Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 66 · Chapter 619

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

صدقہ فطر کی مشروعیت اور حکم کا اور جن لوگوں پر یہ فرض ہے، ان کا بیان

6 hadiths in this chapter

3559

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3559

Sahih

۔ (۳۵۵۹) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَضَ زَکَاۃَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ عَلٰی کُلِّ حُرٍّ اَوْ عَبْدٍ، ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (مسند احمد:۶۲۱۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر مسلمان ، وہ آزاد ہو یا غلام اور مرد ہو یا عورت، پر ایک صاع کھجور یا جو کی صورت میں رمضان کا صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔

3560

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3560

Sahih

۔ (۳۵۶۰) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدَقَۃَ الْفِطْرِ عَلَی الصَّغِیْرِ وَالْکَبِیْرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوْکِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ اَوْ شَعِیْرٍ۔ (مسند احمد: ۵۱۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔

3561

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3561

Sahih

۔ (۳۵۶۱) عَنْ اَبِی عَمَّارٍ قَالَ: سَاَلْتُ قَیْسَ بْنَ سَعْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌عَنْ صَدَقَۃِ الْفَطْرِ فَقَالَ: اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَبْلَ اَنْ تَنْزِلَ الزَّکَاۃُ، ثُمَّ نَزَلَتِ الزَّکَاۃُ فَلَمْ نُنْہَ عَنْہَا وَلَمْ نُؤْمَرْ بِہَا وَنَحْنُ نَفْعَلُہُ وَسَاَلْتُہُ عَنْ صَوْمِ عَاشُوْرَائَ، فَقَالَ: اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَقَبْلَاَنْیَنْزِلَ رَمَضَانُ، ثُمَّ نَزَلَ رَمَضَانُ فَلَمْ نُؤْمَرْ بِہِ وَلَمْ نُنْہَ عَنْہُ وَنَحْنُ نَفْعَلُہُ۔ (مسند احمد: ۲۴۳۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عمار کہتے ہیں: میں نے سیدنا قیس بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے صدقۂ فطر کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے تو صدقۂ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، البتہ جب زکوٰۃ (کی فرضیت) نازل ہو گئی تو اس کے بعد نہ اس صدقہ سے ہمیں روکا گیا اور نہ از سرِ نو اس کا حکم دیا گیا، البتہ ہم ادا کرتے آ رہے ہیں۔ پھر میں نے ان سے یومِ عاشوراء کے روزے کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نہ ہمیں از سرِ نو اس روزے کا حکم دیا گیا اور نہ اس سے منع کیا گیا، البتہ ہم اس کا روزہ رکھتے ہیں۔

3562

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3562

Sahih

۔ (۳۵۶۲) عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نُؤَدِّیْ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، صَاعًا مِنْ زَبِیْبٍ، صَاعًا مِنْ اَقِطٍ، فَلَمَّا جَائَ مُعَاوِیَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ جَائَتِ الْسَّمْرَائُ فَرَاٰی اَنَّ مُدًّا یَعْدِلُ مُدَّیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں جو، کھجور، منقی اور پنیر کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر ادا کیا کرتے تھے، لیکن جب سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (اپنے دور میں حج یا عمرہ ادا کرنے کے لیے) تشریف لائے تو اس وقت شامی گندم بھی آ گئی تھی، انہوں نے یہ خیال ظاہر کیاکہ گندم کا ایک مُدّ دیگر اجناس کے دو مُد کے برابر ہے۔

3563

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3563

Sahih

۔ (۳۵۶۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا نُخْرِجُ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ إِذَا کَانَ فِیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، اَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ، اَوْ صَاعًا مِنْ زَبِیْبٍ اَوْ صَاعًا مِنْ اَقِطٍ، فَلَمْ نَزَلْ کَذٰلِکَ حَتّٰی قَدِمَ عَلَیْنَا مُعَاوِیَۃُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۱۱۹۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدناابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب ہم میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجود تھے تو ہم کھانے، کھجور، جو، منقیٰ اور پنیر کا ایک ایک صاع بطور صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہمارے پاس سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے۔

3564

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3564

Sahih

۔ (۳۵۶۴) حدثنا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی اَبِی ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ اَنَا اَیُوْبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدَقَۃَ رَمَضَانَ عَلَی الذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوْکِ صَاعَ تَمْرٍ اَوْ صَاعَ شَعِیْرٍ۔ قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ بِہِ بَعْدُ نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ۔ قَالَ اَیُّوْبُ: وَقَالَ نَافِعٌ: کَانَ ابْنُ عُمَرَ یُعْطِی التَّمْرَ، إِلَّا عَامًا وَاحِدًا اَعْوَزَ التَّمْرُ، فَاَعْطٰی الشَّعِیْرَ۔ (مسند احمد: ۴۴۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مذکرو مونث اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے، بعد میں لوگوں نے گندم کے نصف صاع کو ان اجناس کے ایک صاع کے مساوی قرار دیا تھا۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ صدقۂ فطر کے سلسلہ میں کھجور ہی ادا کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال کھجور کی قلت ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے جو عطا کیے تھے۔