Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 60 · Chapter 561

نماز جنازہ کے ابواب

جنازہ کے آگے پیچھے چلنے اور سوار ہو کر جانے کا بیان

10 hadiths in this chapter

3202

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3202

Zaeef

۔ (۳۲۰۲) حَدَثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی ثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ ثَنَا الْہَجَرِیُّ قَالَ: خَرَجْتُ فِی جَنَازَۃِ بِنْتِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی أَوْفٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ عَلٰی بَغْلَۃٍ لَہٗ حَوَّائَ یَعْنِی سَوْدَائَ، قَالَ فَجَعَلَ النِّسَائُ یَقُلْنَ لِقَائِدِہِ: قَدِّمْہُ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ فَفَعَلَ، قَالَ: فَسْمِعْتُہُ یَقُوْلُ لَہُ: أَیْنَ الْجَنَازَۃُ؟ قَالَ: قَالَ: خَلْفَکَ، قَالَ: قَالَ: فَفَعَلَ ذَالِکَ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ أَنْہَکَ أَنْ تُقَدِّمَنِی أَمَامَ الْجَنَازَۃِ، قَالَ: سَمِعَ امْرَأَۃً تَلْتَدِمُ وَقَالَ مَرَّۃً تَرْثِی(وَفِی رِوَایَۃٍ فَجَعَلَ النِّسَائُ یَبْکِیِْنَ) فَقَالَ: مَہْ، أَلَمْ أَنْہَکُنَّ عَنْ ہٰذَا؟ إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْہٰی عَنِ الْمَرَاثِی لِتُفِضْ إِحْدَاکُنَّ مِنْ عَبْرَتِہَا مَا شَائَ تْ۔ فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ تَقَدَّمَ فَکَبَّرَ عَلَیْہَا أَرْبَعَ تَکْبِیْرَاتٍ، ثُمَّ قَامَ ہُنَیَّہً فَسَبَّحَ بِہِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَانْفَتَلَ فَقَالَ: أَکْنَتُمْ تَرَوْنَ أَنِّیْ اُکَبِّرُ الْخَامِسَۃَ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ کَانَ إِذَا کَبَّرَ الرَّابِعَۃَ قَامَ ہُنَیَّۃً فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجَنَازَۃُ جَلَسَ وَجَلَسْنَا فَسُئِلَ عَنْ لَحُوْمِ الْحُمُرِ الْأَہْلِیَّۃِ فَقَالَ: تَلَقَّانَا یَوْمَ خَیْبَرَ حُمُرٌ أَہْلِیَّۃٌ خَارِجًا مِنَ الْقَرْیَۃِ فَوَقَعَ النَّاسُ فِیْہَا فَذَبَحُوْہاَ فَإِنَّ الْقُدُوْرَ لَتَغْلِی بِبَعْضِہَا إِذَ نَادٰی مُنَادِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : اَہْرِیْقُوْہَا، قَالَ فَأَھْرَقْنَاہَا، وَرَأَیْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ أَبِی اَوْفٰی مِطْرَفًا مِنْ خَزٍّ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو اسحاق ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں:میں سیّدناعبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صاحبزادی کے جنازہ میں شریک ہوا، وہ خود اپنے سیاہ رنگ کے خچر پر سوار تھے، عورتوں نے ان کے کوچوان سے کہا : ان کو جنازہ سے آگے لے چلو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ اتنے میں سیّدنا عبداللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا: جنازہ کہاں ہے؟ کوچوان نے بتایا کہ وہ تو پیچھے ہے، انہوں نے ایک دو مرتبہ یہ سوال کر کے کہا: کیا میں نے تجھے اس سے منع نہیں کیا تھا کہ تو مجھے جنازے سے آگے لے آئے۔ اتنے میں انھوں نے ایک عورت کو چہرہ پیٹتے ہوئے سنا، ایک روایت میں مرثیہ پڑھنے اور ایک روایت میں رونے کا ذکر ہے، بہرحال انھوں نے کہا: چپ ہو جاؤ،کیا میں نے تمہیں اس کام سے روکا نہیں تھا؟ بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مرثیوں سے منع کیا ہے،ہاں تم جس قدر چاہو آنسو بہا سکتی ہو، پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ آگے بڑھے اور چار تکبیرات کہیں، اس کے بعد کچھ دیر خاموش کھڑے رہے، کچھ لوگوں نے سبحان اللہ کہہ کر لقمہ دیا، نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا: کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ میں پانچویں تکبیر کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب چوتھی تکبیر کہتے تو اسی طرح تھوڑی دیر ٹھہر جاتے تھے۔ پھر جب جنازہ رکھ دیا گیا تو وہ بیٹھ گئے اور ہم بھی ان کے اردگرد بیٹھ گئے۔ اس وقت ان سے پالتو گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا: خیبر کے موقع پر ہم نے بستی سے باہر کچھ گدھے پائے اور ان کو ذبح کر دیا، ابھی ہنڈیوں میں کچھ گوشت ابلنے ہی لگا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا: ان کو بہا دو، پس ہم نے ان کو بہا دیا۔ اس دن میں نے سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پر ایک اونی چادر دیکھی جس کے کناروں پر ریشم کی کڑھائی تھی۔

