Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 60 · Chapter 565

نماز جنازہ کے ابواب

میت کو دیکھ کر کھڑے ہونے کے منسوخ ہو جانے کا بیان

6 hadiths in this chapter

3231

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3231

Sahih

۔ (۳۲۳۱) عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوْسٰی الأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا مَرَّتْ بِکُمْ جَنَازَۃٌ فَإِنْ کَانَ مُسْلِمًا أَوْ یَہُوْدِیًّا أَوْ نَصْرَانِیَّا فَقُوْمُوْا لَہَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ لہَا نَقُوْمُ، وَلٰکِنْ نَقُوْمُ لِمَنْ مَعَہَا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ۔)) قَالَ لَیْثَ فَذَکَرْتُ ہٰذَا الْحَدِیْثَ لِمُجَاھِدٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُاللّٰہِ بْنُ سَخْبَرَۃَ الأَزْدِیُّ، قَالَ: إِنَّا لَجُلُوْسٌ مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نَنْتَظِرُ جَنَازَۃً إِذْ مَرَّتْ بِنَا أُخْرٰی، فَقُمْنَا، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَا یُقِیْمُکُمْ؟ فَقُلْنَا: ہٰذَا مَا تَأْتُوْنَا بِہِ یَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ! قَالَ: وَمَا ذَالِکَ؟ قُلْتُ: زَعَمَ اََبُوْ مُوْسٰی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِذَا مَرَّتْ بِکُمْ جَنَازَۃٌ، فَإِنْ کَانَ مُسْلِمًا أَوْ یَہُوْدِیًّا أَوْنَصْرَانِیًّا فَقُوْمُوا لَہَا، فَإِنَّہُ لَیْسَ لَہَا نَقُوْمُ، وَلٰکِنْ نَقُوْمُ لِمَنْ مَعَہَا مِنَ الْمَلَائِکَۃَ۔)) فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَا فَعَلَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَطُّ غَیْرَ مَرَّۃٍ بِرَجُلٍ مِنَ الْیَہُوْدِ، وَکَانُوْا أَہْلَ کِتَابٍ وَکَانَ یَتَشَبَّہُ بِہِمْ، فَإِذَا نُھِیَ اِنْتَہٰی، فَمَا عَادَلہَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۹۹۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے، وہ مسلمان کا ہو یا یہودی کا یا عیسائی کا، تم اسے دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو، ہم اس کے لیے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آنے والے فرشتوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ لیث کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث مجاہد کو بیان کی تو انھوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن سنجرہ ازدی نے بیان کرتے ہوئے کہا:ہم سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ایک جنازے کا انتظار کر رہے تھے کہ ہمارے قریب سے کوئی اور جنازہ گزرا،ہم اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے، لیکن سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم کیوں کھڑے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: اے اصحابِ محمد! تم نے ہمیں جو حدیث بیان کی ہے، ہم اس پر عمل کر رہے ہیں۔ انھوں نے پوچھا: وہ کون سی حدیث ہے؟ میں نے کہا کہ سیّدنا ابوموسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے، وہ مسلمان کا ہو یا یہودی کا یا عیسائی کا، تم اسے دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو، ہم اس کے لیے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ آنے والے فرشتوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سن کر سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ عمل صرف ایک دفعہ ایک یہودی کے ساتھ کیا تھا اور اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ یہ لوگ چونکہ اہل کتاب تھے، اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ان کی موافقت کیا کرتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو (اللہ کی طرف سے) روک دیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رک گئے اور اس کے بعد ایسا عمل نہیں کیا۔

3232

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3232

Sahih

۔ (۳۲۳۲) عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَمَرَّ بِہٖ جَنَازَۃٌ فَقَامَ لَہَا نَاسٌ فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: مَنْ أَفْتَاکُمْ ہٰذَا؟ فَقَالُوْا: أَبُوْ مَوْسٰی، فَقَالَ: إِنَّمَا فَعَلَ ذَالِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّۃً فَکَانَ یَتَشَبَّہُ بِأَہْلِ الْکِتَابِ، فَلَمَّا نُہِیَ انْتَہٰی۔ (مسند احمد: ۱۲۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

