Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 60 · Chapter 566

نماز جنازہ کے ابواب

لوگوں کا میت کی تعریف کرنااوراس کے حق میں گواہی دینا

8 hadiths in this chapter

3237

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3237

Sahih

۔ (۳۲۳۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: مَرُّوْا بِجَنَازَۃٍ فَأَثْنَوْا عَلَیْہَا خَیْرًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ۔)) وَمَرُّوْا بِجَنَازَۃٍ فَأَثْنَوْا عَلَیْہَا شَرًّا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ۔)) فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی مُرَّ بِجَنَازَۃٍ فَاُثْنِیَ عَلَیْہَا خَیْرًا، فَقُلْتُ: ((وَجَبَتْ، وَجَبَتْ، وَجَبَتْ۔)) وَمُرَّ بِجَنَازَۃٍ فَاُثْنِیَ عَلَیْہَا شَرًّا فَقُلْتَ: ((وَجَبَتْ وَجَبَتِْ وَجَبْ)) فَقَالَ: ((مَنْ أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ خَیْرًا، وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ، وَمَنْ أَثْنَیْتُمْ عَلَیْہِ شَرًّا وَجَبَتْ لَہُ النَّارُ، أَنْتُمْ شُہَدَائُ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُہَدَائُ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ، أَنْتُمْ شُہَدَائُ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۹۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے اس کے حق میں کلمۂ خیر کہا، یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ اور لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے اور لوگوں نے اس کے حق میں برا تذکرہ کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، جب ایک جنازہ گزارا گیا اور اس کے حق میں تعریفی کلمات کہے گئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ اور جب دوسرا جنازہ گزارا گیا اور اس کے حق میں برا تذکرہ کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: واجب ہو گئی، واجب ہو گئی، واجب ہو گئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے (وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا: جس کے حق میں تم لوگوں نے اچھے کلمات کہے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کے حق میں تم نے برے کلمات کہے، اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی۔ دراصل تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو، تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔

3238

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3238

Sahih

۔ (۳۲۳۸) وَعَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ، وَفِیْہِ فَأَثْنَوْا عَلَیْھَا خَیْرًا فِی مَنَاقِبِ الْخَیْرِ، (وَقَالَ فِی الْأُخْرٰی) فَأَثْنَوْا عَلَیْہَا شَرًّا فِی مَنَاقِبِ الشَّرِّ، فَقَالَ: ((وَجَبَتَْ)) ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّکُمْ شُہَدَائُ اللّٰہِ فِی الْأَرْضِ)) (مسند احمد: ۱۰۴۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: لوگوں نے اس کے خیر والے اوصاف بیان کیے، (اور دوسرے جنازے کے) برے اوصاف بیان کیے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی ہے۔ پھر فرمایا: بیشک تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔

