Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 66 · Chapter 618

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرنے کا بیان

8 hadiths in this chapter

3551

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3551

Sahih

۔ (۳۵۵۱) عَنْ ابْنِ عَبَّاسَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللّٰہِ فَاَعِیْذُوہُ وَمَنْ سَاَلَکُمْ بِوَجْہِ اللّٰہِ فَاَعْطُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پناہ طلب کرے، تم اسے پناہ دے دو اور جو کوئی تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے، تم اسے وہ چیز دے دو۔

3552

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3552

Sahih

۔ (۳۵۵۲) عَنِْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ قَالَ: ((مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللّٰہِ فَاَعِیْذُوْہُ وَمَنْ سَاَلَکُمْ (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَمَنْ سَاَلَکُمْ بِوَجْہِ اللّٰہِ) فَاَعْطُوْہُ، وَمَنْ دَعَاکُمْ فَاَجِیْبُوْہُ، وَمَنْ اَتٰی عَلَیْکُمْ مَعْرُوْفًا فَکَافِئُوہُ فَإِنَّ لَمْ تَجِدُوْا مَا تُکَافِئُوْہُ، فَادْعُوْا لَہُ حَتّٰی تَعْلَمُوْا اَنْ قَدْ کَافَاْتُمُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۵۳۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی تم کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دیا کرو، جو تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے تو اسے وہ چیز دے دیا کرو،جو تمہیں دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کیا کرو اور جو تمہارے ساتھ اچھا سلوک کرے تو تم اس کو بدلہ دو، اگر بدلہ دینے کے لیے تمہارے پاس کچھ نہ ہو تو تم اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ تمہیں اندازہ ہو جائے کہ تم نے بدلہ چکا دیا ہے۔

3553

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3553

Sahih

۔ (۳۵۵۳) عَنْ زَیْدِ بْنِ اَسْلَمَ عَنْ اَبِیْہِ اَنْ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌حَمَلَ عَلٰی فَرَسٍ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَاٰہَا اَوْ بَعْضَ نِتَاجِہَا یُبَاعُ ُفَاَرَادَ شِرَائَ ہُ فَسَاَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اُتْرُکْہاَ تُوَافِکَ اَوْ تَلْقَہَا جَمِیْعًا۔)) وَقَالَ مَرَّۃً: فَنَہاَہُ وَقَالَ: ((لَا تَشْتَرِہِ وَلَاتَعُدْ فِی صَدَقَتِکَ۔)) (مسند احمد:۱۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں صدقہ کیا تھا، پھر جب انھوں نے دیکھا کہ اس کو یا اس کے بچے کو فروخت کیا جا رہا ہے تو انھوں نے اس کو خرید لینے کا ارادہ کیا اورنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب اس کو نہ خریدو، تاکہ (قیامت کے روز) وہ تجھے پورا پورا ملے (یا پھر راوی نے کہا) تم اس کا پورا اجر پا سکو۔ ایک دفعہ راوی نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا: اسے مت خریدو اور اپنی صدقہ کی ہوئی چیز میں مت لوٹو۔

3554

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3554

Sahih

۔ (۳۵۵۴) (وَعَنْہُ اَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: حَمَلْتُ عَلٰی فَرَسٍ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ فَاَضَاعَہُ صَاحِبُہُ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَبْتَاعَہُ وَظَنَنْتُ اَنَّہُ بَائِعُہُ بِرُخْصِ، فَقُلْتُ: حَتّٰی اَسْاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((لَاتَبْتَعْہُ وَإِنْ اَعْطَاکَہُ بِدِرْہَمٍ، فَإِنَّ الَّذِییَعُوْدُ فِی صَدَقَتِہِ کَالْکَلْبِ یَعُوْدُ فِی قَیْئِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا، لیکن اس کے مالک نے اس کو ضائع کر دیا، اس لیے میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا، جبکہ مجھے یہ توقع بھی تھی کہ وہ اسے سستے داموں بیچ دے گا، پھر میں نے سوچا کہ پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس بارے میں دریافت کر لوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے مت خریدو، خواہ وہ تمہیں ایک درہم کے عوض دے دے، صدقہ کرکے اسے واپس لینے والے کی مثال اس کتے کی سی ہے جو قے کرکے چاٹ لیتا ہے۔