ابومعمر کہتے ہیں: ہم سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک جنازہ گزرا اورلوگ اسے دیکھ کر کھڑے ہو گئے۔ سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: تمہیں کھڑے ہونے کا فتویٰ کس نے دیا؟ لوگوں نے کہا کہ سیّدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے، یہ سن کر سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ عمل صرف ایک دفعہ کیا تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پسند کرتے تھے کہ اہل کتاب سے موافقت اختیار کی جائے، لیکن جب (اللہ کی طرف سے) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو روک دیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رک گئے۔

3233

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3233

Sahih

۔ (۳۲۳۳) وَعَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: شَہِدْتُّ جَنَازَۃً فِی بَنِی سَلْمَۃَ، فَقُمْتُ فَقَالَ لِی نَافِعُ بْنُ جَبِیْرٍ: اِجْلِسْ فَإِنِّی سَاُخْبِرُکَ فِی ہٰذَا بِثَبَتٍ، حَدَّثَنِی مَسْعُوْدُ بْنُ الْحَکَمِ الزُّرَقِیُّ أََّنُہ سَمِعَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌بِرَحْبَۃِ الْکُوْفَۃِ، وَہُوَ یَقُوْلُ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَنَا بِالْقِیَامِ فِی الْجَنَازَۃِ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ ذَالِکَ وَأَمَرَنَا بِالْجُلُوْسِ۔ (مسند احمد: ۶۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

واقد بن عمرو کہتے ہیں: میں بنو سلمہ کے ایک جنازہ میں حاضر ہوا اور (جنازہ کو دیکھ کر) میں کھڑا ہو گیا۔ نافع بن جبیر نے مجھ سے کہا: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں اس مسئلہ کے بارے میں ایک ثقہ آدمی کی حدیث بیان کرتا ہوں،مسعود بن حکم زرقی نے مجھے بیان کیا کہ انہوں نے مسجد ِ کوفہ کے صحن میں سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنازہ کو دیکھ کر کھڑے ہونے کا ہمیں حکم تو دیا تھا، لیکن اس کے بعد آپ بیٹھے رہتے اور ہمیں بھی بیٹھے رہنے کا حکم دیا۔

3234

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3234

Sahih

۔ (۳۲۳۴) عَنْ یَزِیْدَ یَعْنِی بْنَ إِبْرَاہِیْمَ وَہُوَ التُّسْتَرِیُّ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ جَنَازَۃً مَرَّتْ عَلَی الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَامَ الْحَسَنُ وَقَعَدَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ الْحَسَنُ لابْنِ عَبَّاسٍ: أَلَمْ تَرَا إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَرَّتْ بِہِ جَنَازَۃٌ فقَامَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلٰی وَقَدْ جَلَسَ، فَلَمْ یُنْکِرِ الْحَسَنُ مَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن سیرین کہتے ہیں: مجھے یہ بتلایا گیا کہ سیّدناحسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر سیّدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہو گئے، لیکن سیّدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے رہے، سیّدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا : کیا تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا نہیں تھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ گئے تھے۔یہ سن کر سیّدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی بات پر کوئی انکار نہیں کیا۔

3235

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3235

Zaeef

۔ (۳۲۳۵) عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ مَرَّ بِہِمْ جَنَازَۃٌ فَقَامَ الْقَوْمُ وَلَمْ یَقُمْ، فَقَالَ الْحَسَنُ: مَا صَنَعْتُمْ؟ إِنَّمَا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَأَذِّیًا بِرِیْحِ الْیَہُوْدِیِّ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر لوگ کھڑے ہو گئے، لیکن وہ بیٹھے رہے، پھر سیّدناحسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: یہ تم نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تو صرف یہودی میت کی بدبو کی تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہوئے تھے۔

3236

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3236

Zaeef

۔ (۳۲۳۶) عَنْ حُسَیْنٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنْ أَحَدِہِمَا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ قَالَ: إِنَّمَا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ أَجْلِ جَنَازَۃِ یَہُوْدِیٍّ مُرَّ بِہَا عَلَیْہِ فَقَالَ: ((آذَانِیْ رِیْحُہَا)) (مسند احمد: ۱۷۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیّدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دونوں سے یا ان میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمایا: مجھے اس کی بدبو نے تکلیف دی ہے۔