Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 66 · Chapter 616

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

اگر بن مانگے کچھ مل جانے تو اسے قبول کر لینے اور اگر مانگنے کے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لینے کا بیان

5 hadiths in this chapter

3540

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3540

Sahih

۔ (۳۵۴۰) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُعْطِیِِْنِیْ الْعَطَائَ فَاَقُوْلُ: اَعْطِہِ اَفْقَرَ مِنِّیْ، حَتّٰی اَعْطَانِیْ مَرَّۃً مَالًا فَقُلْتُ: اَعْطِہٖاَفْقَرَمِنِّی، قَالَ: فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذْہُ فَتَمَوَّلْہُ، وَتَصَدَّقْ بِہِ، فَمَا جَائَ کَ مِنْ ھٰذَا الْمَالِ وَاَنْتَ غَیْرُ مُشْرِفٍ، وَلَا سَائِلٍ فَخُذْہُ وَمَالَا، فَلَا تُتْبِعْہُ نَفْسَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے کوئی چیز دیتے تھے تو میں کہتا تھا کہ آپ یہ چیز اس کو دیں، جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مرتبہ مجھے مال دیا اور میں نے کہا:آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ مال مجھ سے زیادہ حاجت مند کو دیں۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم یہ لے لو اور اس کے مالک بنو اور (پھر چاہو تو) اسے صدقہ کر دو، جو مال لالچ اور سوال کے بغیر مل جائے، وہ لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگایا کرو۔

3541

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3541

Sahih

۔ (۳۵۴۱) عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ اَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَامِرٍ بَعَثَ إِلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بِنَفَقَۃٍ وَکِسْوَۃٍ، فَقَالَتْ لِلرَّسُوْلِ: إِنِّییَا بُنَیَّ لاَ اَقْبَلُ مِنْ اَحَدٍ شَیْئًا، فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ: رُدُّوْہُ عَلَیَّ، فَرَدُّوہُ، فَقَالَتْ: إِنِّی ذَکَرْتُ شَیْئًا قَالَہُ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! مَنْ اَعْطَاکِ عَطَائً بِغَیْرِ مَسْاَلَۃٍ فَاَقْبَلِیْہِ فَإِنَّمَا ہُوَ رِزْقٌ عَرَضَہُ اللّٰہُ لَکِ۔)) (مسند احمد: ۲۶۷۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مطلب بن حنطب کہتے ہیں: عبد اللہ بن عامر نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں کچھ خرچہ اور لباس بھیجا، لیکن انہوں نے قاصد سے کہا: میرے پیارے بیٹے! میں کسی سے کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ چلا گیا تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا:اسے واپس بلاؤ۔ جب لوگوں نے اسے واپس بلایا تو انھوں نے کہا: مجھے ایک بات یاد آئی، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمائی تھی کہ عائشہ ! جو آدمی بن مانگے کوئی چیز تمہیں دے دے تو وہ لے لیا کرو، کیونکہ یہ تو ایسا رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف بھیجا ہے۔

3542

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3542

Sahih

۔ (۳۵۴۲) عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیْمٍ اَنَّ عَبْدَالْعَزِیْزِ بْنَ مَرْوَانَ کَتَبَ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اَنِ ارْفَعْ إِلَیَّ حَاجَتَکَ، قَالَ: فَکَتَبَ إِلَیْہِ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِبْدَاْ بِمَنْ تَعُوْلُ وَالْیَدُ الْعُلْیَا خَیْرٌ مِنَ الْیَدِ السُّفْلٰی)) وَإِنِّی لَاَحْسِبُ الْیَدَ الْعُلْیَاالْمُعْطِیَۃَ وَالسُّفْلٰی السَّائِلَۃَ، وَإِنِّی غَیْرُ سَائِلِکَ شَیْئًا وَلَا رَادٌّ رِزْقًا سَاقَہُ اللّٰہُ إِلَیَّ مِنْکَ۔ (مسند احمد: ۶۴۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ قعقاع بن حکیم کہتے ہیں کہ عبد العزیز بن مروان نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف یہ لکھ کر بھیجا کہ ان کی کوئی ضرورت ہو تو وہ پیش کریں۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً لکھا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: خرچ کرتے وقت اپنے زیر کفالت افراد سے ابتدا کیا کرو اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اوپر والا ہاتھ دینے والا ہے اور نیچےوالا سوال کرنے والا ہے، لہذا میں آپ سے کچھ نہیں مانگتا اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کی طرف سے مجھے کوئی چیز بھجوا دے تو اسے واپس نہیں کروں گا۔

3543

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3543

Zaeef

۔ (۳۵۴۳) عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِیِّ اَنَّ الفِرَاسِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَسْاَلُ، قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖوَصَحْبِہِوَسَلَّمَ: لَا،وَإِنْکُنْتَ سَائِلًا لَا بُدَّ فَاسْاَلِ الصَّالِحِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابن فراسی سے روایت ہے کہ سیدنا فراسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: کیا میں مانگ سکتا ہوں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، اور اگر سوال کیے بغیر کوئی چارۂ کار نہ ہو تو نیک لوگوں سے سوال کر لیا کر۔

3544

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3544

Sahih

۔ (۳۵۴۴) عَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِیٍّ الْجُہَنِیِّ َ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ بَلَغَہُ مَعْرُوْفٌ عَنْ اَخِیْہِ مِنْ غَیْرِ مَسْاَلَۃٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْیَقْبَلْہُ وَلَا یُرَدَّہُ، فَإِنَّمَا ہُوَ رِزْقٌ سَاقَہُ اللّٰہُ عَزَّ َوَجَّل إِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناخالد بن عدی جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : جسے بن مانگے اور بغیر حرص کے اپنے مسلمان بھائی کی طرف سے (ہدیہ، عطیہ، ہبہ وغیرہ جیسی) کوئی چیز ملے تو وہ اسے قبول کر لے اور واپس نہ لوٹائے، کیونکہ وہ اللہ کا رزق ہے، جو وہ اس کی طرف کھینچ کر لایا ہے۔