Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 61 · Chapter 573

دفن کے ابواب اور قبروں کے احکام

مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان

4 hadiths in this chapter

3281

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3281

Sahih

۔ (۳۲۸۱) عَنْ ثَابِتٍ (البُنَانِیِّ) قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا یَعْنِی بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ لِامْرَأَۃٍ مِنْ أَہْلِہِ: أَتَعْرِفِیْنَ فُلَانَۃَ؟ فَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ مَرَّ بِہَا وَہِیَ تَبْکِی عَلٰی قَبْرٍ، فَقَالَ لَہَا: ((اِتَّقِی اللّٰہَ وَاصْبِرِیْ۔)) فَقَالَتْ لَہُ إِلَیْکَ عَنِّیْ، فَإِنَّکَ لَا تُبَالِی بِمُصِیْبَتِی، قَالَ: وَلَمْ تَکُنْ عَرَفَتْہُ، فَقِیْلَ لَہَا: إِنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَأَخَذَہَا مِثْلُ الْمَوْتِ ، فَجَاَئَ تْ إِلٰی بَابِہِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَیْہِ بَوَّابًا، فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ! إِنِّی لَمْ أَعْرِفْکَ، فَقَالَ: ((إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدَمَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ثابت بنانی کہتے ہیں: سیّدناانس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے اہل خانہ کی ایک خاتون سے کہا: کیا تم فلاں عورت کو جانتی ہو؟رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ ایک قبر پر رو رہی تھی، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور صبرکرو۔ اس نے آگے سے کہا: تم مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں میری مصیبت کی کیا پرواہ ہے۔دراصل یہ خاتون آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہچانتی نہیں تھی، بعد میں اسے بتلایا گیا کہ یہ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تھے، یہ سن کر اس پر موت کی گھبراہٹ سی طاری ہوگئی اور وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر پہنچ گئی اور وہاں کوئی دربان نہ پایا، پھر اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یوں عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک صبر تو وہ ہوتا ہے جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔

3282

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3282

Zaeef

۔ (۳۲۸۲) عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَۃٍ یُصَابُ بِمُصِیْبَۃٍ فَیَذْکُرُہَا وَإِنْ طَالَ عَہْدُہَا،قَالَ عُبَادَۃُ: قَدُمَ عَہْدُہَا، فَیُحْدِثُ لِذَالِکَ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا جَدَّدَ اللّٰہُ لَہُ عِنْدَ ذَالِکَ فَأَعْطَاہُ مِثْلَ أَجْرِہَا یَوْمَ أُصِیْبَ بِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا حسین بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی مسلمان مردو زن کو کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے اور پھر وہ بعد میں اسے یاد کر کے از سرِ نو إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتا ہے، اگرچہ اس صدمے کو لمبا عرصہ گزر چکا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس چیز کی تجدید کر کے اسے اتنا اجر عطا کرتا ہے، جتنا صدمے والے دن دیا تھا۔

3283

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3283

Sahih

۔ (۳۲۸۳) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِیْبُہُ مُصَیْبَۃٌ فَیَقُوْلُ إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِی (وَفِی رِوَایَۃٍ: اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِی، فَأْجُرْنِی فِیْہَا) وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْہَا إِلَّا أَجَرَہُ اللّٰہُ فِی مُصَیْبَتِہِ وَخَلَفَ لَہُ خَیْرًا مِنْہَا۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّیَ أَبُوْ سَلَمَۃَ، قُلْتُ: مَنْ خَیْرٌ مِنْ أَبِی سَلَمَۃَ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَتْ: فَعَزَمَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لِیْ، فَقُلْتُہَا: اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۷۱۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے سنا : جس آدمی کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ یہ دعا پڑھے: إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰہُمَّ عِنْدَکَ أَحْتَسِبُ مُصِیْبَتِی، فَأْجُرْنِی فِیْہَا وَاخْلُفْ لِیْ خَیْرًا مِنْہَا۔ (بیشک ہم سب اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، اے اللہ ! میں تیرے ہاں اپنی مصیبت پر ثواب طلب کرتا ہوں، پس تو مجھے اس میں اجر دے اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما) تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت میں اجر دیتا ہے اور نعم البدل عطا کرتا ہے۔ ہوا یوں کہ جب میرے شوہر سیّدنا ابو سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہو گئے تو میں نے کہا کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہو گا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی تھے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمت دی اور میں یہ دعا پڑھتی رہی: اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِیْ وَاخْلُفْ لِی خَیْرًا مِنْہَا۔ (اے اللہ!تو مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور اس کا بہترین متبادل عطا فرما۔) تو (اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ) میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کر لی۔

3284

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3284

Sahih

۔ (۳۲۸۴) عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: أَرْسَلَتْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْضُ بَنَاتِہِ أَنَّ صَبِیًّا لَہَا اِبْنًا أَوْ اِبْنَۃً قَدْ احْتُضِرَتْ فَاشْہَدْنَا، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا یَقْرَأُ لسَّلَامَ وَیَقُوْلُ: ((إِنَّ لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطٰی (وَفِی لَفْظٍ: لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلِلّٰہِ مَا أَعْطٰی) وَکُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہُ إِلٰی أَجَلٍ مُسَمًّی، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنااسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک صاحبزادی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ پیغام بھیجا کہ اس کا بیٹا یا بیٹی موت کے قریب جا پہنچا ہے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے ہاں تشریف لائیں۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو سلام بھیجا اور (تسلی دینے کے لیے) فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے جو اس نے لے لیا اور اس کے لیے ہے جو اس نے دیا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے، پس (میرے بیٹی) صبر کرے اور اس پر اجر کی امید رکھے۔