Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 60 · Chapter 562

نماز جنازہ کے ابواب

جنازے کے ساتھ آگ لے جانے، چیخ و پکار کرنے اور عورتوں کے جانے کا ممنوع ہونا

4 hadiths in this chapter

3212

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3212

Sahih

۔ (۳۲۱۲) عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: مَرَّتْ بِنَا جَنَازَۃٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَوْ قُمْتَ بِنَا مَعَہَا، قَالَ: فَأَخَذَ بِیَدِی فَقَبَضَ عَلَیْہَا قَبْضًا شَدِیْدًا، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَقَابِرِ سَمِعَ رَنَّۃً مِنْ خَلْفِہِ وَہُوَ قَابِضٌ عَلٰی یَدِی فَاسْتَدَارَ، فَاسْتَقْبَلَہَا فَقَالَ لَہَا شَرًّا، وَقَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَّبِـعَ جَنَازَۃً فِیْہَا رَنَّۃٌ۔ (مسند احمد: ۵۶۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

مجاہد سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا، پھر انھوں نے کہا: اگر تم بھی کھڑے ہو اور (ہمارے ساتھ چلو)۔ پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اس کو سختی سے پکڑا، جب ہم قبرستان کے قریب پہنچے تو انہوں نے اپنے پیچھے ایک عورت کے چیخنے کی آواز سنی، جبکہ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، انھوں نے مجھے گھمایا اور اس کی طرف متوجہ ہو کر اس کو ڈانٹا اور کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا ہے، جس کے ساتھ رونے کی آواز ہو۔

3213

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3213

Sahih

۔ (۳۲۱۳) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَال: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُتْبَعُ الْجَنَازَۃُ بِنَارٍ وَلَا صَوْتٍ۔)) (مسند احمد: ۹۵۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنازہ کے ساتھ آگ اور آواز نہیں ہونی چاہیے۔

3214

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3214

Sahih

۔ (۳۲۱۴) عَنْ أُمِّ عَطِیَّہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: نُہِیَ عَنْ اِتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَلَمْ یُعْزَمْ عَلَیْنَا۔ (مسند احمد: ۲۷۸۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام عطیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہمیں جنازوں کے پیچھے سے چلنے سے منع کیا گیا، لیکن ہم پر اتنی سختی نہیں کی گئی۔

3215

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3215

Zaeef

۔ (۳۲۱۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ نَمْشِیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذْبَصُرَ بِامْرَأَۃٍ لَا نَظُنُّ أَنَّہُ عَرَفَہَا فَلَمَّا تَوَجَّہْنَا إِلٰی الطَّرِیْقِ وَقَفَ حَتَّی انْتَہْتْ إِلَیْہِ، فَإِذَا فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فَقَالَ: ((مَا اَخْرَجَکِ مِنْ بَیْتِکِ یَافَاطِمَۃَ!؟)) قَالَتْ: أَتَیْتُ أَہْلَ ہٰذَا الْبَیْتِ فَرَحَّمْتُ إِلَیْہِمْ مَیِّتَہُمْ وَعَزَّیْتُہُمْ، فَقَالَ: ((لَعَلَّکِ بَلَغْتِ مَعَہُمُ الْکُدٰی؟)) قَالَتْ: مَعَاذَ اللّٰہِ! أَنْ أَکُوْنَ بَلَغْتُہَا مَعَہُمْ وَقَدْ سَمِعْتُکَ تَذْکُرُ فِی ذَالِکَ مَا تَذْکُرُ، قَالَ: ((لَوْ بَلَغْتِہَا مَعَہُمْ مَا رَأَیْتِ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَرَاہَا جَدُّ أَبِیْکِ۔)) (مسند احمد: ۶۵۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں : ایک دفعہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ جا رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نگاہ ایک خاتون پر پڑی، ہمارا یہ خیال نہیں تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے پہچان لیا ہو گا، جب ہم راستہ کی طرف مڑے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رک گئے، یہاں تک کہ وہ خاتون آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئی، وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: فاطمہ! تم کس غرض سے گھر سے باہر آئی ہو؟ انہوں نے کہا: میں فلاں گھر والوں کے پاس گئی تھی، ان کے میت کے حق میں رحمت کے کلمات کہے اور (ان کے فوت ہونے والے آدمی کی وجہ سے) ان کے ساتھ تعزیت کی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کہ تو ان کے ہمراہ کدیٰ (قبرستان) پہنچ گئی ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں ان کے ساتھ کدی مقام تک پہنچتی، جبکہ میں اس بارے میں آپ کے (وعید والے) کلمات سن چکی ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تم ان کے ساتھ اس مقام تک پہنچ جاتی تو اس وقت تک جنت کو نہ دیکھ سکتیں، جب تک تیرا باپ نہ دیکھ لیتا۔