3203

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3203

Sahih

۔ (۳۲۰۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ مَعَ جَنَازَۃِ ثَابِتِ بْنِ الدَّحْدَاحَۃِ عَلٰی فَرَسٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ، تَحْتَہُ لَیْسَ عَلَیْہِ سَرْجٌ، مَعَہُ النَّاسُ وَہُمْ حَوْلَہُ قَالَ: فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی عَلَیْہِ ثُمَّ جَلَسَ حَتّٰی فَرَغَ مِنْہُ، ثُمَّ قَامَ فَقَعَدَ عَلٰی فَرَسِہِ، ثُمَّ انْطَلَقَ یَسِیرُ حَوْلَہُ الرِّجَالُ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ سیّدنا ثابت بن دحدحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے جنازہ میں تشریف لے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے، اس کا منہ اور چاروں پاؤں سفید تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نیچے کوئی زین وغیرہ بھی نہیں تھی، لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اردگرد چل رہے تھے،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اتر کر نماز جنازہ پڑھائی اور بیٹھے رہے یہاں تک کہ تدفین سے فارغ ہوگئے،اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور گھوڑے پر سوار ہو کر چلنے لگے، جبکہ لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارد گرد چل رہے تھے۔

3204

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3204

Sahih

۔ (۳۲۰۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ فِی جَنَاَزَۃِ أَبِی الدَّحْدَاحِ وَہُوَ عَلٰی فَرَسٍ یَتَوَقَّصُ، وَنَحْنُ نَسْعَی حَوْلَہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) سیّدناجابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سیّدنا ابودحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے جنازہ میں شریک تھے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے، جو اچھلتا ہوا جا رہا تھا اور ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اردگرد دوڑرہے تھے۔

3205

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3205

Sahih

۔ (۳۲۰۵) عَنِ الْمُغِیْرَہِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلرَّاکِبُ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ وَالْمَاشِیْ حَیْثُ شَائَ مِنْہَا، وَالطِّفْلُ یُصَلّٰی عَلَیْہِ)) (مسند احمد: ۱۸۳۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل آدمی جہاں مرضی چلے اور بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔

3206

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3206

Sahih

۔ (۳۲۰۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلرَّاکِبُ خَلْفَ الْجَنَازَۃِ وَالْمَاشِی أَمَامَہَا قَرِیْبًا عَنْ یَمِیْنِہَا أَوْ عَنْ یَسَارِہَا، وَالسِّقْطُ یُصَلّٰی عَلَیْہِ وَیُدْعٰی لِوَالِدَیْہِ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سوارجنازے کے پیچھے چلے اور پیدل آدمی اس کے سامنے اور دائیں بائیں قریب قریب چل سکتا ہے اور نامکمل مردہ پیدا ہو جانے والے بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اس کے والدین کے لیے بخشش اور رحمت کی دعا کی جائے گی۔

3207

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3207

Sahih

۔ (۳۲۰۷) عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کَانَ یَمْشِی بَیْنَ یَدَی الْجَنَازَۃِ، وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَمْشِی بَیْنَ یَدَیْہَا وَ أَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ وَ عُثْمَانَ رضی اللہ عنہ۔ (مسند احمد: ۶۲۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سالم بن عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جنازے کے آگے آگے چلتے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیّدنا ابو بکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان بھی جنازے کے آگے آگے چلتے تھے۔

3208

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3208

Sahih

۔ (۳۲۰۸)(وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ رَأیٰ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبَا بَکْرٍ وَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَمْشُوْنَ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ۔ (مسند احمد: ۴۵۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

(دوسری سند) سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جنازے کے آگے آگے چلتے ہوئے دیکھا۔

