Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 66 · Chapter 615

زکوۃ کی ادائیگی کے متعلق ابواب

سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا

3 hadiths in this chapter

3537

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3537

Zaeef

۔ (۳۵۳۷) عَنْ اَبِی الْیَمَانِ وَ اَبِیْ الْمُثَنّٰی اَنَّ اَبَا ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: بَایَعَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَمْسًا، وَاَوْثَقَنِیْ سَبْعًا، وَاَشْہَدَ اللّٰہَ عَلَیَّ تِسْعًا اَنْ لا اَخَافَ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، ثُمَّ قَالَ اَبُوْ الْمُثْنَّی: قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَدَعَانِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((ہَلْ لَکَ إِلٰی بَیْعَۃٍ وَلَکَ الْجَنَّۃُ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: وَبَسَطْتُّ یَدِی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَشْتَرِطُ عَلَیَّ: ((اَنْ لَّاتَسْاَلِ النَّاسَ شَیْئًا۔)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((وَلاَ سَوْطَکَ إِنْ یَسْقُطْ مِنْکَ حَتّٰی تَنْزِلَ إِلَیْہِ فَتَاْخُذَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے اس بات پر پانچ دفعہ بیعت لی، سات مرتبہ پختہ عہد لیا اور نو بار اللہ تعالیٰ کو مجھ پر گواہ بنایا کہ میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈروں۔ ابو مثنّٰی کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلا کر فرمایا: کیا تم ایک ایسی میری بیعت کرنے پر تیار ہو جاؤ گے، جس کے عوض تم کو جنت ملے گی؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر میں نے اپنا ہاتھ آگے کر دیا،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ پر اس شرط کا تعین کرتے ہوئے فرمایا: تم نے لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرنا۔ میں نے کہا: جی ٹھیک ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوڑا بھی گر جائے تو اس کا سوال بھی نہیں کرنا، بلکہ خود اتر کر اٹھانا ہے۔

3538

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3538

Sahih

۔ (۳۵۳۸) عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الاَشْجَعِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سِتَّۃِ نَفَرٍ اَوْ سَبْعَۃٍ اَوْ ثَمَانِیَۃٍ، فَقَالَ لَنَا: ((بَا یِعُوْنِی۔)) فَقُلْتُ: یَا نَبِیَ اللّٰہِ! قَدْ بَایَعْنَاکَ، قَالَ: ((بَایِعُوْنِی۔)) فَبَایَعْنَاہُ فَاَخَذَ عَلَیْنَا فِیْمَا اَخَذَ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ اَتْبَعَ ذٰلِکَ کَلِمَۃً خَفِیَّۃً، فَقَالَ: ((لَا تَسْاَلُوْا لنَّاسَ شَیْئًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم چھ یا سات یا آٹھ افراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میری بیعت کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم تو آپ کی بیعت کر چکے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: تم میری بیعت کرو۔ پس ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے ان ہی امور کی بیعت لی، جو دوسروں سے لی تھی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مخفی سے انداز میں ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور وہ یہ تھا کہ: تم لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرنا۔

3539

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3539

Sahih

۔ (۳۵۳۹) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یَتَقَبَّلُ ،( وَفِی رِوَاَیٍۃ مَنْ یَتَکَفَّلُ) لِی بِوَاحِدَۃٍ وَاَتَقَبَّلُ (وَفِی رِوَایَۃٍ: وَاَتَکَفَّلُ) لَہُ بِالْجَنَّۃِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَنَا، قَالَ: ((لاَ تَسْاَلِ النَّاسَ شَیْئًا۔)) فَکَانَ ثَوْبَانُ یَقَعُ َسْوُطُہ وَہُوَ رَاکِبٌ فَلَا یَقُوْلُ لِأَحَدٍ نَاوِلْنِیْہِ حَتّٰییَنْزِلَ فَیَتَنَاوَلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۲۷۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے ایک چیز کی ضمانت دے، اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں گا؟ میں نے کہا: جی میں (حاضر ہوں)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: توپھر تم نے لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرنا۔ جب سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سواری پر سوار ہوتے اور ان کی لاٹھی گر جاتی تو وہ کسی سے نہیں کہتے تھے کہ وہ ان کو اٹھا کر دے دے، بلکہ خود سواری سے اتر کر اس کو اٹھاتے تھے۔