Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 61 · Chapter 574

دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام

اہلِ میت کے لیے کھانا تیار کرنے اور اس چیز کے مکروہ ہونے کا بیان کہ یہ کھانا اہل میت خود تیار کریں، کیونکہ وہ لوگوں کے اکٹھ کی وجہ سے مصروف ہوں گے

4 hadiths in this chapter

3285

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3285

Sahih

۔ (۳۲۸۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: لَمَا جَائَ نَعْیُ جَعْفَرٍ حِیْنَ قُتِلَ،قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِصْنَعُوْا ِلآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَقَدْ أَتَاہُمْ أَمْرٌ یَشْغَلُہُمْ أَوْ أَتَاہُمْ مَا یَشْغَلُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناعبداللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ جب سیّدناجعفر بن ابی طالب کی شہادت کی اطلاع آئی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے، جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔

3286

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3286

Zaeef

۔ (۳۲۸۶) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمِیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا فِی قِصَّۃِ مَوْتِ زَوْجِہَا جَعْفَرِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لأَہْلِہِ: ((لَاتُغْفِلُوْا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوْا لَہُمْ طَعَامًا فَإِنَّہُمْ قَدْ شُغِلُوْا بِأَمْرِ صَاحِبِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اپنے شوہر سیّدناجعفر بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے اہل خانہ سے فرمایا: آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرنے میں غفلت نہ برتو، کیونکہ وہ اپنے سربراہ (کی شہادت) کہ وجہ سے مصروف ہیں۔

3287

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3287

Sahih

۔ (۳۲۸۷) عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا أَنَّہَاکَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَیِّتُ مِنْ أَہْلِہَا، فَاجْتَمَعَ النِّسَائُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَہْلَہَا وَخَاصَّتَہَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَۃٍ مِنْ تَلْبِیْنَۃٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِیْدٌ، فَصُبَّتِ ِالتَّلْبِیْنَۃُ عَلَیْہَا، ثُمَّ قَالَتْ: کُلْنَ مِنْہَا فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((التَّلْبِیْنَہُ مُجِمَّۃٌ لِفُؤَادِ الْمَرِیْضٍ، تَذْہَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے خاندان میں سے کوئی فوت ہوتا اور عورتیں جمع ہوتیں اور پھر ان کے چلے جانے کے بعد خاص خاص عورتیں باقی رہ جاتے تو وہ حکم دیتیں کی ہنڈیا میں تلبینہ پکایا جائے، پس وہ تیار کیا جاتا، پھر ثرید بنا کر اس پر تلبینہ ڈال دیا جاتا، پھر وہ کہتیں: عورتو! اس سے کھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور کسی حد تک غم کو بھی ہلکا کرتا ہے۔

3288

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3288

Sahih

۔ (۳۲۸۸) عَنْ جَرِیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کُنَّا نَعُدُّ الْاِجْتَمِاعَ إِلٰی أَہْلِ الْمَیِّتِ وَصَنِیْعَۃِ الطَّعَامِ بَعْدَ دَفْنِہِ مِنَ النِّیَاحَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۹۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناجریر بن عبداللہ بجلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم تدفین کے بعد میت کے لواحقین کے ہاں لوگوں کے جمع ہونے کو اور کھانا تیار کرنے کو نوحہ شمار کرتے تھے۔