3555

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3555

Sahih

۔ (۳۵۵۵) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ عُمَرَ حَمَلَ عَلٰی فَرَسٍ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ رَآہَا تُبَاعُ فَاَرَادَ اَنْ یَشْتَرِیَہَا، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَاتَعُدْ فِی صَدَقَتِکَ)) (مسند احمد:۴۹۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناعبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا اور بعد میں دیکھا کہ اسے فروخت کیا جا رہا ہے، اس لیے انہوں نے اسے خریدنا چاہا، لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے صدقہ میں مت لوٹو۔

3556

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3556

Sahih

۔ (۳۵۵۶) عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ رَجُلاً حَمَلَ عَلٰی فَرَسٍ یُقَالُ لَہَا غَمْرَۃُ اَوْ غَمْرَائُ، وَقَالَ: فَوَجَدَ فَرَسًا اَوْ مُہْرًا یُباعُ فَنُسِبَ إِلٰی تِلْکَ الْفَرَسِ فَنُہِیَ عَنْہَا۔ (مسند احمد: ۱۴۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنازبیر بن عوام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے غمرہ یا غمراء نامی ایک گھوڑی کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا، بعد میں اس نے دیکھا کہ اسی گھوڑی کویا اس کے بچے، جو اسی گھوڑی کی طرف منسوب کیا گیا، کو فروخت کیا جا رہا تھا، لیکن اسے ایسے کرنے سے منع کر دیا گیا۔

3557

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3557

Zaeef

۔ (۳۵۵۷) عَنْ اَبِی عَرِیْفِ بْنِ سَرِیْعٍ اَنَّ رَجُلاً سَاَلَ ابْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ: یَتِیمٌ کَانَ فِی حَجْرِیْ تَصَدَّقْتُ عَلَیْہِ بِجَارِیَۃٍ ثُمَّ مَاتَ وَاَنَا وَارِثُہُ؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو: سَاُخْبِرْکَ بِمَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، حَمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَلٰی فَرَسٍ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ، ثُمَّ وَجَدَ صَاحِبَہُ فَدْ اَوْقَفَہُ یَبِیْعُہُ فَاَرَادَ اَنْ یَشْتَرِیَہُ فَسَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ،فَنَہَاہُعَنْہُوَقَالَ: ((إِذَاتَصَدَّقْتَبِصَدَقَۃٍ فَاَمْضِہَا۔)) (مسند احمد: ۶۶۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عریف بن سریع سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا ابن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ سوال کیا: میری کفالت میں ایک یتیم بچہ تھا، میں نے اسے ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی، پھر وہ بچہ فوت ہو گیا اورمیں ہی اس کا وارث ہوں، (اب اس لونڈی کا کیا بنے گا)؟ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اس سے کہا: میں تمہیں ایسی حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خود سنی ہے، بات یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ایک گھوڑا اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کیا، پھر جب انھوں نے دیکھا کہ اس آدمی نے اس کو بیچنے کے لیے ایک مقام پر پیش کر دیا، تو انھوں نے اس کو خرید لینے کا ارادہ کیا، لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا: جب ایک دفعہ صدقہ کر دو تو جاری کر دیا کرو (یعنی کسی طرح سے واپس لینے کا نہ سوچا کرو)۔

3558

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3558

Sahih

۔ (۳۵۵۸) عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہِ، (بُرَیْدَۃَالَاسْلَمِیِّ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌اَنَّ اِمْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی تَصَدَّقْتُ عَلٰی اُمِّیْ بِجَارِیَۃٍ فَمَاتَتْ وَإِنَّہَا رَجَعَتْ إِلَیَّ فِی الْمِیَراثِ، قَالَ: ((قَدْ آجَرَکِ اللّٰہُ، وَرَدَّ عَلَیْکِ فِی الْمِیْرَاثِ۔)) قَالَتْ: فَإِنَّ اُمِّیْ مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ فَیُجْزِئُہَا اَنْ اَحُجَّ عَنْہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَتْ: فَإِنَّ اُمِّیْ کَانَ عَلَیْہَا صَوْمُ شَہْرٍ فَیُجْزِئُہَا اَنْ اَصُوْمَ عَنْہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی والدہ کو ایک لونڈی بطور صدقہ دی تھی، لیکن ہوا یوں کہ میری امی جان فوت ہو گئی ہیں اور وہ لونڈی میراث میں مجھے مل گی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجر بھی دے دیا ہے اور اسی لونڈی کو میراث کی صورت میں تمہیں واپس کر دیا ہے۔ اسی خاتون نے کہا: میری والدہ حج کئے بغیر فوت ہو گئی ہیں،اب اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو یہ اُن کو کفایت کرے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پھر کہا: میری والدہ کے ذمے ایک ماہ کے روزے بھی تھے، اگر میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں تو آیا ان کو کفایت کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