے بچ (اس کے لیے اسباب پیدا کر)، اگر چہ وہ کھجور کا ایک حصہ دینے کی صورت میں ہی ہو، یہ سیر آدمی کی طرح ہی بھوکے آدمی کو فائدہ دیتا ہے۔

3584

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3584

Sahih

۔ (۳۵۸۴) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیَتَّقِ اَحَدُکُمْ وَجْہَہُ مِنَ النَّارِ وَلَوْبِشِقِّ تَمْرَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۳۶۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی اپنے چہرے کو آگے سے بچائے، اگرچہ وہ کھجور کا ایک حصہ صدقہ کرنے کی صورت میں ہو۔

3585

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3585

Sahih

۔ (۳۵۸۵) عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ وَہْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((تَصَدَّقُوْا فَیُوْشِکُ الرَّجُلُ یَمْشِیْ بِصَدَقَتِہِ، فَیَقُوْلُ الَّذِیْ اُعْطِیَہَا: لَوْ جِئْتَ بِہَا بِالْاَمْسِ قَبِلْتُہَا، وَاَمَّا الْآنَ فَلَا حَاجَۃَ لِیْ فِیْہَا فلَا یَجِدُ مَنْ یَقْبَلُہَا)) (مسند احمد: ۱۸۹۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حارثہ بن وہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صدقہ کرو، کیونکہ قریب ہے کہ ایک آدمی صدقہ لے کر چلے اور جسے وہ دینا چاہے، وہ آگے سے کہے: اگر تو کل لے آتا تو میں قبول کر لیتا، اب تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، پس اسے ایسا آدمی نہیں ملے گا، جو اس کے صدقے کو قبول کرے۔

3586

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3586

Sahih

۔ (۳۵۸۶) عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کُنْتُ اَمْشِیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَخْلِ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ، فَقَالَ: ((یَا اَبَا ہُرَیْرَۃَ! ہَلَکَ الْمُکْثِرُوْنَ، إِلَّا مَنْ قَالَ ہٰکَذَا وَ ہٰکَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّی بِکَفِّہِ عَنْ یَمِیْنِہِ وَعَنْیَسَارِہِ وَبَیْنَیَدَیْہِ، وَقَلَیْلٌ مَا ہُمْ۔)) (مسند احمد: ۸۰۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے ایک کھجوروں کے باغ میں چل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! زیادہ مال والے ہلاک ہو گئے، ما سوائے ان لوگوں کے جو مال کو اِدھر خرچ کرتے ہیں، اُدھر دیتے ہیں اور اس طرف لٹاتے ہیں،پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ہتھیلی سے دائیں، بائیں اور سامنے کی طرف اشارہ کیا، لیکن ایسے لوگ تھوڑے ہیں۔

3587

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3587

Sahih

۔ (۳۵۸۷) عَنْ عَبْدِ اللہِ (بْنِ مَسْعُوْدِ) رضی اللہ عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((اَیُّکُمْ مَالُ وَارِثِہِ اَحَبُّ إلَیْہِ مِنْ مَالِہِ ؟)) قَالَ : قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللہِ ! مَا مِنَّا اَحَدُ إلَّا مَالُہُ اَحَبُّ إلَیْہِ مِنْ مَالِ وَارِثِہِ ۔ قَالَ : ((اِعْلَمُوْا اَنَّہُ لَیْسَ مِنْکُمْ اَحَدُ إلَّا مَالُ وَارِثِہِ اَحَبُّ إلَیْہِ مِنْ مَالِہِ ، مَالَکَ مِنْ مَالِکَ اِلَّا مَا قَدَّّمْتَ ، وَمَالُ وَارِثِکَ مَا اَخَّرْتَ ۔)) (مسند احمد : ۳۶۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کا مال زیادہ پیارا ہو؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے ہر ایک کواس کے وارث کی بہ نسبت اپنا مال زیادہ محبوب ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھریاد رکھو کہ تم میں سے ہر ایک کو اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کا مال زیادہ پیارا ہے، تمہارا مال تو صرف وہ ہے، جسے تم نے خرچ کرکے آگے بھیج دیا اور جو پیچھے چھوڑا، وہ تمہارے وارث کا مال ہے۔

3588

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3588

Sahih

۔ (۳۵۸۸) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّہُمْ ذَبَحُوْاشَاۃً، قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا بَقِیَ إِلَّا کَتِفُہَا، قَالَ: ((کُلُّہَا قَدْ بَقِیَ إِلَّا کَتِفُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے ایک بکری ذبح کی (اور اس کا گوشت تقسیم کر دیا)، پھر میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلاتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بکری کا صرف ایک کندھے کا گوشت باقی بچا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حقیقت میں وہ ساری بچ گئی ہے، ما سوائے اس کندھے کے (جو گھر میں پڑا ہوا ہے)۔

3589

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3589

Sahih

۔ (۳۵۸۹) وَعَنْہَا اَیْضًا اَنَّہَا سَاَلَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ مِنْ اَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَذَکَرَتْ شَیْئًا قَلَیْلاً، فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَعْطِی وَلَاتُوعِیْ، فَیُوعٰی عَلَیْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صدقہ کے معاملے میں کوئی سوال کیا اور تھوڑی سی چیز کا ذکر کیا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: دے دو اور کنجوسی نہ کر، وگرنہ تجھ سے کنجوسی کر لی جائے گی۔

3590

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3590

Sahih

۔ (۳۵۹۰) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَظَرَ إِلٰی رَجُلٍ یَصْرِفُ رَاحِلَتَہُ فِی نَوَاحِیْ الْقَوْمِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ عِنْدَہُ فَضَلٌ مِنْ ظَہْرٍ فَلْیَعُدْ بِہِ عَلٰی مَنْ لَا ظَہْرَ لَہُ،وَمَنْ کَانَ لَہُ فَضْلٌ مِنْ زَادٍ، فَلْیَعُدْ بِہِ عَلٰی مَنْ لَا زَادَ لَہُ۔)) حَتّٰی رَاَیْنَا اَنْ لَاحَقَّ لِاَحَدٍ ِمنَّا فِی فَضْلٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ لوگوں کی ایک طرف اپنی سواری کو گھما رہا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کسی کے پاس زائد سواری ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پاس زائد زادِ راہ ہو تو وہ ایسے آدمی کو دے دے جس کے پاس زاد نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمان سن کر ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ضرورت سے زائد چیز میں ہم میں سے کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