3209

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3209

Sahih

۔ (۳۲۰۹) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ حُرَیْثٍ عَادَ الْحَسَنَ بْن عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما فَقَالَ لَہٗ عَلِیٌّ: أَتَعُوْدُ الْحَسَنَ وَفِی نَفْسِکَ مَا فِیْہَا؟ فَقَالَ لَہُ عَمْرٌو: إِنَّکَ لَسْتَ بِرَبِّی فَتَصْرِفَ قَلْبِی حَیْثُ شِئْتَ۔ قَالَ عَلِیٌّ: أَمَا إِنَّ ذَالِکَ لَا یَمْنَعُنَا أَنْ نُؤَدِّیَ إِلَیْکَ النَّصِیْحَۃَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ عَادَ أَخَاہُ إِلَّا اِبْتَعَثَ اللّٰہُ لَہُ سَبْعِیْنَ أَلْفَ مَلَکٍ یُصَلُّوْنَ عَلَیْہِ، مِنْ أَیِّ سَاعَاتِ النَّہَارِ کَانَ حَتّٰی یُمْسِیَ، وَمِنْ أَیِّ سَاعَاتِ اللَّیْلِ کَانَ حَتّٰی یُصْبِحَ۔))قَالَ لَہُ عَمْرٌو: کَیْفَ تَقُوْلُ فِی الْمَشْیِ مَعَ الْجَنَازَۃِ بَیْنَ یَدَیْہَا أَوْ خَلْفَہَا فَقَالَ عَلِیٌّ: إِنَّ فَضْلَ الْمَشْیِ مِنْ خَلْفِہَا عَلٰی بَیْنِ یَدَیْہَا کَفَضْلِ صَلَاۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ فِی جَمَاعَۃٍ عَلَی الْوَحْدَۃِ۔ قَالَ عَمْرٌو: فَاِنِّیْ رَاَیْتُ اَبَابَکْرٍ وَعُمَرَ F یَمِْشَیانِ أَمَامَ الْجَنَازَۃِ۔ قَالَ عَلِیٌّ: إِنَّہُمَا إِنَّمَا َرِہَا أَنْ یُحْرِجَا النَّاسَ۔ (مسند احمد: ۷۵۴)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن یسارکہتے ہیں: سیّدنا عمرو بن حریث ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیّدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عیادت کے لیے گئے، سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ حسن کی عیادت کے لیے آئے ہیں، جب کہ آپ کے دل میں ا ن کے خلاف جذبات ہیں۔ یہ سن کر سیّدناعمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ میرے رب نہیں کہ میرے دل کو جدھر چاہیں پھیر سکیں۔سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بہرحال یہ چیز آپ کو نصیحت کی بات کہنے سے مانع نہیں بن سکتی، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو مسلمان بھی اپنے کسی بھائی کی تیمارداری کے لیے جائے تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو اس کے لیے رحمت کی دعا کرنے کے لیے بھیجتا ہے، اگر یہ عمل دن کے کسی وقت میں ہو تو یہ فرشتے شام تک اور اگر رات کو ہو تو صبح تک دعا کرتے رہتے ہیں۔ پھر سیّدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: جنازہ کے آگے یا پیچھے چلنے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں، سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جنازہ کے پیچھے چلنے والے کو آگے چلنے والے پر اس طرح فوقیت حاصل ہے، جیسے باجماعت نماز پڑھنے والے کو اکیلے پڑھنے والے پر ہے۔ یہ سن کر سیّدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے تو سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو جنازہ کے آگے چلتے دیکھا ہے۔ سیّدناعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:چونکہ انہوں نے (ایک جہت میں ہی رہ کر) لوگوں کو مشقت میں ڈالنا اچھا نہ سمجھا، (اس لیے ایسے کیا تھا)۔

3210

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3210

Zaeef

۔ (۳۲۱۰) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: سَأَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمَسِیْرِ بِالْجَنَازَۃِ فَقَالَ: ((مَتْبُوْعَۃٌ وَلَیْسَتْ بِتَابِعَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۳۵۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جنازہ کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنازے کے پیچھے رہا جائے، اس کو اپنے پیچھے نہ کیا جائے۔

3211

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #3211

Zaeef

۔ (۳۲۱۱) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَتْبَعُ الْجَنَازَۃَ صَوْتٌ وَلَا نَارٌ وَلَا یُمْشَی بَیْنَ یَدَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہ آواز اور آگ کو جنازے کے پیچھے لگایا جائے اور نہ اس کے آگے چلا جائے۔