3239

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3239

Sahih

۔ (۳۲۳۹) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ قَالَ جَلَسَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌مَجْلِسًا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَجْلِسُہُ، تَمُرُّ عَلَیْہِ الْجَنَازَۃ، قَالَ: فَمَرُّوْا فَأَثْنَوْا خَیْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوْا بِجَنَازَۃٍ فَاتْنَوْا خَیْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ ثُمَّ مَرُّوْا بِجَنَازَۃٍ فَقَالُوْا خَیْرًا فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرَّوْا بِجَنَازَۃٍ فَقَالُوْا: ہٰذَا کَانَ أَکْذَبَ النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ أَکْذَبَ النَّاسِ أَکْذَبُہُمْ عَلَی اللّٰہِ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ مَنْ کَذَبَ عَلی رُوْحِہِ فِی جَسَدِہِ۔ قَالَ: قَالُوْا: أَرَأَیْتَ إِذَا شَہِدَ أَرْبَعَۃٌ؟ قَالَ: وَجَبَتْ۔ قَالُوْا: وَثَـلَاثَۃٌ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، قَالُوْا: وَاِثْنَانِ؟ قَالَ: وَجَبَتْ۔ وَلَأَنْ أَکُوْنَ قُلْتُ وَاحِدًا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، قَالَ: فَقِیْلَ لِعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ہٰذَا شَیْئٌ تَقُوْلُہُ بِرَأْیِکَ أَمْ شَیْئٌ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُہُ مِنَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں: سیّدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایسی جگہ بیٹھے، جہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھا کرتے تھے اور لوگ وہاں سے جنازے لے کر گزرتے تھے، (اس بار بھی) لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے اور لوگوں نے اس کے حق میں تعریفی کلمات کہے، سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: واجب ہوگئی۔ اس کے بعد لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے، اس کے حق میں بھی لوگوں نے کلمۂ خیر کہا، انہوں نے کہا: واجب ہو گئی، اس کے بعد لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے، اس کی بھی مدح سرائی کی گئی، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ اس کے بعد لوگ پھر ایک جنازہ لے کر گزرے تو لوگوں نے کہا: یہ سب سے جھوٹا آدمی تھا، یہ سن کر سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:جو آدمی لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا ہو گا، وہ اللہ پر بھی سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والا ہوتا ہے، اس سے کم درجہ جھوٹا وہ ہوتا ہے، جو اپنے جسم میں روح پر جھوٹ بولتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر چار آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: واجب ہو جائے گی، لوگوں نے کہا: اگر تین آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: تب بھی واجب ہو جائے گی، لوگوں نے کہا: اگر دو آدمی گواہی دیں تو؟ انھوں نے کہا: پھر بھی واجب ہو جائے گی۔اور اگر میں نے ایک آدمی کی گواہی کے بارے میں بھی پوچھ لیا ہوتا تو یہ بات مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی۔ کسی نے سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھا: یہ سارا کچھ آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یارسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، میں نے یہ ساری باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہیں۔

3240

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3240

Sahih

۔ (۳۲۴۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِی الأَسْوَدِ أَنَّہُ قَالَ: أَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ فَوَافَیْتُہَا وَقَدْ وَقَعَ فِیْہَا مَرَضٌ فَہُمْ یَمُوْتُوْنَ مَوْتًا ذَرِیْعًا فجَلَسْتُ إِلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَمَرَّتْ بِہِ جَنَازَۃٌ فَأُثْنِیَ عَلٰی صَاحِبِھَا خَیْرٌ، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرٰی فَأُثْنِیَ عَلٰی صَاحِبِہَا خَیْرٌ، فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَجَبَتْ، ثُمَ مُرَّ بِالثَّالِثَۃِ فَأُثْنِیَ عَلَیْہَا شَرٌّ،فَقَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: وَجَبَتْ، فَقَالَ أَبُوْ الْأَسْوَدِ: مَا وَجَبَتْ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! قَالَ: قُلْتُ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَیُّمَا مُسْلِمٍ شَہِدَ لَہُ أَرْبَعَۃٌ بِخَیْرٍ أَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: فَقُلْنَا: وَثَـلَاثَۃٌ؟ قَالَ: فَقَالَ: ((وَثَـلَاثَۃٌ۔)) قَالَ: قُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: (وَاثْنَانِ۔)) قَالَ: ثُمَّ لَمْ نَسْأَلْہُ عَنِ الْوَاحِدِ۔ (مسند احمد: ۱۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ابوالاسود کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا،ان دنوں وہاں ایک وبا پھیلی ہوئی تھی اور لوگ بڑی تیزی سے مر رہے تھے۔ میں سیّدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک جنازہ گزرا، اس کے حق میں دوسرے لوگوں کی طرف سے کلمۂ خیر کہا گیا، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ اس کے بعد ایک اور جنازہ گزرا، اس کے حق میں بھی تعریفی کلمات کہے گئے، تو انھوں نے کہا: واجب ہو گئی، اس کے بعد ایک تیسرا جنازہ گزرا، اس کی مذمت کی گئی، لیکن تب بھی انہوں نے کہا: واجب ہو گئی۔ابوالاسود نے کہا: امیر المومنین! کیا چیز واجب ہو گئی؟ سیّدناعمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے تو اسی طرح بات کی، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمائی تھی کہ جس مسلمان کے حق میں چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں، اللہ اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے۔ ہم نے پوچھا: تین آدمی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین بھی۔ ہم نے پوچھا: اور دو آدمی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو بھی۔ پھر ہم ایک آدمی کی گواہی کے بارے میں سوال نہ کر سکے۔

3241

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3241

Sahih

۔ (۳۲۴۱) عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی زُہَیْرٍ الثَّقَفِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَقُوْلُ بِالنَّبَائَ ۃِ أَوِ النَّبَاوَۃِ، شَکَّ نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، مِنَ الطَّائِفِ وَہُوَ یَقُوْلُ: ((یَاأَیُّہَا النَّاسُ! إِنَّکُمْ تُوشِکُوْنَ أَنْ تَعْرِفُوْا أَہْلَ الْجَنَّۃِ مِنْ أَہْلِ النَّارِ، اَوْ قَالَ: خِیَارَکُمْ مِنْ شِرَارِکُمْ)) فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: بِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((بِالثَّنَائِ السَّیِّیئِ وَالثَّنَائِ الْحَسَنِ،وَأَنْتُمْ شُہَدَائُ اللّٰہِ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ)) (مسند احمد: ۱۵۵۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوزہیر ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو طائف کے قریب نَبَاءَ ۃ یا نَبَاوَۃ مقام پر یہ فرماتے ہوئے سنا: لوگو! تم جہنمیوں میں سے جنتیوں یا بروں میں سے نیکوں کو پہنچان سکتے ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بری یا اچھی تعریف کے ساتھ، دراصل تم لوگ زمین میں ایک دوسرے کے حق میں اللہ کے گواہ ہو۔

3242

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3242

Zaeef

۔ (۳۲۴۲) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْوِیْہِ عَنْ رَبِّہِ عَزَّ َوَجَلَّ قَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ یَمُوْتُ یَشْہَدُ لَہُ ثَـلَاثَۃُ أَبْیَاتٍ مِنْ جِیْرَانِہِ الْأَْدْنَیْنَ بِخَیْرٍ إلِاَّ قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ قَدْ قَبِلْتُ شَہَادَۃَ عِبَادِیْ عَلٰی مَا عَلِمُوْا وَغَفَرْتُ لَہُ مَا أَعْلَمُ)) (مسند احمد: ۸۹۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جو مسلمان آدمی فوت ہو جائے اور اس کے قریبی ہمسایوں میں سے تین گھر والے لوگ اس کے حق میں خیر کی گواہی دے دیں تو اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میرے بندوں نے اپنے علم کے مطابق جو گواہی دی ہے، میں نے اسے قبول کر لیا ہے اور وہ (گناہ) معاف کر دیئے ہیں، جو میں جانتا ہوں۔

3243

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3243

Zaeef

۔ (۳۲۴۳) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَمُوْتُ فَیَشْہَدُ لَہُ أَرْبَعَۃُ أَہْلِ أَبْیَاتٍ مِنْ جِیْرَانِہٖ الأَدْنَیْنَ إِلَّا قَالَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی: قَدْ قَبِلْتُ فِیْہِ عِلْمَکُمْ وَغَفَرْتُ لَہُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۵۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان بھی فوت ہو جائے اور اس کے حق میں قریبی ہمسایوں میں سے چار گھر والے اس کے حق میں گواہی دیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:میں اس کے حق میں تمہارے علم کو قبول کرتا ہوں اور اس کے جن (گناہوں) کا تمہیں علم نہیں ہے، ان کو معاف کرتا ہوں۔

3244

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3244

Sahih

۔ (۳۲۴۴) عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ بْنِ رِبْعِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مُرَّ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِجَنَازَۃٍ قَالَ: ((مُسْتَرِیْحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْہُ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْمُسْتَرِیْحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْہُ؟ قَالَ: ((اَلْمُؤْمِنُ اسْتَرَاحَ مِنْ نَصَبِ الدُّنْیَا وَأَذَاہَا إِلٰی رَحْمَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی، وَالْفَاجِرُ اِسْتَرَاحَ مِنْہُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۹۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوقتادہ بن ربعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ راحت پا گیا ہے یا دوسروں نے اس سے راحت پائی ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا کیا مطلب ہے کہ یہ راحت پا گیا ہے یا دوسروں نے اس سے راحت پائی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن دنیا کے مصائب اور تکلیفوں سے راحت پا کر اللہ کی رحمت میں چلا جاتا ہے اور فاجر آدمی سے دوسرے انسان، شہر، درخت اور چوپائے راحت پا جاتے ہیں۔